تعصب کی قیمت
اسپین یورپ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ وہ ہزاروں برس سے ایک انتہائی پسماندہ ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں عرب مسلمان اس ملک میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد پہلی بار اسپین کی ترقی شروع ہوئی۔ عربوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کے دوران اسپین نے غیر معمولی ترقی کی۔ حتٰی کہ یورپ کے اسی پسماندہ ملک سے یورپ کی جدید شاندار ترقیوں کا آغاز ہوا۔
مگر تعصب اندھا ہوتا ہے۔ عیسائیوں نے اپنی متعصبانہ ذہنیت کی بنا پر مسلمانوں کے کارناموں کااعتراف نہیں کیا۔ انہوں نے اسپین کی مسلم سلطنت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مسلمانوں کے باہمی اختلافات نے انہیں موقع دیا۔ یہاں تک کہ پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں اسپین سے مسلم سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ تین ملین مسلمان یا تو ملک سے نکال دیے گئے یا بے رحمی کے ساتھ مار ڈالے گئے (ہسٹری آف دی عربس، صفحہ 556)۔
The Moors were banished, for a while Christian Spain shone, Like the moon, with a borrowed Light, then came the eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. (Moors in Spain by Lane-Poole, p. 280)
اسپینی مسلمان ملک سے نکال دیے گئے ۔ عیسائی اسپین ایک لمحہ کے لیے چاند کی طرح غیر کی روشنی سے چمکا۔ پھراس پر گرہن آ گیا۔ اور اسپین اس وقت سے آج تک اسی تاریکی کی ذلت میں پڑا ہوا ہے۔ ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا کسی ملک میں جاناوہاں ترقی کا جانا تھا اور مسلمانوں کاوہاں سے نکلنا ترقی کا نکل جانا ۔ آج معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ دوسری طرف اسپین اور اس کے جیسے دوسرے ممالک کے لیے بھی اس میں سبق ہے۔ وہ یہ کہ تعصب بظاہر دوسرے کے خلاف کیا جاتا ہے۔ مگر اس کی سب سے بڑی قیمت خود اس قوم کو ادا کرنی پڑتی ہے جس نے تعصب کا معاملہ کیاتھا۔
