آفاقی حقیقت

اتباعِ صراط اور اتباعِ سُبل ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ دنیا کے معاملات میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت ہے۔ جتنی دین کے معاملات میں۔ دنیوی معاملات میں اس کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔

یہ مثال جاپان اور ہندستان سے متعلق ہے۔ جاپان اور ہندستان دونوں ملکوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے دور جدید کا آغاز کیا۔ جاپان نے امریکی محکومی میں مبتلا ہو کر اور ہندستان نے برطانی محکومی سے آزاد ہو کر۔ عجیب بات ہے کہ چالیس سال بعد آج جاپان انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ جب کہ ہندستان ابھی تک        ’’تیسری دنیا‘‘ کے دائرے سے باہر آنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

اس فرق کا سبب یہ ہے کہ جاپان نے جڑ کے مقام سے اپنی تعمیرِنَو کا آغاز کیا۔ اور ہندستان نے شاخوں اور پتیوں کے مقام سے۔ ایک امریکی عالم ولیم او یوچی (William Ouchi) کے الفاظ میں جاپان نے جس چیز کو نمبر ایک کی اہمیت دی وہ اپنے کارکنوں کے اندر داعیہ پیدا کرنا (motivation of the employees) تھا۔ اس مقصد کے لیے جاپان نے سب سے زیادہ زور نئی نسلوں کی سائنٹفک تعلیم پر دیا۔ اس نے اپنے بہترین وسائل اور بہترین دماغ ابتدائی تعلیم کے محاذ پر لگا دیے ۔ اس نے اپنی پوری جدید نسل کے اندر یہ شعور پیدا کر دیا کہ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت معیار (quality) کی ہے۔ اس کا نتیجہ جاپان میں زبردست صنعتی ترقی تھی۔ اس نے جدید تاریخ میں پہلی بار اپنی صنعتی پیداوار کو خالی از نقص (zero-defect) کے درجے تک پہنچا دیا— جاپان نے جڑ کے مسئلہ پر توجہ دی ، اس کے نتیجے میں اس کی جڑ بھی مضبوط ہوئی اور اس کی شاخیں بھی ہری بھری ہو گئیں۔

ہندستان کی تصویر اس کے بالکل برعکس صورت حال کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ 1947ء میں آزادی کے بعد جن ہندستانی لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آیا وہ حقیقت سے زیادہ ظواہر کو اہمیت دیتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے سب سے زیادہ جس چیز پر توجہ دی وہ شاندار عمارتیں کھڑی کرنا تھا۔ ہندستان کے حالات میں اصل کام کیریکٹر بلڈنگ کا تھا۔ مگر یہاں کے حکمرانوں نے سب سے زیادہ زور بھون بلڈنگ پر دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہندستان کے شہر ایسے قبرستان بن گئے ہیں جہاں عالیشان عمارتوں کے اندر انصاف اور انسانیت کو دفن کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ رشوت اور لوٹ اور بدعنوانی کی ایک وسیع دنیا ہے جس کا دوسرا نام ہندستان ہے۔ 1947ء کے بعد ہندستانی رہنماؤں نے اگر صحیح معنوں میں کیرکٹر بلڈنگ پر زور دیا ہوتا تو آج ہندستان جاپان اور چین سے آگے ہوتا۔ مگر جب انھوں نے بھون بلڈنگ پر زور دیا تو ان کے حصے میں صرف ایک ایسا ہندستان آیا جہاں کرپشن کی بھرمار نے ترقی کا امکان ہی سرے سے ختم کر دیا ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion