ایک عالم دین کی قربانی
1947ء کے بعد ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور راجستھان کے علاقہ میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کودوبارہ اس علاقہ میں جمانے کے لیے سب سے زیادہ جس نے کام کیا وہ بلاشبہ جمعیۃ علما ہند ہے۔
یہ کام کس طرح انجام دیا گیا، اس کی ایک مثال مولانا ممتاز احمد قاسمی ہیں ۔ 1963ء میں دارالعلوم سے فراغت کے بعد انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ طب کی تعلیم حاصل کریں ۔ چنانچہ وہ دہلی آ کر مولانا محمد میاں صاحب سے ملے۔ وہ چاہتے تھے کہ مولانا محمد میاں ان کے لیے حکیم عبدالحمید صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھ دیں تاکہ طبیہ کالج میں آسانی سے ان کا داخلہ ہو جائے۔ مولانا محمد میاں نے ان کی بات سننے کے بعد کہا کہ اگر تم میرا مشورہ مانو تو میں تم کو ایک اور زیادہ بہتر کام بتاتا ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ دیکھو، یہ ہماچل پردیش کے ایک گاؤں سے خط آیا ہے کہ یہاں ایک عالم بھیجیے۔ میری رائے ہے کہ تم وہاں چلے جاؤ۔
مولانا ممتاز احمد قاسمی اللہ کے بھروسہ پر روانہ ہوگئے۔ یہ شملہ کے قریب ایک گاؤں تھا۔ وہاں کی مسجد میں آ کر وہ مقیم ہوگئے۔ مگر شروع میں یہ حال تھا کہ اتنے مسلمان نہیں ملتے تھے کہ باجماعت نماز قائم ہو سکے۔ ایک روز جمعہ کا دن تھا۔ مسجد میں صرف دو آدمی تھے۔ تیسرے کی تلاش میں وہ باہر نکلے۔ ایک جاہل مسلمان گھاس کاگٹھر باندھ کر کھڑا ہوا تھا۔ مولانا ممتاز صاحب نے اس سے مسجد چلنے کے لیے کہا۔ اس نے کہاکہ تم مولویوں کو اور توکوئی کام نہیں ۔ پھر وہ بولا کہ اگر تم میرا یہ گھاس کا گٹھر اٹھالو تو میں تمہارے ساتھ مسجد چلنے کے لیے تیار ہوں ۔ مولانا ممتاز صاحب نے فوراً دونوں ہاتھوں سے گھاس کا گٹھر اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اب وہ دیہاتی مسلمان مسکرانے لگا اور مسجد میں آ کر نماز میں شریک ہوگیا۔ آج یہ گاؤں کافی ترقی کر چکا ہے۔ اب وہاں نہ صرف مدرسہ اور مسجد آباد ہیں ، بلکہ وہاں کے مسلمان تعلیم اور اقتصادیات میں بھی کافی آگے بڑھ چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد مولانا ممتاز صاحب شملہ منتقل ہوگئے۔ (شملہ کا سفر، اسفار ہند)
