ہجرتِ حبشہ
مکہ کے سرداروں کی مخالفت کے باوجود مکہ میں اسلام پھیل رہا تھا۔ روزانہ یہ خبر مشہور ہوتی کہ آج فلاں شخص نے اسلام قبول کر لیا ۔ یہ دیکھ کر مکہ کے سردار بہت برہم ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم مکہ چھوڑ کر کسی دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ لوگوں نے پوچھا کہ کہاں جائیں۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ حبشہ کی طرف۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ حبشہ میں ایک منصفبادشاہ ہے۔ اس کی مملکت میں کوئی شخص کسی کے اوپر ظلم نہیں کر سکتا۔ اس کے مطابق ، لوگوں نے مکہ سے نکلنا شروع کیا۔ رجب 5 نبوی میں مسلمانوں کا پہلا قافلہ حبشہ کے لیے روزانہ ہوا۔ اس میں 11 مرد اور 5 عورتیں تھیں۔
یہ لوگ چھپ کر خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ مکہ سے روانہ ہو کر جدہ کے ساحل پر پہنچے۔ یہاں دو تجارتی کشتیاں حبش جانے کے لیے تیار تھیں۔ وہ پانچ درہم کرایہ ادا کر کے اس پر سوار ہو گئے۔ مکہ کے لوگوں کو خبر ہوئی تو مسلمانوں کو پکڑنے کے لیے اپنے آدمی دوڑائے ۔ مگر یہ لوگ جب بندرگاہ پر پہنچے تو مسلمانوںکو لے کر کشتیاں وہاں سے روانہ ہو چکی تھیں۔ جلد ہی بعد مسلمانوں کا ایک اور قافلہ حبش کی طرف روانہ ہوا۔ دوسری ہجرت میں 86 مرد اور 17 عورتیں شامل تھیں۔
قریش نے جب دیکھا کہ مسلمان حبش پہنچ کر مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ وہاں ان کے اسلام پر کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تو انہوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا۔ طے ہوا کہ عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو تحفے اور ہدیے لے کر حبش بھیجا جائے۔ وہاں وہ ان کو حبش کے بادشاہ نجاشی کو دیں۔ اسی طرح دربار کے لوگوں اور بادشاہ کے مقربین کو بھی پہنچائیں اور ان کو اپنا ہم خیال بنائیں۔
اس فیصلہ کے مطابق ، عمر بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ دونوں حبش پہنچے۔ انہوں نے پہلے تمام درباریوں اور بادشاہ کے قریبی لوگوں کو تحفے دئیے اور ان سے گفتگو کر کے انہیں اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ بادشاہ کے سامنے ان کی تائید کریں۔ انہوں نے ان سے کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ اپنا آبائی دین چھوڑ کر تمہارے ملک میں پناہ گزیں ہو گئے ہیں۔ وہ نہ ہمارے دین پر ہیں اور نہ تمہارے (عیسائی) دین پر۔ بلکہ انہوں نے ایک نیا دین اختیار کیا ہے جس سے ہم اور تم دونوں واقف نہیں۔ ہماری قوم کے لوگوں نے ہم کو یہاں اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہم انہیں دوبارہ اپنے ملک میں واپس لے جائیں۔ آپ حضرات بادشاہ سے سفارش کریں کہ وہ ان لوگوں کو ہمارے سپرد کر دے۔
وہ لوگ راضی ہو گئے۔ اس کے بعد عمر بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ شاہ نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے حسب قاعدہ بادشاہ کے سامنے سجدہ کیا۔ اس کو تحفہ اور ہدیہ پیش کیا۔ اس کے بعد کہا کہ ہمارے کچھ لوگ بد دین ہو کر آپ کے ملک میں چلے آئے ہیں۔ ان کی قوم کے لوگوں نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم ان کو یہاں سے پاس لے جائیں۔ بادشاہ کے درباریوں نے حسب وعدہ ان کی تائید کی اور کہا کہ ان لوگوں کو ان کے سپرد کر دینا چاہئے۔
عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ چاہتے ہیں کہ بادشاہ مسلمانوں سے گفتگو کیے بغیر انہیں ان کے حوالے کر دے۔ جب انہوں نے یہ بات نجاشی سے کہی تو نجاشی کو غصہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ میں ان لوگوں سے بات کیے بغیر اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے اپنے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو اس کے دربار میں لے آئے۔
مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ نجاشی ایک عیسائی بادشاہ ہے ، پھر ہمیں اس سے کس ڈھنگ سے بات کرنا چاہیے۔ متفقہ طور پر یہ طے ہوا کہ ہم دربار میں وہی کہیں گے جو ہمارے نبی نے ہم کو سکھایا ہے۔ وہ دربار میں آئے تو انہوں نے بادشاہ کو صرف سلام کیا۔ شاہی رواج کے مطابق ، انہوں نے اس کو سجدہ نہیں کیا۔ مسلمانوں سے پوچھا گیا کہ تم لوگوں نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا۔ جعفر بن ابی طالب نے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے ۔ ہمارے رسول نے ہم کو یہی بتایا ہے۔ نجاشی نے پوچھا کہ عیسائیت اور بت پرستی کے سوا وہ کون سا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔ حضرت جعفر اٹھے اور دربار میں یہ تقریرکی:
اے بادشاہ ، ہم لوگ شرک پر تھے۔ ہم بتوں کو پوجتے تھے اور مردار کھاتے تھے اور پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے تھے۔ ہم حرام کو حلال کیے ہوئے تھے۔ اور ہمارا بعض ہمارے بعض کا خون بہاتا تھا۔ ہم نہ حلال کو جانتے تھے اور نہ حرام کو۔ پھر اللہ نے ہمارے پاس ہم میں سے ایک شخص کو نبی بنا کر بھیجا۔ ہم اس کی سچائی اور اس کی امانت داری کو جانتے تھے۔ اس نے بتایا کہ ہم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں۔ اور پڑوسیوں کی حمایت کریں۔ سچ بات بولیں۔ امانت ادا کریں۔ جھوٹ سے پرہیز کریں اور یتیم کا مال نہ کھائیں۔ اور اس نے ہم کو حکم دیا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں ، کسی اور کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ، اسی کے لیے روزہ رکھیں اور اسی کے لیے زکوٰۃ دیں۔ پھر ہم نے اس کی تصدیق کی اور جو کچھ وہ اللہ کی طرف سے لایا تھا اس کی پیروی اختیار کی۔ اس پر ہماری قوم نے ہم کو ستانا شروع کیا اور ہمارے ساتھ زیادتیاں کیں۔ انہوں نے چاہا کہ ہم دوبارہ چھوڑے ہوئے دین کی طرف واپس چلے جائیں۔ جب ہم ان کے ظلم سے تنگ آ گئے تو ہم اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آ گئے ، اس امید میں کہ آپ کے ملک میں ہمارے ساتھ ظلم نہ کیا جائے گا۔
حضرت جعفر کی اس گفتگو سے بادشاہ متاثر ہوا۔ اس نے کہا کہ تمہارے پیغمبر اللہ کی طرف سے جو کلام لائے ہیں اس کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔ حضرت جعفر نے سورہ مریم کا ابتدائی دو رکوع پڑھ کر سنایا۔ یہ رکوع حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ اس کو سن کر نجاشی کی آنکھ سے آنسو نکل آئے۔ حتی کہ روتے روتے اس کی داڑھی تر ہو گئی۔ نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلام جو مسیح لے کر آئے دونوں ایک ہی سرچشمہ سے نکلے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے قریشی کے وفد سے کہاکہ تم لوگ واپس جاؤ۔ میں ان لوگوں کو ہرگز تمہارے سپرد نہیں کروں گا۔
مکہ کے وفد نے اب بھی ہار نہیں مانی۔ اگلے دن وہ دوبارہ نجاشی کے دربار میں گئے اور اس نے کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بہت سخت بات کہتے ہیں۔ آپ ان کو بلا کر اس کی بابت دریافت کریں۔ نجاشی نے دوبارہ مسلمانوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا کہ ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی نے ہم کو بتایا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰؑ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ وہ خدا کی روح اور اس کا کلمہ تھے۔ نجاشی نے زمین پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا کہ خدا کی قسم، تم نے جوکچھ کہا ، حضرت عیسیٰؑ اس ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہ تھے۔ اس پر بادشاہ کے درباری کافی برہم ہوئے مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم امن کے ساتھ رہو۔ سونے کا پہاڑ لے کر بھی میں تم کو ستانا پسند نہیں کروں گا۔ اس نے حکم دیا کہ قریش کے تمام تحفے اور ہدیے واپس کر دئیے جائیں۔ دربار ختم ہوا تو مسلمان مسرت کے ساتھ باہر نکلے اور قریش کا وفد اس حال میں نکلا کہ ان کے چہروں پر ذلت اور شرمندگی چھائی ہوئی تھی۔
اس کے بعد مسلمان اطمینان کے ساتھ حبش میں مقیم رہے۔ جب رسول اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کی بیشتر تعداد اس خبر کو سن کر حبشہ سے مدینہ چلی آئی۔ بقیہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ 7ھ میں فتح خیبر کے وقت مدینہ پہنچے۔
روایات بتاتی ہیں کہ شاہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی۔ اس نے مسلمانوں کو گواہ بنا کر کلمہ پڑھا۔ مسلمان جب مدینہ واپس ہونے لگے تو اس نے ان کو سفر خرچ اور زادِراہ دیا اور کہا کہ اپنے پیغمبر کے پاس پہنچ کر ان سے کہنا کہ میری مغفرت کے لیے دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ فوراً اٹھے ۔ وضو کیا اور تین بار فرمایا کہ اے اللہ ، تو نجاشی کی مغفرت فرما (اللَّهُمُ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ ) مسندالبزار، حدیث نمبر 1328۔
مسلمان جب تک حبش میں رہے وہ عزت اور امن کے ساتھ وہاں رہے۔ نجاشی ان کی خبرگیری بھی کرتا رہتا تھا۔ ایک بار نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر پوچھا کہ کیا یہاں کوئی تم کو ستاتا ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہاں۔ نجاشی نے حکم دیا کہ جو شخص کسی مسلمان کو ستائے ، اس سے چار درہم تاوان لے کر اس مسلمان کو دیا جائے۔ پھر نجاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا یہ کافی ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے تاوان کی رقم آٹھ درہم کر دی اور اس کے مطابق لوگوں کے درمیان منادی کے ذریعہ اعلان کرایا۔
مسلمان نجاشی کے اس ملک میں اس کے خیر خواہ بن کر رہے۔ اس زمانہ میں نجاشی کے ملک پر اس کے ایک دشمن نے حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کو اس واقعہ پر بہت رنج ہوا۔ وہ نجاشی کی کامیابی اور دشمن پر اس کے غلبہ کی دعائیں کرتے رہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ نجاشی کو اپنے دشمن پر فتح حاصل ہوئی تو وہ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
