ادنٰی سے اعلیٰ
ایک درخت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ ادنی کو اعلیٰ بنا سکتا ہے ۔ وہ جامد مادہ کو نمو پذیر شے میں تبدیل کرتا ہے ۔ وہ باہر سے مٹی اور پانی اور گیس لیتا ہے اور اس کو پتی اور پھول اور پھل کی صورت میں سامنے لے آتا ہے ۔ اسی طرح کسی انسانی سماج کے بہتر سماج ہونے کا دارومدار تمام تر اس پر ہے کہ اس کے افراد یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ ادنی سلوک کو اعلیٰ سلوک میں تبدیل کر سکیں ۔
اس معاملہ میں انسان کے نفسیاتی وجود کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ بنانے والے نے اس کے حیاتیاتی وجود کو بنایا ہے ۔ انسان جو چیزیں کھاتا ہے ان میں ایک جزء شکر کا ہوتا ہے ۔ شکر اپنی ابتدائی صورت میں انسان کے لیے بے فائدہ ہے ۔ چنانچہ انسان کے جسم میں پینکر یاز (pancreas) کا نظام رکھا گیا ہے جس کا عمل سادہ طور پر یہ ہے کہ وہ شکر کو انرجی (طاقت ) میں تبدیل کرتا ہے ۔ اسی تبدیلی کی صلاحیت پر انسان کی طاقت اور صحت کا انحصار ہے ۔ جس آدمی کے جسم کا یہ سسٹم بگڑ جائے ، اس کے اندر داخل ہونے والی شکر انرجی میں تبدیل نہیں ہو گی۔ وہ یا تو خون میں شامل ہو جائے گی یا پیشاب کے راستہ سے باہر آنے لگے گی ۔ اس کے بعد انسان بے حد کمزور ہو جائے گا۔ اسی سے وہ مہلک بیماری پیدا ہوتی ہے جس کو ذیابطیس (diabetes) کہا جاتا ہے ۔
اگر ایک آدمی ذیابیطس کا مریض (diabetic)ہو جائے ۔ یعنی اس کا جسمانی نظام شکر کو انرجی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دے تو زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی ۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بے کچھ ہو جائے گا۔ اسی طرح جو سماج اس مزاج سے خالی ہو جائے ۔ یعنی اس کے افراد ادنی سلوک کو اعلیٰ سلوک میں ڈھالنے کا ثبوت نہ دے سکیں ، ایسا سماج ایک بیمار سماج ہے ۔ ایسے سماج کو درست کرنے کی کوئی بھی تدبیر اس کے سوا نہیں کہ اس کے اندر دوبارہ یہ اعلیٰ صلاحیت پیدا کی جائے ۔
آج کل ہمارے سماج میں جو بگاڑ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے درمیان تہذیبی فرق ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار ڈائبٹک ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ ’’شکر ‘‘ کو ’’انرجی‘‘ میں تبدیل کر سکیں۔ وہ بے طاقت کو اپنے لیے طاقت بنا لیں ۔
سماجی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ نا خوش گوار تجربات پیش آتے ہیں ۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا جاتا ہے ۔ ایک شخص ایسے الفاظ بولتا ہے جس کو سُن کر دوسرا شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی ذاتی یا قومی حیثیت پر چوٹ کر رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات سماجی زندگی میں لازماً پیش آتے ہیں اور پیش آتے رہیں گے۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ایسے واقعات کی پیدائش کو روک دیں۔ ہمارے لیے جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات سے منفی اثر نہ لیں۔
ایک تندرست آدمی اپنے اندر داخل ہونے والی شکر کو انرجی میں تبدیل کرتا ہے ۔ یہی تبدیلی کا عمل نفسیاتی طور پر بھی مطلوب ہے۔ اس دنیا میں بہتر سماجی زندگی بنانے کا راز صرف یہ ہے کہ لوگوں کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ نا خوشگوار واقعہ کو خوشگوار تاثیر میں تبدیل کرسکیں۔ وہ غصہ کے جواب میں معافی پیش کریں اور برائی کرنے والوں کو اچھے سلوک کا تحفہ دیں۔
موجودہ سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار سے ڈائبٹک ہو گئے ہیں ۔ ان کی اس نفسیاتی بیماری کا علاج کیجیے، اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جو سماج باہمی اختلافات کا گہوار ہ بنا ہوا تھا وہ متنوع قسم کے پودوں اور درختوں کا خوشنما باغ بن گیا ہے ۔
