باشعور افراد
عبداللہ بن اُبی قدیم مدینہ کا سب سے بڑا سردار تھا۔ حتٰی کہ مدینہ کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اُس کو اپنا بادشاہ بنا لیں۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آ گئے تو آپ ہی کو مدینہ کے لوگوں نے بڑا مان لیا۔ مدینہ میں ابتداءً مہاجرین اقلیت میں تھے۔ مگر مختلف مقامات سے لوگ ہجرت کر کے آتے رہے، یہاں تک کہ مدینہ میں ابتداء ً مہاجرین کی اکثریت ہو گئی اور انصار اقلیت میں ہو گئے جن کا عبداللہ بن ابی سردار چلا آرہا تھا (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 370)۔
ان باتوں کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین سے سخت بغض ہو گیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح آپ ؐ کو اور مہاجرین کو مطعون کرتا اور انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتا۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوۂ بنی المصطلق میں عبداللہ بن اُبی اپنے قبیلہ کے بہت سے لوگوں کے ساتھ تھا۔ راستہ میں ایک واقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے خلاف دشنام طرازی کی۔ اپنے قبیلہ کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ کے عزت والے لوگ ہیں۔ اگر ہم مدینہ پہنچ جائیں تو ہم لوگ اپنے شہر سے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے (63:8)۔
یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ قافلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت ایک نہایت غیر معمولی واقعہ ہوا جو راوی کے الفاظ میں یہ تھا:
أَنَّ ابْنَهُ عَبْدَ اللهِ، رضي الله عنه، وَقَفَ لِأَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ عِنْدَ مَضِيقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ:قِفْ، فَوَاللهِ لَا تَدْخُلْهَا حَتَّى يَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ. فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَأْذَنَهُ فِي ذَلِكَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَأَرْسَلَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةِ (البداية والنهاية، جلد6، صفحہ188)۔
اس کے لڑ کے عبداللہؓ اپنے باپ عبداللہ بن اُبی بن سلول کے لیے مدینہ کے دروازہ پرکھڑے ہو گئے۔ عبداللہ بن اُبی وہاں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ٹھہرو، خدا کی قسم تم شہر میں داخل نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو عبداللہ بن اُبی نے آپ سے اجازت مانگی ۔ آپ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس کے بعد عبداللہ نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں داخل ہو گیا۔
واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام اتنے دانش مند لوگ تھے کہ وہ بتائے بغیر باتوںکو جان لیتے تھے۔ حضرت عبداللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تھا۔ انہوں نے بطور خود یہ جان لیا کہ اس موقع پر انہیں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ اس وقت موزوں ترین بات یہ تھی کہ عبداللہ بن اُبی کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے کہ اب مدینہ کے بڑے تم نہیں ہو، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے بڑے اور مدینہ کے سردار ہیں۔ حضرت عبداللہ نے اس بات کے مظاہرہ کا انتہائی بروقت اور صحیح طریقہ اختیار کیا۔ اس کام کو کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ عبداللہ بن ابی کا بیٹا اسے انجام دے۔ حضرت عبداللہ نے اس حقیقت کو سمجھا اور عین وقت پر وہ مطلوبہ کردار ادا کیا جو اس موقع پر انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ کسی مشن کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس کو باشعور افراد کی ایک ٹیم مل جائے، اس طرح کی باصلاحیت ٹیم کے بغیر کوئی بھی مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس ٹیم کے افراد میں دو صفت لازمی طور پر ہونا چاہیے۔ ایک یہ کہ اس کا ہر فرد اطاعت گزار ہو اس سے جو کچھ کہا جائے وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کرے۔ وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے، خواہ وہ ذاتی عذر ہو یا خارجی عذر۔ دوسری صفت یہ ہے کہ اس ٹیم کے افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ کہے بغیر باتوں کو جان لیں۔ وہ بتائے بغیر صورتحال کو سمجھ لیں۔
اس دوسری صفت کی اہمیت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بہت سی باتیں بتائی نہیں جاسکتیں۔ جب مشن پھیلتا ہے اور نئے نئے تقاضے سامنے آتے ہیں تو یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو ساری ضروری باتیں بتا دی جائیں۔ ایسے وقت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنی عقل سے باتوں کی گہرائی کو سمجھے ، وہ خود ہر موقع پر اس کے موافق ضروری اقدام کر سکے ۔
کوئی بھی دوسری چیز اس شعوری پختگی کا بدل نہیں بن سکتی۔
