خسرو پرویز کے نام خط

قیصر روم کی طرح رسول اللہ نے کسریٰ شاہ فارس کے نام بھی اپنا دعوتی خط’عظیم فارس‘ کے لقب کے ساتھ روانہ فرمایا۔ اس خط کو پہنچانے والے عبداللہ بن حذافہ سہمی تھے۔

 ہر قل کے برعکس خسرو پرویز نے انتہائی مخالفانہ ردعمل کا اظہار کیا۔ غصہ میں آ کر اس نے خط کو چاک کر ڈالا اور کہا کہ یہ شخص مجھ کو خط لکھتا ہے حالانکہ یہ میرا غلام ہے۔نیز غصے سے خط کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ چند دنوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ خسرو کواس کی بیٹے شیرویہ نے قتل کر ڈالا۔

 اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درجنوں بادشاہوں اور امیروں کے نام خطوط لکھے جن میں سے بعض نے آپ کے خط کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور بعض نے عناد کا رویہ اپنایا۔ بعضوں نے (مثلاً مقوقس) اقرار کیا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں لیکن ایمان قبول نہیں کیا۔ جب کہ بعض وہ تھے جنہوں نے آپ کے خط کو پاکر مسرت کا اظہار کیا اور ایمان لائے(مثلاً نجاشی شاہ حبشہ)۔

جن مشاہیر کے نام آپ نے خطوط روانہ فرمائے ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں:

بادشاہ

ملک

ہرقل

شاہ روم

خسرو پرویز

شاہ فارس

نجاشی

شاہ حبشہ

مقوقس

شاہ مصر

منذرابن ساویٰ

شاہ بحرین

عبدوجیفر

شاہان عمان

ہوذہ بن عل

رئیس یمامہ

حارث غسانی

امیر دمشق

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion