ماضی اور حال
اسکاٹ لینڈ کا ایک نوجوان اپنے ملک سے نکل کر 1217ء میں اسپین آیا۔ اس کا نام مائیکل (Michael) تھا۔ اس کا مقصد طلیطلہ اور قرطبہ کے عرب علمی مراکز میں تعلیم حاصل کرنا تھا۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ لاتینی یورپی کو ارسطو سے واقف کرائے۔ یونانی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اصل یونانی متن سے اس کا ترجمہ نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنا لاتینی ترجمہ عربی ترجمہ کی مدد سے کیا۔ اسپین کے قیام کے دوران وہ عربی زبان بخوبی سیکھ چکا تھا۔
1231ء میں سلرنو (سسلی) میں پہلا طبی کالج کھولا گیا۔ اس طبی کالج کے نصاب کے لیے ڈنمارک کے ہنڈرک (Hendrink Harpestraeng) نے سات جلدوں میں ایک کتاب تیار کی تھی، جو اب بھی اسٹاک ہام کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ہے۔ ہنڈرک کا ماخذ بھی مذکورہ مائیکل کا وہی ترجمہ تھا جو اس نے الرازی اور ابن سینا کی طبی کتابوں کا عربی سے لاتینی زبان میں کیا تھا۔
جارج سارٹن (George Sarton) نے پانچ جلدوں میں سائنس کی تاریخ (History of Science) لکھی ہے۔ اس نے سائنس کی تاریخ کو چند ادوار پر تقسیم کیا ہے۔ اس کی تقسیم کے مطابق ہر دور نصف صدی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر نصف صدی کے دور کو وہ ایک مرکزی شخصیت سے متعلق قرار دیتا ہے۔ اس طرح 450 تا 400 قبل مسیح کوسلارٹن افلاطون کا دور قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد کے ادوار کو وہ ارسطو اقلیدس اور ارشمیدس کا دور کہتا ہے، وغیرہ۔ پھر 600 سے لے کر 700ء تک کے زمانہ کو اس نے چینی علما کا دور قرار دیا ہے۔ اس کے بعد 750 سے لے کر 1100ء تک اس کی تقسیم کے مطابق مسلسل جابر، خوارزمی، رازی، مسعودی، بیرونی، ابن سینا، ابن الہیثم اور عمر خیام کا دور ہے۔ یہ سب کے سب عرب، ترک، افغانی اور ایرانی مسلمان تھے۔ سارٹن کے نزدیک تاریخ سائنس میں ساڑھے تین سو سال تک بلاانقطاع صرف مسلم سائنس دانوں کا دور رہا ہے۔ جارج سارٹن کی تقسیم کے مطابق 1100ء کے بعد پہلی بار مغربی اشخاص کا نام سائنس کی دنیا میں آنا شروع ہوتا ہے۔ مثلاً گیرارڈ، راجر بیکن۔ تاہم اس کے بعد بھی 250 سال تک ابن رشد، نصیرالدین طوسی اورابن نفیس کا ذہنی غلبہ یورپ پر قائم رہا۔ ابن نفیس وہ شخص ہے جس نے پہلی بار جسم کے اندر دوران خون کاامکان ظاہر کیا تھا، بعد کو ہاروے نے اسے دریافت کیا۔ اس طرح گویا سائنس کی تاریخ میں مسلسل چھ سو سال ایسے ہیں جب کہ مسلمانوں کو دنیا کی علمی قیادت حاصل رہی ہے۔
1350 کے بعد مسلم دنیا نے اپنا علمی برتری کا مقام کھو دیا۔ تیمور کے پوتے الغ بیگ کے سمرقند کے دربار میں 1437 میں اور مغل شہنشاہ دہلی کے دربار میں 1720 میں کچھ علمی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر مسلم دنیا کا علمی زوال بدستور جاری رہا۔ اس کے لیے دوبارہ اپنے ماضی کی طرف واپس جانا ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانہ میں تاریخ کے پہیہ نے الٹے رخ پر سفر شروع کیا ہے۔ پہلے مغرب کے لوگ مسلم دنیا میں علم سیکھنے کے لیے آتے تھے ، اب مسلمان علم سیکھنے کے لیے مغربی دنیا میں جا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ زمانہ میں مسلمان مغرب کے تہذیبی مقلد تو بنے ہیں، وہ ان کے علمی ہم سرا بھی تک نہ ہو سکے ۔
نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے 10 نومبر 1980ء کو یونیسکو کے زیر انتظام بلگریڈ کے اجتماع میں تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے ایک واقعہ بتایا۔ کسی مغربی سائنس داں سے گفتگو کے دوران انہوں نے شکایت کی کہ مغربی ممالک مسلم ممالک کی سائنسی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کافی مدد نہیں کرتے۔ مغربی سائنسداں نے اس کے جواب میں کہا: سلام، کیا واقعتاً تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قوموں کو سنبھالیں۔ ان کو مدد دیں، انہیں زندہ رکھیں جنھوں نے انسان کے علمی خزانہ میں ایک ذرہ برابر بھی کوئی تخلیق یا اضافہ نہیں کیا ہے:
Salam, do you really think we have an obligation to succour, aid and keep alive those nation, who have never created or added an iota to man’s stock of knowledge.
ڈاکٹر عبدالسلام اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے دل کو اس وقت شدید جھٹکا لگتا ہے، جب میں جدید طرز کے ایک اسپتال میں داخل ہوتاہوں، اور دیکھتا ہوں کہ پنسلین سے لے کر زندگی کو بچانے والے دوسرے طبی سامان جو وہاں ہیں، ان میں سے کسی چیز کی دریافت یا ترقی میں مسلمانوں کاکوئی حصہ نہیں۔ جب صورت حال یہ ہو تو ہم کسی طرح یہ امید نہیں کر سکتے کہ دوسروں کی مدد ہمیں جدید دنیا کی ترقی یافتہ قوم بنا سکتی ہے۔ جو قوم دنیا کو کچھ نہ د ے رہی ہو اس کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہیے کہ دنیا اسے کوئی چیز دے گی۔
مسلم قوموں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود اپنی کوشش سے آگے بڑھیں۔ عربوں کی بے پناہ دولت بھی اس معاملہ میں ذاتی کوشش کا بدل نہیں بن سکتی۔ آج مسلم ممالک بڑے پیمانہ پر مشینیں اور ہتھیار مغربی ممالک سے درآمد کر رہے ہیں، مگر اس قسم کی مشینی درآمد ان کے اصل مسئلہ کا حل نہیں۔ کیوں کہ اس سے پہلے فنی بنیاد (Technical Base) کی ضرورت ہے، اور وہ کسی مسلم ملک کے پاس موجود نہیں۔ ایک سائنس داں نے بجا طور پر کہاہے کہ تمام بنیادی علوم ایک دوسرے سے متعلق علوم ہیں:
All basic science is relevant science
حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم میں دستگاہ حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے، نہ کہ محض چند علوم میں ۔
