اصلاح کی طرف
صلیبی لڑائیاں (crusades) ان جنگی مہموں کو کہا جاتا ہے جو مغربی یورپ کی مسیحی حکومتوں نے مسلم حکومتوں کے خلاف جاری کیں۔ اس سلسلے کی پہلی مہم 1095ء میں شروع ہوئی۔ اور 1271قء تک وقفہ وقفہ سے جاری رہی۔ ان جنگی مہموں کا مقصد مقدس یروشلم کو بددینوں (مسلمانوں) کے قبضے سے نکالنا تھا۔ مگر مسیحی طاقتوں کو اپنی اس مہم میں مکمل ناکامی ہوئی۔
ایچ جی ویلز نے اپنی کتاب (The Outline of History) میں لکھا ہے کہ پہلی صلیبی مہم کے وقت یورپ کے مسیحیوں میں بڑا جوش و خروش تھا۔ مگر تیرہویں صدی کے آخر میں جب انہیں مکمل شکست ہوئی تو اس کے بعد کسی نئی صلیبی جنگ چھیڑنے کے لیے مسیحی قوموں کے حوصلے بالکل ختم ہو گئے۔ اس کے بعد یہ حال ہوا کہ اگر کوئی شخص نئی صلیبی مہم کا نام لیتا تو ایک عام شہری تعجب سے کہہ اٹھتا کیا، ایک اور صلیبی جنگ:
‘‘What! another crusade!’’ (p. 673)
تیرہویں صدی کے آخر میں یورپ کی مسیحی قوموں پر مسلمانوں کا ایسا رعب چھا گیا تھاکہ وہ مزید کوئی صلیبی مہم شروع کرنے کو تعجب خیز حد تک ناقابل عمل سمجھتے تھے۔ مگر ساڑھے چھ سو سال بعد پہلی عالمی جنگ میں صورت حال بالکل بدل چکی تھی۔ برٹش کمانڈر اَلِنۡبی (E.H.H. Allenby) فتح کرتا ہوا 9 دسمبر 1917ء کو یروشلم میں داخل ہو گیا۔ اس نے بیت المقدس کے اندر کھڑے ہو کر کہا کہ آج صلیبی جنگیں ختم ہو گئیں:
دوسری طرف فرنچ جنرل ہنری گورو (Henri Gouraud) نے شام کو فتح کر لیا۔ 1920ء میں وہ فاتحانہ طور پر دمشق میں داخل ہو گیا۔ اس نے صلاح الدین ایوبی کی قبر پر پاؤں رکھ کر کہا کہ صلاح الدین ، دیکھو آخر کار ہم واپس آ گئے:
‘‘Saladin, we have returned’’
یہ صورت حال تادمِ تحریر بدستور باقی ہے۔ اس دوران بے شمار ہنگامہ خیز کوششیں ہوئی ہیں۔ ان کوششوں میں بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا ہے ، مگر اصل صورت حال میں اب تک کوئی تبدیلی نہ ہو سکی۔ صلیبی مقابلہ جو تیرہویں صدی میں مسلمانوں کے حق میں ختم ہوا تھا ، وہ بیسویں صدی میں بظاہر مسیحیوں کے حق میں ختم ہو چکا ہے۔
پچھلے 70 سال کے دوران بار بار یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں مسلمان اس قدر غالب تھے، اور بیسویں صدی میں وہ اتنے زیادہ مغلوب ہو گئے۔ اس کے جواب میں تقریروں اور مضامین اورکتابوں کا ایک ناقابل شمار انبار جمع ہو چکا ہے۔مگر ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ انکشاف کر رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے،اور انہیں سازشوں نے مسلمانوں کو ناکام بنا رکھا ہے۔
یہ توجیہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ’’تیرھویں صدی‘‘ میں وہ تمام سازشیں مزید شدت کے ساتھ جاری تھیں جن کا حوالہ آج مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ماضی کے مسلمانوں کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے، یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے کی طرف سے چیلنج پیش آتا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک قوم کے خلاف دوسری قوم سازشیں کرتی ہے۔
یہ صورت حال ابتداءِ انسانیت کے ہابیل و قابیل سے جاری ہے ، اور آخر انسانیت کے مسیح اور دجال تک جاری رہے گی ، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اس دنیا میں مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنی پڑتی ہے۔ جو لوگ اس ’’باوجود‘‘ کے چیلنج کا سامنا کر سکیں ، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں میں اس ’’باوجود‘‘ کے چیلنج کا سامنا کرنے کی طاقت نہ ہو ، ان کے لیے اس دنیا میں جو چیز مقدر ہے وہ صرف یہ کہ وہ لفظی شکایت اور احتجاج کا جھوٹا طوفان اٹھائیں اور بالآخر صفحۂ ہستی سے مٹ کر رہ جائیں۔
’’کیا وجہ ہے کہ مسلمان تیرھویں صدی میں غالب تھے اور بیسویں صدی میں وہ مغلوب ہیں ‘‘ یہ جملہ جو پچھلے 70 سال سے بار بار دہرایا جا رہا ہے ، وہ خود بنیادی طور پر غلط ہے۔ کیوں کہ وہ ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ اس جملےمیں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ تیرھویں صدی میں جو مسلمان تھے ، وہی مسلمان آج بھی ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مسلمان پچھلے مسلمانوں کی بعد کی اولادیں ہیں۔ وہ اسلاف تھے اور یہ اخلاف ہیں۔ موجودہ مسلمان زیادہ صحیح طور پر قرآن کی اِن آیتوں کا مصداق ہیں:
- ’’پھر ان کے بعد ناخلف لوگ آئے جو کتابِ الٰہی کے وارث بنے۔ وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو وہ اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔ اور انہوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لیے ، کیا تم سمجھتے نہیں۔ اور جو لوگ خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ، بے شک ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے ۔ (7:169-170) ‘‘
- ’’پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشوں کا اتباع کیا۔ پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔ البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ (19:59-60) ‘‘
- ’’کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔ (57:16-17) ‘‘
ان آیتوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر جب لمبی مدت گزر جاتی ہے، تو ان کے افراد میں قساوت (بے حِسی) آ جاتی ہے۔ وہ دین کی حقیقت کھو دیتے ہیں۔ ان کے اسلاف اگر حقائق پر جینے والے تھے ، تو ان کی بعد کی نسلیں خوش فہمیوں کی بنیاد پر زندہ ہوتی ہیں۔ یہ بعد کے لوگ شکلِ دین کے اعتبار سے زندہ نظر آتے ہیں ، مگر وہ روحِ دین کے اعتبار سے مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔
اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد ’’مصلحینِ امت‘‘ کو کیا کرنا چاہیے، اس کو ایک تمثیل کے ذریعے بتایا گیا ہے۔ یہ زمین کی تمثیل ہے۔ زمین اگر مردہ اور بنجر ہو گئی ہو تو کسان کیاکرتا ہے۔ کسان یہ نہیں کرتاکہ جس حالت میں بھی وہ زمین ہے، اسی حالت میں لا کر وہاں دانہ بکھیر دے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس طرح دانہ بکھیر دینے سے یہاں فصل نہیں اگے گی۔ کسان ایسی زمین کے لیے پانی کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کو جوتتا ہے۔ اس کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرتا ہے۔ اس میں کھاد ڈالتا ہے۔ اس طرح جب زمین تیار ہو جاتی ہے، تو وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ ا س کے بعد نتیجہ سامنے آتا ہے اور جہاں پہلے سوکھی زمین تھی، وہاں لہلہاتی ہوئی فصل نظر آنے لگتی ہے۔
یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو ’’طولِ امد‘‘ کے نتیجے میں مردہ ہو گئی ہو۔ ایسی قوم میں اصلاح کا کام صرف بیج ڈال کر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ زمین تیارکرنے سے وہاں اصلاحی کام کا آغاز کرنا ہو گا۔ کسی مردہ قوم کا حال اگر بظاہر مایوس کن ہو تو اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ خدا کی دنیا میں زمین جس طرح مردہ سے زندہ ہو جاتی ہے، اسی طرح یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ بے جان قوم دوبارہ ایک جاندار قوم بن جائے۔ بشرطیکہ اس کے اوپر وہ کام کیا جائے جو ایک بے جان قوم کو جاندار بنانے کے لیے کرنا ضروری ہے۔
موجودہ زمانےکے مسلمانوں کا اصل معاملہ یہ تھا کہ وہ طولِ امد کے نتیجے میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ ان کی حیثیت اب ایک مردہ زمین کی ہو چکی تھی۔ اس صورتِ حال کا تقاضا تھاکہ مسلمانوں کے درمیان کام کا آغاز ’’اصلاح‘‘ سے کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانے میں اٹھنے والے تمام رہنماؤں نے اس کے بجائے یہ کیا کہ کام کا آغاز ’’اقدام‘‘ سے کیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے بنجرزمین میں زراعت کا آغاز پودا لگانے سے کیا جائے۔ چنانچہ مسلم رہنماؤں کی تمام ہنگامہ خیز تحریکیں مکمل طور پر ناکامی و بربادی پر ختم ہو کررہ گئیں۔
موجودہ زمانےمیں اصلاح ِامت کے لیے جو کام مطلوب ہے وہ بیک وقت گہری دانائی بھی چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ مستقل عمل بھی۔ اس کام کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔
1۔پہلا کام تجدید ایمان ہے۔ تجدید ایمان سے مراد ادائیگی کلمہ کی تصحیح نہیں ہے ، بلکہ کلمہ کی بنیاد پر ایک مکمل شعوری انقلاب ہے۔ موجودہ مسلمان جو صرف ’’کلمہ گو‘‘ مسلمان ہیں، انہیں اس سے اٹھا کر ’’کلمہ فہم‘‘ مسلمان بنانا ہے۔ ان کا ایمان جو الفاظ کی سطح پر ٹھہر گیا ہے ، اس کو معانی کی سطح پر پہنچانا ہے۔
2۔ یہ کام لازماً تنقید کے اسلوب میں کام کرنا ہو گا۔ مثلاً جو لوگ ’’اکابر‘‘ کی سطح پر اٹکے ہوئے ہیں، انہیں خدا کی سطح پر پہنچانا ہو گا۔ جو لوگ اسلام اور غیر اسلام دونوں کو اپنے ذہن میں جمع کیے ہوئے ہیں ، انہیں اسلام کے لیے یکسو کرنا ہو گا۔ جو لوگ صحیح اور غلط کی تمیز سے محروم ہیں، ان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کرنا ہو گی۔ جن لوگوں کا اسلام برف کی طرح جامد ہو چکا ہے ، اس کو توڑ کر اس کو رواں سیلاب بنانا ہو گا۔ یہ تمام کام تنقید کے طالب ہیں۔ ان میں سے کوئی کام بھی تنقید کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک تنقید نہ کی جائے ، ذہنوں میں ہلچل پیدا نہیں ہوتی۔ ’’ایک ‘‘ کو چھوڑنے اور ’’دوسرے‘‘ کو اختیار کرنے کا مرحلہ نہیں آتا۔ اسلام وہی ہے جو آدمی کو ذاتی دریافت کے طور پر ملے ، اور ذاتی دریافت والا اسلام تنقیدی انداز ِدعوت کے بغیر کسی کو ملنا ممکن نہیں۔
3۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمانوں کو ا ن نام نہاد سرگرمیوں سے ہٹایا جائے جو الٹی ذہنی تربیت کرنے والی ہیں۔ جو آدمی کو جذباتی بناتی ہیں۔ جو آدمی کو حقیقت پسندی سے دور کر دیتی ہیں۔ جو قدیم ذہن کو بدستور پختہ کرتی چلی جاتی ہیں۔ جو آدمی کو خوش عقیدگی کے خول سے باہر نکلنے نہیں دیتیں۔ یہ کام بھی بہرحال کرنا ہو گا خواہ ابتداء ً اس تحریک کے گرد عوام کی بھیڑ جمع نہ ہو سکے۔
4۔ مسلمانوں کے ایمان کو اگر شعوری انقلاب کے مرحلے تک پہنچانا ہے تو ان کو ان سرگرمیوں سے روکنا ہو گا جن کو وہ محض بے شعوری کے تحت جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً دوسری قوموں سے قومی ، سیاسی اور مادی لڑائی ۔ جلسہ جلوس کی دھوم ، اسلام کے نام پر جشن کے ہنگامے برپا کرنا۔ اپنے مسائل کو اپنی کوتاہی کے خانےمیں ڈالنے کے بجائے دوسروں کی سازش اور ظلم کے خانے میں ڈالنا۔ مسلمانوں کو جب تک ان غیر حقیقی سرگرمیوں سے روکا نہ جائے ، ان کے اندر کوئی حقیقی مزاج پیدا ہونا ممکن نہیں۔
5۔ وہ چیز جس کو ’’عملی پروگرام‘‘ یا عملی اقدام کہا جاتا ہے ، وہ اپنے وقت پر ضروری اور مفید ہے ، مگر وقت سے پہلے ، جب کہ ابھی تحریک ابتدائی فکری مرحلے میں ہو، ایسا کوئی اقدام صرف نقصان اور ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔
مثلاً آج کل ہر سطحی لیڈر ایک جذباتی اشو پر مسلمانوں کو جمع کرتا ہے اور ان کا جلوس نکالتا ہے۔ اگر اس کو اس فعل عبث سے منع کیا جائے تو وہ کہے گا کہ یہ جمہوریت کا زمانہ ہے۔ اور جمہوریت کے نظام میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ مگر یہ جواب احمقانہ حد تک لغو ہے۔ اس کی غلطی اس وقت واضح ہو جاتی ہے جب کہ مسلمانوں کا جلوس کچھ دور چلنے کے بعد عوام سے یا پولیس سے لڑ جاتا ہے اور تشدد پر اتر آتا ہے۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کا جلوس نکالنا غلط تھا۔ کیوں کہ جمہوریت کے نظام میں پُرامن مظاہرہ عوام کا حق ہے ، مگر متشدد (پُرتشدد)مظاہرہ ایک قانونی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہاں سطحی لیڈر دوبارہ کہہ دے گا کہ مسلمانوں کا تشدد بطور ردّعمل تھا۔ مگر یہ جواب دوبارہ صرف لیڈر کی جہالت کا ثبوت ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ اشتعال کے اسباب پیش آتے ہیں۔ اس قسم کے اسباب سے کوئی ملک یا کوئی سماج کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس دنیا میں ’’مظاہرہ‘‘ صرف ان لوگوں کے کرنے کا کام ہے جو اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ جو تشدد کے اسباب پیش آنے کے باوجود پُر امن بنے رہیں۔ چونکہ موجودہ مسلمان ابھی اس شعوری سطح پر نہیں ہیں ، اس لیے ان کو مظاہرے کی سیاست میں استعمال کرنے کا وقت بھی ابھی نہیں آیا۔
