دشمن سےٹکراؤنہیں

پیغمبراسلام ﷺ نے فرمایا:لَا ‌تَتَمَنَّوْا ‌لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6810)۔ یعنی، دشمن سےمدبھیڑکی تمنانہ کرو،تم اللہ سےامن مانگو۔ اس کامطلب یہ ہےکہ کوئی شخص اگرتمہارادشمن بن جائےتوایسانہ کروکہ تم بھی اس کے دشمن بن کراس سےلڑناشروع کردو۔بلکہ فریق ثانی کی دشمنی کےباوجودتم اس کےساتھ اعراض کاطریقہ اختیارکرو۔ دشمنی کےحالات کےباوجودتمہاراطریقہ لڑائی سےبچنےکاہوناچاہیے،نہ کہ اپنےآپ کولڑائی میں پھنسالینےکا۔

اللہ سےامن مانگو— کامطلب یہ ہےکہ تم ٹکراؤ کے بجائےامن کاراستہ اختیار کرو اوراپنی امن پسندانہ کوششوں کےساتھ خداکوبھی دعاؤں کےذریعہ اس میں شامل کرو۔ تمہاری دعایہ نہیں ہونی چاہیےکہ خدایا،دشمن کوہلاک کر دے بلکہ یہ ہونی چاہیےکہ خدایا، مجھے توفیق دےکہ میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود تشدّد اورٹکراؤ کا طریقہ اختیارنہ کروں بلکہ امن کے راستے پراپنی زندگی کاسفرطےکرتارہوں۔

اس سےمعلوم ہواکہ فطرت کےنقشے کےمطابق،اس دنیامیں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور تشدّد کی حیثیت صرف ایک استثنا (exception) کی۔ مزید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بظاہر کوئی شخص یا گروہ آپ کا دشمن ہو تو اس سے نپٹنے کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ اس سے مڈبھیڑ کی جائے۔ زیادہ بہتر مؤثر شکل یہ ہے کہ امن کی تدبیر سے دشمن کے مسئلہ کا حل نکالا جائے۔ امن کی طاقت تشدّد کی طاقت کے مقابلے میں، زیادہ کارگربھی ہےاورزیادہ مفیدبھی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion