اسلام ایک نعمت
کیمسٹری کی سائنس اگر مفروضات پر بنے ہوئے قدیم فن کیمیاکو اپنے ساتھ شامل رکھتی تو کیمسٹری کی سائنس کبھی ترقی نہیں کرتی۔ اسی طرح ایسٹرانمی، اگر اوہام پر قائم قدیم علمِ نجوم پر بھروسہ کرتی توجدید ایسٹر انمی کاارتقاء ممکن نہ ہوتا۔یہی معاملہ تمام علوم کا ہے۔موجودہ زمانے میں مختلف علوم کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہوئی ہے جب کہ ہر علم سے غیر سائنسی مفروضات کو الگ کر دیا گیا۔ اور خالص سائنسی حقائق کی بنیاد پر تمام علوم کو مدون کیا گیا۔ یہی اصول ہمیں مذہب کے بارے میں اختیار کرناہے۔
مذہب میں سائنسی مطالعہ کے ذریعہ ہمیں یہ دریافت کرناہے کہ کون سا مذہب غیر متغیرحالت میں آج بھی موجود ہے۔ اور کون سے وہ مذاہب ہیں جو تغیرات کی بناپر اپنا علمی استناد (authenticity) کھوچکے ہیں۔ اس اعتبار سے جب خالص علمی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ حیثیت اب صرف اسلام کو حاصل ہے۔اسلام کا متن ،اس کی تاریخ، اس کی تعلیمات حتی کہ اس کے متن کی اصل زبان بھی آج تک پوری طرح اپنی ابتدائی حالت میں موجود ہے۔ اسلام ہمیں قابلِ یقین مذہبی نظام بھی دیتاہے اوراسی کے ساتھ دوسری وہ تمام چیزیں بھی جن کی ہمیں اپنی مذہبی زندگی کی تشکیل کے لیے ضرورت ہے۔
