الزام کافی نہیں

الزام لگانے کا نام ملزم ہونا نہیں۔ اگر کسی شخص کے واقعتاً ملزم ہونے کے لیے یہ بات کافی ہو کہ اس کے خلاف الزام لگانے والوں نے الزام لگایا ہے، تو پھر دنیا کا ہر شخص ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہوا نظر آئے گا، حتٰی کہ خدا کے معصوم اور بے خطا پیغمبر بھی۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ آپ بلاشبہ پاک اور معصوم تھے۔ مگر آپ کے زمانہ کے لوگوں نے آپ پر بدترین الزامات لگائے۔ یہ الزامات صرف یہودیوں اور منافقوں نے نہیں لگائے۔ بلکہ آپ کے مخلص ساتھیوں تک کو آپ کے کردار کے بارے میں بیجا شبہات لاحق ہوئے۔ اس قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کا تعلق ایک انصاری مسلمان سے ہے۔ یہ بزرگ ایک بدری صحابی تھے۔ یعنی وہ بدر کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر لڑے تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی دین کے لیے سرفروشی پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

روایات میں آتا ہے کہ مذکورہ انصاری صحابی اور زبیر بن العوام (مہاجر) کے درمیان ایک جھگڑا ہوا۔ یہ جھگڑا کھجور کے درختوں کی آبپاشی کے بارے میں تھا۔ مدینہ میں پانی کا ایک گڑھا تھا جس سے آبپاشی کی جاتی تھی۔ اس کے پاس دونوں صاحبان کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ایک بار اس امر پر جھگڑا ہو گیا کہ دونوں میں سے کون پہلے پانی لے۔ اس کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے یہ فیصلہ فرمایاکہ زبیر بن العوام پہلے اپنے باغ میں پانی لے جائیں اور اس کے بعد دوسرے صحابی اپنے باغ کی سینچائی کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا تھا وہ زرعی مصلحت اور جغرافی حالات کی بنا پرکیا تھا۔ یہ محض ایک اتفاقی بات تھی کہ زبیر بن العوام مہاجر تھے اور دوسرے صاحب انصاری۔ اور فیصلہ میں زبیر بن العوام کو اولیت حاصل ہو گئی۔ معاملہ کا انصاری فریق اس بات کو نہ سمجھ سکا کہ آپ نے جو فیصلہ فرمایا ہے وہ زرعی اور جغرافی بنیاد پر فرمایا ہے۔ اس نے معاملہ کو مہاجر اور انصاری کی اصطلاح میں سوچا اور یہ رائے قائم کر لی کہ آپ نے رشتہ کی رعایت کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔

چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوںکا فیصلہ فرمایا تو اس فیصلہ کو سن کر مذکورہ انصاری نے کہا:يَا رَسُولَ اللهِ، ‌أَنْ ‌كَانَ ‌ابْنَ ‌عَمَّتِكَ؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2360)۔ یعنی، اے خدا کے رسول کیا اسی لیے کہ وہ آپ کی پھوپھی کے لڑ کے ہیں۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہا:إِنَّمَا قَضَى لَهُ ‌لِأَ نَّهُ ‌ابْنُ ‌عَمَّتِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 652)۔ یعنی، رسول اللہ نے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا کہ وہ ان کی پھوپھی کے لڑ کے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم عن الخطا تھے۔ آپ سے غلطی کا صدور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے یقینی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا، وہ اخلاص کے تحت کیا اور عین درست کیا۔ اس کے باوجود ایک صحابی کو آپ کے بارے میں شبہ لاحق ہو گیا اور اس نے آپ کے اوپر جانب داری کا الزام لگایا۔

یہ واقعہ بتاتاہے کہ الزام کے الفاظ بول دینا کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی بلاثبوت کسی پر الزام لگائے اور جو لوگ محض الزام کے الفاظ سن کر متعلقہ شخص کو ملزم سمجھ لیں ، وہ دونوں سخت گنہ گار ہیں۔ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کی خدا کے یہاں کوئی معافی نہیں، الاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور اللہ ان کی توبہ کو قبول کر لے۔

یہ واقعہ اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی کے اوپر الزام لگانے کے معاملہ میں ہم کو آخری حد تک محتاط رہنا چاہیے۔ جب معصوم پیغمبر کے بارے میں غلط فہمی کا امکان ہے تو عام انسان کے بارے میں بدرجۂ اولیٰ غلط فہمی کا امکان ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم ایک شخص کی خطا سمجھ رہے ہیں ، وہ اس کی خطا نہ ہو بلکہ خود سمجھنے والے کی غلط فہمی ہو۔ وہ اس کی اپنی نظر کا قصور ہو ، نہ کہ متعلقہ شخص کی نیت یا عمل کا قصور۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion