زیادہ ثواب

قرآن کی سورہ النور میں6 ھ میں پیش آنے والے اس واقعہ کا ذکر ہے جو اسلام کی تاریخ میں اِفک کے نام سے مشہور ہے۔ اس موقعہ پر مدینہ کے کچھ شرپسندوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ پر ایک جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اس کے نتیجہ میں پورے شہر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ وقتی طور پر مسلمانوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارےلیے بہتر ہے — لا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (24:11)۔

اس قسم کا فتنہ یا اس قسم کی شرانگیزی کیوں اہل ایمان کے لیے خیر ثابت ہوتی ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ تاہم اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ایسا ہر فتنہ سچے مومن کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس اعلیٰ ایمانی عمل کا ثبوت دے جس کو قرآن میں ظن خیر کہا گیا ہے (24:12)۔ افواہوں کی آندھی میں حسن ظن کا طریقہ اختیار کر کے وہ مزید ثواب کمائے، وہ زیادہ بڑا عمل کر کے اللہ کی نظر میں زیادہ مقبول بندہ بن جائے۔ مثلاً الزام تراشی کی اس مہم میں جو لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر شریک ہو گئے ان میں سے ایک حسان بن ثابت انصاریؓ بھی تھے۔ چنانچہ بعد کو جب متحقق ہو گیا کہ یہ پورا قصہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا تو حسان بن ثابت کو ان کی غلطی پر کوڑے مارے گئے۔ مگر جہاں تک حضرت عائشہ کا تعلق ہے وہ کبھی حسان بن ثابتؓ سے متنفر نہیں ہوئیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اس کو سخت ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حسان کو برا کہا جائے:قالَ عُرْوَةُ:كانَتْ عائِشَةُ تَكْرَهُ ‌أَنْ ‌يُسَبَّ ‌عِنْدَها ‌حَسَّانُ (صحیح البخاری،حدیث نمبر4141)۔ وہ حسان کے اشعار پڑھ کر کہا کرتی تھیں کہ حسان وہ ہیں جنھوں نے اسلام کی مدافعت میں ایسے اور ایسے اشعار کہے ہیں۔ (التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ 273)

حضرت عائشہؓ کا یہ قول شرافت اور بلند اخلاقی کی نہایت عظیم مثال ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ ایسا ایک کلمہ آدمی کو جنت میں پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ مگر اس قسم کے جنتی کلام کا کریڈٹ کسی کو ٹھنڈے حالات میں نہیں مل سکتا۔ یہ تو اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اس کے خلاف شرانگیزی اور فتنہ پردازی کا طوفان کھڑا کیا جائے مگر وہ مشتعل نہ ہو۔ اس کے باوجود وہ انصاف اور خیر خواہی کی روش نہ چھوڑے۔ اس کے باوجود اس کی زبان سے دوسروں کے لیے خیر کا کلمہ نکلے۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کا اعتراف کرے۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کے حق میں نیک دعا کرے۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح منفی ردعمل سے بچائے اور ہر حال میں تقویٰ کی مثبت روش پر قائم رہے۔ اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ مدینہ میں جب یہ بے ہودہ خبر پھیلی تو حضرت ابو ایوب انصاریؓ اپنے گھر میں آئے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ اے ابو ایوب، آپ نے سنا کہ عائشہؓ کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے۔ ابو ایوب انصاریؓ نے کہا کہ ہاں میں نے سنا۔ مگر وہ جھوٹ ہے۔ پھر انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اے ام ایوب ، کیا تم ایسا کرو گی۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم نہیں۔ ابو ایوب انصاریؓ نے کہا: پھر عائشہ خدا کی قسم تم سے افضل ہیں۔ ان کی بیوی نے جواب دیا کہ ہاں، آپ نے صحیح کہا۔ (تفسیر القرطبی، جلد 12، صفحہ202)

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صفوان بن المعطل السلمی کا نام لیا جن کے ساتھ ظالموں نے حضرت عائشہ صدیقہ کو ملوث کیا تھا۔ ابو ایوب انصاری نے کہا کہ میں خود اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ اس وقت اگر میں صفوان کی جگہ پر ہوتا تو میرے دل میں اس طرح کا خیال تک نہیں آ سکتا تھا۔ پھر صفوان تو مجھ سے اچھا مسلمان ہے، وہ کیوں کر ایسا سوچ سکتا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں قول سدید کہا گیا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ کہا کہ ایک سادہ منطق کو استعمال کر کے اسے پہلے ہی مرحلہ میں رد کر دیا ۔ انہوں نے سوچا کہ کوئی بھی شریف انسان ایسا خیال اپنے دل میں نہیں لا سکتا۔ پھر کیسے مان لیا جائے کہ عائشہ صدیقہ جیسی شریف خاتون یا صفوان جیسا مخلص مومن اس قسم کی ذلیل بات کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ یہ ہنگامی واقعہ اگر نہ پیش آتا تو ابو ایوب انصاری کو اس عظیم عمل کا انعام کیسے ملتا کہ ذہنی بھونچال کے وقت بھی انہوں نے اعتراف کا ثبوت دیا۔ ناموافق پروپیگنڈوں کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو فکری اعتدال پر باقی رکھا۔ زلزلہ خیز حالات بھی اس میں کامیاب نہیں ہوئے کہ ان کے قدم کو حق و صداقت سے ہٹا دیں۔ حسن ظن ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے آدمی کو خود اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے حسن ظن کو خدا کی نظر میں ایک عظیم عمل بنا دیا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion