بادشاہ بھی
رُوِيَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ خَطَبَ يَوْمًا خُطْبَةً بَلِيغَةً ثُمَّ قَطَعَهَا وَبَكَىٰ بُكَاءً شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ ذُنُوبِي عَظِيمَةٌ وَإِنَّ قَلِيلَ عَفْوِكَ أَعْظَمُ مِنْهَا. اللَّهمَّ فَامْحُ بِقَلِيلِ عَفْوِكَ عَظِيمَ ذُنُوبِي. فَبَلَغَ ذَٰلِكَ الْحَسَنَ فَبَكَىٰ وَقَالَ: لَوْ كَانَ كَلَامٌ يُكْتَبُ بِالذَّهَبِ لُكِتِبَ هَذَا الْكَلَامُ (البداية والنهاية ، جلد12، صفحہ 391)۔ یعنی، بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک روز ایک بلیغ خطبہ دیا۔ پھر وہ رک گیا۔ اور شدت کے ساتھ رویا۔ اسکے بعد اس نے کہا کہ اے میرے رب، بے شک میرا گناہ بہت زیادہ ہے مگر تیری تھوڑی معافی اس سے بھی زیادہ ہے۔ اے اللہ، اپنی تھوڑی سی معافی سے میرے زیادہ گناہ کو مٹادے۔ یہ بات حضرت حسن بصری کو پہنچی تو اس کو سن کر وہ رو پڑے اورکہا کہ اگر کوئی کلام سونے سے لکھا جاتاتو یقیناً یہ کلام اس قابل تھا کہ اسے سونے سے لکھا جائے۔
عبدالملک بن مروان (85-23 ھ)بنوامیہ کا نہایت ذہین اور مدبر خلیفہ تھا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اسی کا عامل تھا جس نے مکہ پر چڑھائی کی اور عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا۔ عبدالملک بن مروان کا شمار تابعین کے گروہ میں ہوتا ہے۔
مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے جابر بادشاہ بھی خدا کے خوف سے خالی نہ تھے۔ کسی نہ کسی موڑ پر ان کا جذبہ پھٹ پڑتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ’’دیندار‘‘ لوگ بھی خوف خدا سے خالی ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازوں نے ان کے دلوںکو نرم نہیں کیا۔ ان کے ذکر نے ان کے سینہ کو چھلنی نہیں کیا۔ ان کا ایمان وہ ایمان نہیں بنا جو ان کو خدا کے سامنے کھڑا کر دے۔
موجودہ زمانہ کے لوگوں پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں:پھر تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھر کی مانند ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت ۔ اور بعض پتھر تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں پھر ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (2:74)۔
