عملی طریقہ
ایک مسلمان طالب علم سےملاقات ہوئی۔ان کےسرکےبال منڈے ہوئے تھے۔ گفتگوکےدوران انہوں نےبتایاکہ وہ جس مدرسےمیں پڑھتےہیں ان کےناظم نےان کے اور دوسرے طالب علموں کے سرکے بال منڈوا دیے ہیں۔ ناظم صاحب نے وجہ یہ بتائی کہ مجھ کوبڑےبڑےبال اچھےنہیں لگتے۔میں نےپوچھاکہ جن طلبہ کےسرکےبال منڈوائےگئے انہوں نےکچھ احتجاج،وغیرہ کیا۔مذکورہ طالب علم نےبتایاکہ نہیں۔طلبہ نےاس کوبہت زیادہ برامانالیکن وہ اس پر خاموش رہے۔اس لیے کہ اگروہ احتجاج کرتے تومدرسہ سےان کااخراج کردیاجاتا۔
اصولی اعتبارسےدیکھاجائےتوناظم صاحب کاطلبہ کےسرکےبال منڈواناطلبہ کے لیے ایک اشتعال انگیزواقعہ تھا۔مگران طلبہ نےایسانہیں کیاکہ وہ بال منڈوانے کے معاملہ کواصولی اورنظری معیارپرجانچیں۔بلکہ وہ سب اس معاملہ میں عملی (پریکٹیکل) بن گئے۔ ایک معاملہ جونظری بنیادپرقابل قبول نہ تھااس کوانہوں نےعملی بنیاد پر قبول کرلیا۔
غور کیجیے تو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں یہی کرتاہے۔وہ معاملہ کےنظری پہلو پراصرار نہ کرتےہوئےبھی عملی بنیادپراس کو ماننے کےلیے راضی ہوجاتاہے۔مگرانہی افراد کا حال یہ ہےکہ جب معاملہ قومی اورملی ہوتووہ فوراً اس کونظری اوراصولی اعتبار سے شروع کر دیتے ہیں۔ وہ ایسانہیں کرتےکہ عملی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلہ کوختم کردیں۔
لوگوں میں تضاد کیوں ہے کہ وہ اپنے انفرادی معاملہ میں حقیقت پسند ہوتے ہیں اور جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ غیر حقیقت پسند بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب لوگوں میں ذہنی بیداری کا نہ ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی اس کے نفع اور نقصان کو خود بھگت رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ کسی سوچ کےبغیرصرف ذاتی تجربہ کی بنیاد پرصحیح رائے تک پہنچ جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں رائےقائم کرنے کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ ذاتی تجربہ کی تلخی اور شیرینی اس کا رویہ متعین کرنے کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔یہ عین وہی معاملہ ہے جو ہرحیوان کےساتھ پیش آتاہے۔ہر حیوان اپنےذاتی معاملہ میں جان لیتاہےکہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ مگر دوسرے کے معاملہ میں وہ اس کوجان نہیں پاتا۔کیوں کہ دوسرے کے معاملے کو جاننے کے لیے فہم درکار ہے جو کہ حیوان میں نہیں ہوتی۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سےبڑی کمزوری یہ ہےکہ ان کےدرمیان کوئی ایسی تحریک نہیں اٹھی جوان کےاندرذہنی بیداری پیدا کرے۔ جو فن تفکیر (art of thinking) کےاصولوں کی روشنی میں ان کی ذہنی تربیت کرے۔اس کانتیجہ یہ ہےکہ موجودہ زمانےکی مسلم نسلیں فکری ارتقاءسےمحروم ہیں۔لوگ بس حیوانی سطح پرجی رہے ہیں، ذہنی ارتقاء یا فکری عمل (thinking process) کی انہیں خبرہی نہیں۔
