بےبنیاد سوچ

انڈیاکےہندواورمسلمان دونوں ایک ہی قسم کی غلط سوچ میں مبتلاہیں۔دونوں ہی یکساں طورپرایک فرضی یقین میں جی رہےہیں۔دونوں کےکیس کومختصرالفاظ میں اس طرح بیان کیاجاسکتاہے۔

مسلم                  :                                    اسلام سچا ہے، اس لیے میں بھی سچاہوں۔

ہندو       :     ہر مذہب سچا ہے، اس لیے میں بھی سچاہوں۔

یہ دونوں ہی قسم کی سوچ غلط مفروضات پر قائم ہے۔ غیر جانبدرانہ تجزیہ ان کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کا یقین محض خوش عقیدگی کی بنیاد پر قائم ہے، وہ کسی حقیقی دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں۔

اب مسلمان کےمعاملہ کولیجیے۔یہ ایک واقعہ ہےکہ اسلام سچااوربرحق مذہب ہے۔اسلام برحق مذہب ہونااسی دنیامیں آج بھی ایک معلوم اورمسلّم حقیقت ہے۔قرآن کی متعددآیتیں اس کاثبوت ہیں، مثلاً:اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَام (3:19)۔ یعنی، دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ اسی طرح فرمایا:وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ  ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ  (3:85)۔ یعنی، اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں سے ہوگا۔ اس طرح کی آیتوں سےثابت ہوتاہےکہ اسلام کاسچااور برحق ہوناآج بھی ایک معلوم اورمسلّم حقیقت ہے۔

مگرجہاں تک مسلمانوں کامعاملہ ہے،ان کی حیثیت اس اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ کوئی شخص جو اسلام کادعویٰ کررہاہےیا کوئی گروہ جواپنےآپ کو اسلامی گروہ بتاتا ہے اس کا اسلام صرف آخرت میں معتبر اور متحقق ہوگا، موت سے پہلے کی دنیا میں نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو اندیشہ اور امید کے درمیان جینا ہے۔ جیسا کہ قدیم علما کا قول ہے کہ— الْإِيمَانُ بَيْنَ الرَّجَاءِ وَالْخَوْفِ۔

اب ہندوکےمعاملہ کولیجیے۔یہ نظریہ کہ ہرمذہب سچا ہے، ایک غیرعلمی اورغیرمنطقی نظریہ ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً کسی کے نزدیک خدا ایک ہے اور کسی کے نزدیک وہ متعدد ہے۔ کوئی پرسنل گاڈ میں یقین رکھتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ایک سرایت کی ہوئی اسپرٹ (pervading spirit)ہے،جس کاکوئی علیٰحدہ تشخص نہیں۔کوئی پیغمبری کو مانتا ہے اور کوئی ابنیت خداکووغیرہ وغیرہ۔مذاہب کے درمیان اس قسم کے بنیادی اختلافات موجود ہیں، ایسی حالت میں ہر مذہب کو یکساں بتاناایک دعویٰ ہے جس کے لیے کوئی علمی اور منطقی اساس موجود نہیں۔ مزیدیہ کہ ’’ہرمذہب سچاہے‘‘ کانظریہ خوداپنی تردید آپ ہے۔ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ اور سچائی کبھی تعدد کو قبول نہیں کرتی۔ سچائی وہی ہے جو ایک ہو، جو سچائی کئی ہو وہ سچائی بھی نہیں۔

مذہب کامقصدیہ ہےکہ آدمی کویقین اوراعتمادعطاکرے۔وہ اس کےلیے  جینے کا غیرمتزلزل سہاراہو۔ جو بحران کےلمحات میں اس کےلیے بھروسہ بن سکے۔یہ مقصد صرف ایک سچائی کے تصور سے پوراہوسکتاہے۔کیونکہ آدمی صرف کسی ایک سچائی پر اپنےذہن کو مرتکز کر سکتاہے،نہ کہ کئی سچائیوں پر۔بہت سی باتیں ایسی ہیں جوکہنےمیں خوب صورت معلوم ہوتی ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بےمعنی ہوتی ہیں۔ وہ گریمر کے اعتبار سے درست اور حقیقت کے اعتبار سے غلط۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion