آپ کا عمل آپ کی قسمت ہے

ایک ڈینش کہاوت ہے:خوش قسمتی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور پوچھتی ہے کہ کیا سمجھ داری گھر کے اندر موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش قسمتی سمجھ دار آدمی کے حصہ میں آتی ہے نہ کہ بے سمجھ آدمی کے حصہ میں۔ خوش قسمتی در اصل اس نتیجہ کا نام ہے جو سمجھ داری کے ساتھ عمل کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔

ہر شخص کی زندگی میں وہ مواقع ضرور آتے ہیں جب کہ وہ بر وقت صحیح عمل کر کے اپنے مقدر کو اچھا بنا سکے۔ ہر شخص پر وہ لمحات گزرتے ہیں جو اس کی دانش مندی اور اس کی قوت عمل کا امتحان ہوتے ہیں۔ مگر یہ مواقع ہمیشہ اچانک آتے ہیں۔ آدمی کو بس چند لمحات کے اندر انھیں پہچاننا پڑتا ہے۔ جو شخص ایسے مواقع پرسمجھ داری اور قوت فیصلہ کا ثبوت دے وہ کامیاب رہتا ہے اور جو شخص سمجھ داری اور قوت فیصلہ کا ثبوت نہ دے سکے وہ ناکام رہتا ہے۔

  نقصان یا ناکامی کسی کا مقدر نہیں، وہ اپنی کوتاہی کی قیمت ہے۔ اگر آپ نے موقع کو پہچاننے میں غفلت کی ہے تو آپ کو ضرور اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ اپنی غفلت کے لیے کسی دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا کر آپ اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنے سے بچ نہیں سکتے ۔ بھرتری ہری نے سچ کہا ہے ’’نقصان کیا ہے وقت پر چوک جانا‘‘۔ اگر آپ وقت پر چوک گئے تو دوسرے کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہر اکر اس کی تلافی کرنا ممکن نہیں۔

آپ بہت سے لوگوں کو زمانہ کی شکایت کرتے ہوئے پائیں گے ۔ وہ کہیں گےکیا کریں ہماری قسمت ہی بری ہے یا یہ کہ مقدر نے میرا ساتھ نہ دیا ورنہ میری کامیابی یقینی تھی ، اس قسم کے جملے اگر چہ قواعد زبان کے اعتبار سے درست ہیں مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہیں۔ کیونکہ زمانہ کسی کا دوست یا کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ ایک کے لیے بھی دیساہی ہے جیسا کہ دوسرے کے لیے۔

پال شرر نے کتنی عمدہ بات کہی کہ ’’ آج کی محنت ہی کل کی قسمت ہے‘‘۔ آدمی جس چیز کو قسمت کا فیصلہ کہتا ہے وہ در اصل اس کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے قسمت کے ترازو پر ہر آدمی کا انجام تل رہا ہے ۔ مگر انجام کے پلہ میں کسی آدمی کو اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا عمل کے پلہ میں اس نے رکھا ہے ۔ دنیا کے بازار میں عمل ہی ہر سودے کی قیمت ہے ۔ یہاں جو شخص جتنا عمل کرے گا اتنا ہی سودا اس کے حصہ میں آئے گا۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ ’’کوئی موقع تمھارا دروازہ صرف ایک بارکھٹکھٹاتا ہے‘‘ ۔ اگر آپ کسی موقع کواستعمال کرنے میں ناکام رہیں تو اس کے بعد مزید یہ غلطی نہ کیجیے کہ کسی دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف شکایت کرنے بیٹھ جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسری بار جب کوئی موقع آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا تو آپ اس کی آواز نہیں سن سکیں گے اور دوبارے ناکام رہیں گے۔ جو آدمی فریاد وماتم میں مشغول ہو اس کے کان اپنی ہی آوازوں سے بھرے ہوتے ہیں ، پھر اس کو باہر کی آواز کس طرح سنائی دے گی ۔

اتھرو وید میں کہا گیا ہے ’’میرے دائیں ہاتھ میں عمل ہے اور میرے بائیں ہاتھ میں فتح‘‘ ۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل اور کامیابی دونوں با ہم اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں میں وہی رشتہ ہے جو بیج اور درخت میں ہوتا ہے، درخت اسی کے حصہ میں آتا ہے جس نے درخت کے لیے بیج ڈالا ہو۔ اسی طرح کامیابی کا مالک صرف وہ شخص بنتا ہے جس نے اس کے لیے ضروری عمل کیا ہو۔ بیج کو صحیح حالات ملنا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ضرور درخت بنے۔ اسی طرح درست عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ کر رہے۔

یا د رکھیے، امیدوں کا ہر حل اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے ٹوٹتا ہے۔ اگر آپ خود چوکس ہوں تو کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کتنی بامعنی ہے یہ چیک کہاوت— ’’بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہوتی ہے جو ہم خود اس کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion