عربی زبان نئی اہمیت حاصل کر رہی ہے
ہزار برس پہلے ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم تھا۔ یہ صرف ایک سیاسی غلبہ نہیں تھا۔ بلکہ مسلمان اس وقت کی دنیا میں علمی اور فکری امام بنے ہوئے تھے۔ اسپین میں مسلم عہد عروج کے وقت اپینی عیسائیوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا تھا جس نے عملاً عرب تمدن کو اختیار کر لیا تھا۔ ایسے لوگوں کو اس زمانہ میں مستعرب — (Moza Rabes) کہا جاتا تھا۔
قرطبہ کے بیشپ (Alvaro) نے ان عیسائی مستحزبین پر افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’میرے مسیحی بھائی عربی اشعار اور حکایات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور مسلمان علما اور فلاسفہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس نیت سے نہیں کہ ان کی تردید کریں بلکہ اس اردہ سے کہ وہ عربی کے صحیح اور شستہ طرز ادا سے آشنا ہو سکیں۔ آج کل ہماری کتب مقدسہ کی لاطینی تفاسیر کا پڑھنے والا کہاں ملتا ہے ، اور ایسے لوگ کہاں ہیں جو اناجیل اور انبیاء ، صحف کا مطالعہ کرتے ہوں۔ افسوس کا مقام ہے کہ تمام عیسائی نوجوان جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہیں عربی زبان اور ادب کے سوا اور کسی ادب سے واقف نہیں ہیں۔ یہ لوگ عربی کتابیں بڑے ذوق وشوق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ان کو اپنے کتب خانوں کے لیے زر کثیر صرف کر کے حاصل کرتے ہیں اور علانیہ کہتے ہیں کہ یہ لٹریچر بڑی تحسین کے لائق ہے۔ اس کے بر عکس، اگر ان کے سامنے مسیحی کتابوں کا ذکر کیا جائے تو وہ حقارت سے جواب دیں گے کہ اس قسم کی کتابیں ان کی توجہ کے لائق نہیں۔ افسوس کہ مسیحی اپنی زبان تک بھول گئے ہیں۔ ہزار میں سے بمثل ایک شخص ایسا ملے گا جو معقول قسم کی لاطینی میں اپنے دوست کے نام معمولی سا خط بھی لکھ سکے ۔ لیکن اگر عمدہ شاعری کرتے ہیں کہ خود عرب بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکیں‘‘۔
یہ اقتباس اسپینی مستشرق پروفیسر پالیسا (Palencia) کی کتاب سے ماخوذ ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1928 میں شائع ہوا تھا۔ مصری فاضل حسین مونس نے اس کو اسپینی سے عربی میں منتقل کیا ہے۔ (مطبوعہ قاہرہ (1955) تاتاریوں نے جب عالم اسلام کو تاراج کیا تو صورت حال بدلنے لگی۔ اب نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ فکری اور علمی حیثیت سے بھی مسلم قومیں پستی کی طرف چلیں گئیں۔ گیار ہویں صدی عیسوی کے شیخ عبد القادر جرجانی (471ھ) کے قلم سے یہ الفاظ نکلے کہ اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ انسانی طبیعتیں بدل گئی ہیں۔ جہل اور لاعلمی نے علم و فضل کا درجہ لے لیا ہے۔ جو اوصاف پہلے قابل تعریف سمجھے جاتے تھے ، وہ قابل مذمت بن گئے ہیں :
حَتّىٰ صَارَ أَعْجَزَ النَّاسِ رَأْيًا عِنْدَ الجَمِيعِ، مَنْ كَانَتْ لَهُ هِمَّةٌ فِي أَنْ يَسْتَفِيدَ عِلْمًا، أَوْ يَزْدَادَ فَهْمًا، أَوْ يَكْتَسِبَ فَضْلًا، أَوْ يَجْعَلَ لَهُ ذَلِكَ بِحَالٍ شُغْلًا (دلائل الاعجاز، جلد1،صفحہ 33)۔ یعنی، یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ لوگوں کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ ناکارہ سمجھا جاتا ہے جو علوم عربیہ کا شوق رکھتا ہو۔ اور اس میں استفادہ و ترقی میں مشغول ہو۔
اٹھارویں صدی میں جب مغربی قو میں عالم اسلام پر غالب آگئیں تو اس میں اور ترقی ہوئی۔ تقریباً دو سو برس تک یہ حال رہا کہ عربی علوم میں مشغول ہونا ، کم از کم دنیوی اعتبار سے ، بالکل بے فائدہ سمجھا جانے لگا۔ ’’مسٹر‘‘ ہونا عزت کی علامت اور ’’مولوی‘‘ ہونا بے وقعتی کا نشان بن گیا۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں صورت حال دوبارہ تبدیل ہو رہی ہے۔
ہندستان میں بہت سے ادارے ہیں جو مختلف بیرونی زبانیں سکھانے کا کورس چلاتے ہیں۔ چند برس پہلے ان میں عربی زبان کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ آج یہ حال ہے کہ بڑے بڑے انگریزی اخبار میں جب ان اداروں کا اشتہار چھپتا ہے تو عربی زبان، مختلف غیر ملکی زبانوں کی فہرست میں صرف انگریزی کے بعد نمبر 2 پر درج ہوتی ہے۔ ہندستانی اخبار میں ایسے اشتہارات شائع ہونے لگے ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ عربی میں اشتہاری عبار تیں شامل رہتی ہیں۔
یہ محض ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربی زبان موجودہ زمانہ میں کتنی اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اب وہ نہ صرف اقوام متحدہ اور اس کی دوسری ایجنسیوں کی سرکاری زبان ہے بلکہ جدید دنیا کی تمام بڑی بڑی سر گرمیوں میں اس کا استعمال ہونے لگا ہے۔
عربی زبان کی اس جدید اہمیت نے ہمارے عربی مدارس کی تعلیم میں ایک نئی اہمیت پیدا کر دی ہے۔ ان مدارس کے طلبہ اگر تکمیل نصاب کے ساتھ عربی لکھنے اور بولنے کی استعداد بھی لے کر نکلیں تو انھیں یہ شکایت نہ ہو گی کہ — ’’ آج کی دنیا میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘۔ ذیل میں ایک عالمی تجارتی ادارہ کے اشتہار کا نمونہ دیا جا رہا ہے، جو ہانگ کانگ کے اخبار میں شائع ہوا تھا۔
Acclaimed the best in the world
Reconnus comme les meilleurs du monde
Anerkanntermassen das Beste auf der Welt
Reconocidas como las mejores del mundo
أَجْمَعَ النَّاسُ عَلَى أَنَّهَا الْأَجْوَدُ فِي الْعَالَمِ
Modern Asia (Hong Kong) October 1976
Far East/Pacific Division
Snap-on Tools International, Ltd.
103-104 Hollywood Commercial House 3-5 Old Bailey Street P.O. Box
1619 Hong Kong. B.C.C. 16 on inquiry card
Latin American/Caribbean Division
Snap-on inter-Americas, Ltd.
Dadeland Towers-Suite 314
9200 South Dadeland Boulevard
Miami, Florida 33156
