اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے
قرآن کی دو سورتوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ابدی طور پر غلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے:
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:33، 61:9)۔ یعنی، اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو ہر دین سے اوپرکر دے خواہ شرک کرنے والوں کوکتنا ہی ناگوار ہو ۔
اس آیت میں ہدایت کی تفسیر قرآن سے کی گئی ہے اور دین حق کی اسلام سے۔ اور اظہار سے مراد حجت و بیان کے اعتبار سے اس کو سب پر فائق کر دینا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کی صورت میں اللہ نے اپنا جو آخری دین اتارا ہے وہ کلی صداقت کا حامل ہے۔ اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ ہر دوسرے دین کے مقابلہ میں بالا و برتر ثابت ہو، ہر دوسرا دین اس کے سامنے بے اصل ہو کر رہ جائے۔ اظہار اسلام سے مراد تقریباً اسی قسم کا ایک نظریاتی غلبہ ہے جو موجودہ زمانہ میں جمہوری طرز فکرکو بادشاہی طرز پر اجتماعی ملکیت کے نظریہ کو انفرادی ملکیت کے نظریہ پر اور طبیعی علوم (سائنس) کو فلسفیانہ علوم پر حاصل ہوا ہے۔
قرآن کا یہ بیان دوراول میں مکمل طور پر واقعہ بن چکا ہے۔ اسلام کے ظہور نے دوسرے تمام مذاہب پر سایہ ڈال دیا۔ اس وقت جوادیان رائج تھے — بت پرستی، پارسیت، یہودیت، عیسائیت ، سب کے سب خود اپنے پیروؤں کی نظر میں اس طرح بےوزن ہو گئے کہ ان کی بہت بڑی اکثریت اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئی۔ ایشیا اور افریقہ کے جن ممالک کو آج مسلم ممالک کہا جاتا ہے، وہ سب نزول قرآن کے وقت غیر مسلم قوموں کی آبادیاں تھیں۔ مگر اسلام کے برتر فکر نے ان کو اس طرح متاثر کیا کہ وہ اپنے مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کے سایہ میں آ گئیں۔
اسلام کی یہ برتری موجودہ زمانہ میں واقعہ نہ بن سکی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اس کو برتر بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ہماری تحریکیں زیادہ تر دوسروں سے سیاسی زور آزمائی میں مصروف رہیں۔ انہوں نے دوسروں کے اوپر اسلام کے فکری اظہار کی جدوجہد نہ کی۔ یہ جدوجہد اگر آج سے ہونے لگے تو آج ہی سے اسلام کی نئی تاریخ بننا شروع ہو جائے۔
ایک شخص نماز کے لیے مسجد روانہ ہوا۔ راستہ میں کسی سے اس کا ٹکراؤ ہو گیا۔ وہ اس سے لڑنے لگا، یہاں تک کہ جماعت کی نماز ختم ہو گئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ان کو اسلام کی مثبت دعوت کے لیے اٹھنا تھا۔ مگر وہ بعض سیاسی شکایات سے متاثر ہو کر کچھ لوگوں سے قلمی اور لسانی جنگ لڑنے میں مصروف ہو گئے۔ انہیں میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام کی نئی تشریح کر کے سیاسی زور آزمائی ہی کو عین اسلام قرار دے دیا۔ اب ہر ایک سیاست کے کاروبار میں مشغول ہے۔ دین کے مثبت پیغام کو لے کر اٹھنے کی فرصت کسی کو نہیں۔
