انقلابی زاویہ ٴنظر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے بارے میں جو نقطہ ٴ نظر دیا، وہ ایسا نقطہ ٔ نظر ہے جو آدمی کو سراپا عمل بنا دیتا ہے۔ وہ آدمی کی صلاحیتوں کو جگا کر اس کو حالات کے مقابلے میں ناقابل تسخیر بنا کر کھڑا کر دیتا ہے۔
قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو(اور ان کی ذریت کو) زمین پر آباد کیا تو ان سے فرمایا کہ تم لوگ زمین پر بسو، اور تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے:قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ ٌ۔ (7:24)
اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان درختوں اور پتھروں کی مانند نہیں رہے گا۔ بلکہ وہ متحرک اور متصادم مخلوق کی مانند رہے گا۔ یہاں انسانوں کے باہمی تعلقات مسابقت(competition) کی بنیاد پر قائم ہوں گے۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ پیش آئے گا۔ اس کے نتیجے میں آخری طور پر یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ آپس میں دشمنیاں قائم ہوں گی۔ اس نظام تخلیق کا پہلا مظاہرہ ہابیل اور قابیل کے خونی نزاع کی صورت میں پیش آیا، اور اب تک وہ مختلف شکلوں میں بنی آدم کے درمیان جاری ہے۔
اس نظامِ تخلیق کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چیلنج کے حالات میں رہنا ہوگا۔ اس دنیا میں کسی کو عمل کا بے ضرر اور ہموار میدان نہیں ملے گا۔ یہاں افراد اور قوموں کو رکاوٹوں اور مخالفتوں، حتیٰ کہ دشمنیوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کرنا پڑے گا۔ گویا دنیا کی زندگی آدمی کے فکر و عمل کا امتحان ہوگی۔ جو شخص خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کرے گا، وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو لوگ خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال نہ کر سکیں، وہ اس دنیا میں کامیابی کو بھی حاصل کرنے میں ناکامیاب ثابت ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسانی دنیا میں خدا نے مقابلہ اور مسابقت کا وہی نظام قائم کیا ہے جو حیوانات کے درمیان بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ حیوانات کی دنیا میں یہ نظام ہے کہ ہرن کے پیچھے بھیڑیا دوڑ رہا ہے۔ اگر بھیڑیا اس طرح نہ دوڑے تو ہِرن اپنے جوہر حیات کو کھو دے گا۔ یہاں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کا پیچھا کر رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو مچھلیوں کی نشوونما کا عمل رک جائے۔ اسی طرح انسانی زندگی میں بھی تمام ترقیاں مقابلہ اور مسابقت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر زندگی میں مقابلہ اور مسابقت کا ماحول باقی نہ رہے تو ہر قسم کی ترقیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے۔
سیرت کی روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مکہ سے طائف کا سفر فرمایا۔ درمیان میں ایک راستہ ملا جو بظاہر تنگ اور دشوار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ الضَّيْقَةُ (تنگ) آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ آسان ہے:بَلْ هِيَ الْيُسْرَى۔( سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ127)
مذکورہ راستہ بطور واقعہ تنگ تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ نے اس کو آسان راستہ قرار دیا۔ اس طرح آپ نے بتایا کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ یہاں بہرحال تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ تمہارا کام یہ نہیں ہے کہ دشواری کو دشواری کہہ کر اپنے آپ کو بے حوصلہ کر لو، یا اس کے خلاف فریاد و احتجاج کرنے لگو۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم تنگی کو کشادگی میں مُبدَّل (convert) کرو۔ تم مشکل کو آسان بنا کر اس کے اوپر فتح حاصل کرو۔ تمہارا سوچنے کا طریقہ انقلابی ہونا چاہیے ، نہ کہ احتجاجی۔
یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے کے بعض مفکرین نے مسئلہ کا برترحل (superior solution) کا نام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی برتر تدبیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ کو عرب میں سخت ترین مشکلوں سے سابقہ پیش آیا۔ مگر آپ نے ان مشکلوں کو چیلنج کے روپ میں دیکھا۔ آپ نے دشواریوں کو اپنے لیے زینہ بنا کر ان کے اوپر فتح حاصل کی۔
مکہ کے اہل شرک نے آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب کے لیے مکہ میں رہنا مشکل بنا دیا۔ آپ نے اس ناموافق صورت حال کو اپنے لیے موافق صورت حال میں تبدیل کر لیا۔ ایک طرف آپ نے اپنے سَو سے کچھ اوپر اصحاب کو، جو سب کے سب داعیانہ جذبہ رکھتے تھے، سمندر پار حبش کے ملک میں بھیج دیا۔ اس طرح آپ کی دعوت ایشیا سے نکل کر افریقہ میں داخل ہوگئی۔ ایک دعوت جو ابھی تک صرف مقامی حیثیت رکھتی تھی، وہ بین اقوامی دعوت کی صورت اختیار کر گئی۔
دوسری طرف آپ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو مدینہ(یثرب) روانہ کیا۔ وہاں دعوت کے ذریعے لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد آپ خود بھی مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے اور مدینہ کو مرکز بنا کر اپنا دعوتی کام مزید شدت کے ساتھ جاری کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اولاً مدینہ اور اس کے بعد پورا ملک اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگیا۔
موجود زمانے میں تاریخ کے وسیع تر مطالعہ نے اس نظریہ کے حق میں مزید تصدیق فراہم کی ہے۔ مثال کے طور پر آرنلڈ ٹوائن (1975-1889) نے انسانی تاریخ کی21 تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے اور اس کو اپنی کتاب مطالعہ تاریخ(A Study of History) کی بارہ جلدوں میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔
ٹوائن بی اس تاریخی مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ تمام بڑی بڑی تہذیبیں ان قوموں نے پیدا کیں جن کو خارجی دنیا کی طرف سے چیلنج پیش آیا۔ چیلنج نے ان کو متحرک کیا۔ اس نے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارا۔ یہاں تک کہ مغلوب قومیں بالآخر غالب قومیں بن کر ابھر آئیں۔
اسلام کا یہ نظریہ انسان کے لیے بہت بڑی دین ہے۔ یہ نظریہ مایوس لوگوں کے لیے ہمت کا دروازہ کھولتا ہے۔ وہ شکایت کے مزاج کو ختم کرکے محنت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ سوچ ابھارتا ہے کہ وہ حالات کے خلاف فریاد و احتجاج میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ وہ حالات کا سامنا کرکے کامیابی اور فتح مندی کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔
