نزاع کے موقع پر
پیغمبر اسلام کی عمر جب 35 سال تھی اس وقت مکہ میں ایک واقعہ پیش آیا۔کعبہ کی عمارت بعض اسباب سے منہدم ہو گئی۔ اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی۔ اس دوران یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ حجر اسود کو کون اٹھائے اور اس کو دوبارہ اس کی جگہ پر کعبہ کی دیوار میں نصب کرے۔ یہ چونکہ فضیلت کا ایک معاملہ تھا، ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اور اس شرف کا مالک بنے۔
اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا اور کوئی اتفاقی فارمولاطے نہ ہو سکا آخر کار قریش کے ایک بزرگ کی تجویز کے مطابق وہ اس پر راضی ہوئے کہ کل صبح کو جو آدمی سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو، وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلہ کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ہر ایک نے بیک زبان کہا:هٰذَا الْأَمِينُ رَضِينَا هٰذَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن ہشام،جلد 1، صفحہ 214)۔ یعنی، یہ تو محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔
رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آؤ۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملہ کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے۔ اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لیے اکثر و قار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو گی۔
