منفی جوش
وکٹر ہیوگو (1885-1802ء)فرانس کا مشہور ناول نگار ہے۔ اس کے زمانہ میں فرانس نے الجزائر پر قبضہ کر لیا۔ وکٹر ہیوگو ایک بار الجزائر گیا۔ وہ کسی ہوٹل میں تھا کہ وہاں کچھ الجزائری مسلمان آگئے۔ ان مسلمانوں کو’’فرانسیسی‘‘ کی صورت سے پہلے ہی سے نفرت تھی۔ وہاں اتفاق سے ایک الجزائری مسلمان اور وکٹر ہیوگو کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوگئی۔ فوراً دونوں کے درمیان اشتعال پیدا ہوگیا، یہاں تک کہ لڑائی کی نوبت آگئی۔ الجزائری مسلمان طاقت ور تھا۔ اس نے وکٹر ہیوگو کو خوب مارا۔
اس موقع پر وہاں اور بھی کئی الجزائری مسلمان موجود تھے۔ مگر انہوں نے وکٹر ہیوگو کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک’’فرانسیسی‘‘ کے مارے جانے پر وہ خوش ہوتے اور تالیاں بجاتے رہے۔ آخر میں وکٹر ہیوگو نے کہا — اب تو میں ا پنے ملک واپس جا رہا ہوں۔ مگر جلد ہی ایک ایسا کام کروں گا جو نہ صرف تم سے بلکہ تمہاری نسلوں تک سے اس کا انتقام لیتا رہے۔
اس واقعہ کے چھ مہینے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر وکٹر ہیوگو کی لکھی ہوئی سیرت کی کتاب شائع ہوئی جس کے ایک ایک فقرے میں پیغمبر اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے سابق سفیر برائے فرانس مسٹر قدرت اللہ شہاب نے اس کی تردید میں ایک کتاب لکھی اور اس کو اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔
مسلمان اس کے لیے بہت جلد تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ’’معاندین ا سلام‘‘ کو ذلیل کریں اور ان سے کفر و اسلام کے نام پر لڑائی لڑیں۔ اسی طرح ان میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی مخالفانہ تحریروں کا تیز و تند زبان میں جواب دیں۔ مگر ایسے لوگ ان کے درمیان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے جو ان ’’معاندین اسلام‘‘ کو اسلام کا مدعو سمجھیں اور مثبت انداز میں دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو اسلام کی طرف بلائیں۔
اس قسم کی ’’خدمت اسلام‘‘ سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ البتہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا ہے کہ وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جس میں دوسری قو میں اسلام پر غور و فکر کریں۔ دوسری قو میں جب ہمارے لیے نفرت کا موضوع بن جائیں تو ان کے لیے ہمارا دین محبت کا موضوع کیوں بنے گا۔
