وقت کی اہمیت

نپولین ( 1769-1821) دنیا کا ایک مشہور ترین فاتح ہے۔ اس نے بے شمار جنگی کامیابیاں حاصل کیں۔ قدرتی آفت کے سوا کوئی اس کو زیر نہ کر سکا۔ نپولین نے اپنی کامیابیوں کا راز ان الفاظ میں بیان کیا۔ ’’میں اپنے حریفوں کے اور پر اس لیے غالب آتا ہوں کہ وہ لمحات جن کو لوگ کچھ نہیں سمجھتے، میں ان کی اہمیت کو پالیتا ہوں اور ان کو فوراً استعمال کرتا ہوں۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے مواقع اکثر چھوٹے لمحات میں آتے ہیں۔ ان لمحات کو جاننا اور ان کے مطابق فوری اقدام کرنا ہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے ۔ ان نازک لمحات میں معمولی کوشش سے وہ کام ہوجاتا ہے جو بعد کو بڑی کوششوں سے بھی نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں یہاں چند اقوال نقل کیے جاتے ہیں:

  • میں نے وقت کو برباد کیا تھا، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے(شیکسپیر)۔
  • ایک موقع تمھا را دروازہ صرف ایک بار کھٹکھٹاتا ہے(کہاوت)۔
  • انسان کے لیے زندگی میں کامیابی کا راز ہر آنے والے موقع کے لیے تیار رہنا ہے (ڈز رائیلی)۔
  • وقت کی ٹرین اس کے لیے تیزی سے بھاگ رہی ہے جو کنارے کھڑا ہوا اس کا تماشا دیکھ رہا ہو۔ مگر وقت کی ٹرین اس کے لیے ٹھہر جاتی ہے جو برابر کی پٹری پر خود بھی اسی کی رفتار سے دوڑنا شروع کر دے(آئن سٹائن)۔
  • وقت ایسی نعمت ہے جس کا دوسرا کوئی بدل نہیں(بابا فرید)۔
  • جس کام کو تم آج کر سکتے ہو اسے بھی کل پر نہ ٹالو کیونکہ کل کبھی نہیں آتا (چیسٹر فیلڈ)۔ 
  • تم ہر چیز کو قیمت دے کر خرید سکتے ہو مگر وقت ہی ایک ایسا سودا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں(خان خاناں)۔
  • اگر تم کو زندگی عزیز ہے تو وقت کو ضائع نہ کرو کیونکہ زندگی وقت ہی کے لمحات کا دوسرانام ہے(فرینکلن)۔
  • کسی کام کو شروع کرنے کا ابھی اِسی وقت سے بہتر کوئی وقت نہیں(انگریزی کہاوت)۔
  • چھوٹے موقع کا صحیح استعمال اس کو بڑا بنا دیتا ہے اور بڑے موقع کا غلط استعمال اس کو چھوٹا کر دیتا ہے (سویٹ مار ڈین)۔
  • نہ ہر لغزش واپس لی جا سکتی ہے اور نہ ہر موقع دوبارہ ہاتھ آتا ہے (عربی کہاوت )۔

آدمی کے پاس سب سے بڑی دولت وقت اور موقع ہے، وہ وقت نہیں جو کل ملنے والا ہے بلکہ وہ وقت جو ابھی ملا ہوا ہے۔ جو شخص وقت کے انتظار میں ہے وہ تیز بھاگتی ہوئی گاڑی کے پیچھے سست رفتاری سے دوڑ رہا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اس کو بھی نہیں پڑ سکے گا۔ جس چیز کو کامیابی کہا جاتا ہے وہ حقیقتاً اس کا نام ہے کہ آپ وقت کو استعمال کرلیں اور ناکامی یہ ہے کہ آپ وقت کو صیح طور پر استعمال نہ کر سکیں۔ وقت ہر ایک کے لیے یکساں طور پر آتا ہے مگر وقت کو پانے والا صرف وہ ہے جس نے وقت سے فائدہ اٹھایا ہو۔

وقت کی مثال برف کی مانند ہے۔ دو آدمی برف کی ایک ایک سل اپنے گھر میں لاتے ہیں۔ بظاہر دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔ مگر برف کا مالک صرف وہ ہے جو برف کو فوراً کام میں لائے۔ جو برف کو کام میں نہ لاسکے وہ برف کو پانے کے باوجود برف کا مالک نہیں کیونکہ بہت جلد وہ دیکھے گا کہ برف پگھل کر ختم ہو چکاہے اور اب اس کے پاس برف کے نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔

وقت کبھی ہمارے پیچھے نہیں دوڑے گا۔ بلکہ خود ہمیں وقت کے پیچھے دوڑنا ہوگا۔ ہمیں جو کچھ کرنا ہے وقت ہی کے درمیان کرنا ہے۔ وقت کو کھو کر ہم کوئی اور موقع نہیں پاسکتے جہاں ہم وہ کر سکیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے مقصد کےلیے بھر پور حرکت میں آنے کا وقت وہی ہے جو ابھی فوری طور پر آپ کو حاصل ہے۔ اگر آپ نے ابھی وقت کو نہیں پکڑا تو وہ آپ سے اتنی دور جا چکا ہو گا کہ آپ کبھی اس کو پکڑ نہ سکیں گے۔

_________________________________________________

نو ٹ:یه تقریر 2-4دسمبر 1980 کو آل انڈ یا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion