ذمہ داری اپنی

ایک مفکر نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی ۔ اس نے کہا ’’ آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیٹ (radiate) کرتا رہتا ہے‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی جو عمل کرتا ہے اس کے ذریعہ سے وہ ماحول کے اندر اپنا تعارف پھیلاتا رہتا ہے۔ جس طرح ریڈیم کا ایک ٹکڑا اپنے گرد و پیش اپنی شعاعیں بکھیرتا ہے اسی طرح انسان اپنے ہر رویہ سے دوسروں کو بتاتا رہتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔

ایک دکان دار کا قصہ ہے ۔ اس نے اپنے یہاں حساب لکھنے کے لیے ایک منیب(bookkeeper) رکھا۔ پہلے دن کام کرنے کے بعد منیب نے دکان دار کے یہاں غسل کیا اور اس کے بعد نل کو بند نہیں کیا، اس کو کھلا چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ اگلے دن منیب آیا تو دکان دار نے اس کو مہینہ بھر کی پوری تنخواہ پیشگی دیتے ہوئے کہا  ’’اب آپ کل سے میرے یہاں آنے کی زحمت نہ کیجیے گا۔ ’’کیوں‘‘ منیب نے حیرت کے ساتھ پوچھا۔ ’’ابھی تو آپ نے صرف نل کو کھلا چھوڑا ہے،‘‘  دکان دار نے کہا ’’اسی طرح اگر کسی دن آپ نے میرے کاروبار میں کوئی دراز کھلا چھوڑ دیا تو میری ساری دولت اس کے راستہ بہہ جائے گی اور میں دیوالیہ ہو کر رہ جاؤں گا‘‘۔ ممکن ہے کہ دکان دار کے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے منیب نے اس کو دل ہی دل میں برا بھلا کہا ہو۔ اس کی نظر میں دکان دار بہت غلط آدمی ہو جس نے ذراسی بات کو اتنا بڑھایا کہ اس کی ملازمت ختم کر دی ۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ میں اصل غلطی منیب کی ہے، نہ کہ دکان دار کی۔ منیب کی لیاقت کو کوئی دکان دار صرف بہی کھاتہ کے صفحات میں نہیں دیکھے گا بلکہ اس کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرے گا۔

اگر ماحول آپ کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرے تو ہر گز ماحول کی شکایت نہ کیجیے کیونکہ ماحول تو صرف آپ کے عمل کا رد عمل پیش کرتا ہے۔ ماحول آپ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ خود آپ کے اس تعارف کا نتیجہ ہے جو آپ نے ماحول کے اندر کرایا تھا ۔ اگر آپ ماحول کے اندر اپنا اچھا تعارف کرائیں تو نا ممکن ہے کہ ماحول آپ سے اچھا سلوک نہ کرے۔ اگر ماحول کا سلوک آپ کی امیدوں کے خلاف ہو تو صرف اپنے کو قصور وار ٹھہرائیے کیونکہ ماحول آپ کے ساتھ اس کے سوا اور کچھ نہیں کرتا کہ وہ خود آپ کے عمل کے مثنیٰ کو آپ کی طرف لوٹاتا ہے ۔ جو آپ نے ماحول کو دیا ہے وہی وہ آپ کو دے دیتا ہے ۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

جس طرح بے شمار چھوٹے چھوٹے نقطے اور لکیریں مل کر ایک تصویر بناتے ہیں، اسی طرح آپ کا ہر لمحہ کا عمل دیکھنے والوں کے ذہن میں آپ کا نقش ترتیب دیتا رہتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ماحول کی نظر میں آپ کی ایک تصویر نہ بنے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ کے ساتھ ماحول کا معاملہ اس کے سوا کسی بنیاد پر ہو جو آپ نے اپنے روزانہ کے عمل سے اسے دیا ہے ۔ آدمی ہر وقت اپنی ایک تاریخ بنا رہا ہے کسی کی تاریخ اچھی ہے اور کسی کی بری۔ کسی کی تاریخ کتابوں میں لکھی جاتی ہے اور کسی کی صرف مقامی داستان ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ہر آدمی اپنے حلقہ میں ٹھیک ویسا ہی جانا جاتا ہے جیسا کہ اس نے اپنی تاریخ کے مطابق اپنے آپ کو بنایا ہے۔

آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈئیٹ کرتا رہتا ہے ۔ اس قول کو یا د رکھیے ، اور پھر آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی، کیونکہ آپ خود بھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیں گے ۔ اور اگر کسی کو شکایت کا موقع دیں گے تو پہلے سے اس کے لیے تیار رہیں گے کہ اس کی طرف سے آپ کو قابل شکایت بات برداشت کرنا ہے۔

آئینہ وہی دکھاتا ہے جو آپ فی الواقع ہیں۔ آئینہ میں کسی کے چہرہ پر دھبہ دکھائی دے تو وہ آئینہ سے نہیں لڑتا بلکہ خود اپنے دھبہ کو صاف کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دھبہ چہرہ پر ہے نہ کہ آئینہ پر۔ اسی طرح ماحول سے اگر آپ کو کوئی شکایت پیدا ہو تو ماحول پر غصہ نہ کیجیے ۔ ماحول تو عین وہی چیز پیش کر رہا ہے جو آپ نے اپنے بارے میں ماحول کو بتایا ہے۔ ایسے ہر موقع پر اپنے آپ پر نظر ثانی کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اپنے آپ کو درست کرتے ہی ماحول کے آئینہ میں بھی آپ کی تصویر درست ہوگئی ہے ۔

انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھ لیتا ہے جتنا کہ وہ فی الواقع ہے۔ یہی تمام جھگڑوں اور شکایتوں کی جڑ ہے۔ دوسرے آپ کو اتنا ہی سمجھتے ہیں جتنا کہ آپ حقیقت ہیں۔ اور آپ اپنے کو اپنی حقیقی حیثیت سے زیادہ سمجھے ہوئے ہیں۔ یہ فرق باہمی اختلاف پیدا کرے گا اور اختلاف آخر کار ٹکراؤ تک پہنچ جائے گا۔

یہ ایک ایسی کمزوری ہے جس میں فرد اور گروہ دونوں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ حقیقت پسندی کا انداز اختیار کریں۔ حقیقت پسندی کے سوا اس مسئلہ کا اور کوئی حل نہیں ۔

____________________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 21-23 اپریل 1981 کو آل انڈیا ریڈیو، نٹی دہلی، سے نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion