ترقی کا راز
گلاب کا درخت فطرت کا ایک مظہر ہے۔ اس کے ساتھ وہ ایک علامت ہے جو ہر دیکھنے والے کو بتارہا ہے کہ دنیا میں ہم کو کس طرح زندگی گزارنا چاہیے۔
آپ جانتے ہیں کہ گلاب کے درخت میں بیک وقت پھول بھی ہوتے ہیں اور کانٹے بھی۔ ہر عقل مند آدمی یہ کہتا ہے کہ وہ پھول کو لے لیتا ہے اور کانٹے کو چھوڑ دیتا ہے ۔ اسی طرح زندگی میں خوش گوار پہلو ہیں اور اسی کے ساتھ ناخوش گوار پہلو بھی۔ یہاں بھی دانش مندانہ طریقہ یہ ہے کہ خوش گوار پہلو کو لیا جائے اور ناخوش گوار پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے ۔
ہمارے پرائم منسٹر نے 15 اگست 1992کی تقریر میں کہا کہ ہم کو ایک قسم کے مورٹیوریم کی ضرورت ہے۔ یعنی چند سال کے لیے ہم لوگ طے کر لیں کہ ہم اختلافی باتوں کو بازو میں رکھ دیں گے اور اتفاقی باتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ موجودہ حالات میں اس قسم کا مورے ٹوریم ملک کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
تاہم یہ صرف چند سال کی بات نہیں بلکہ پوری زندگی کی بات ہے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اس وقت ترقی کر سکتی ہے جب کہ وہ اس حکومت کو اختیار کر لے کہ انھیں مسائل سے اعراض کرنا ہے اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا ہے ۔
آپ اپنی سواری لے کر سڑک پر نکلتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سڑک پر آپ کے ساتھ دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنی سواریاں دوڑا رہے ہیں۔ آپ دوسروں سے ٹکراتے نہیں۔ بلکہ دوسروں سے بچتے ہوئے اپنا سفر طے کرتے ہیں۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہے۔ یہ دنیا بہت سے انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ اب اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہر ایک دوسرے کا لحاظ کرے۔ ہر ایک دوسرے کو راستہ دیتے ہوئے اپنا راستہ اختیار کرے۔ دوسروں کی رعایت کرنا اپنے لیے کامیاب سفر حاصل کرنے کی سب سے زیادہ یقینی ضمانت ہے ۔
ہندستان میں مختلف مذہب اور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ ان تمام کو بدل کر ایک مذہب اور ایک کلچر بنا ناممکن نہیں۔ اگر اس قسم کی وحدانیت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو وحدانیت تو پیدا نہیں ہوگی۔ البتہ وحدانیت پیدا کرنے کی کوشش میں ملک بر باد ہو جائے گا۔ اس لیے ہم کو وحدانیت کلچر کے بجائے تعدد کلچر کے اصول کو اختیار کرنا ہے۔ یہی ممکن بھی ہےاور یہی کامیابی کا طریقہ بھی ۔
آج ہمارے ملک میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ رواداری (ٹالرنس) ہے۔ رواداری کا مطلب ہے اپنے طریقہ پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے طریقہ کا احترام کرنا۔ اسی رواداری پر صدیوں سے ملک کا انتظام چلا آرہا ہے۔ اسی پر وہ آئندہ بھی چل سکتا ہے۔ خواہ ایک فرقہ کے لوگ ہوں یا مختلف فرقہ کے لوگ، رواداری ہر حال میں ضروری ہے حتیٰ کہ ایک خاندان کے دس افراد اگر ایک ساتھ رہتے ہوں تو وہ بھی کامیاب گھر اسی وقت بنا سکتے ہیں جبکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا معاملہ کریں۔
دو سال پہلے میں شولا پور گیا۔ وہاں ایک جلسہ میں ایک ہندو بھائی کی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے کہا کہ میرے باپ نان ویجیٹرین تھے اور میری ماں ویجیٹرین تھی ۔ مگر دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ میری ماں روزانہ صبح کو اٹھ کر پہلے میرے باپ کے لیے کھانا بناتی۔ اور اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتی ۔ اس کے بعد وہ نہا کر اپنے لیے ویجیٹیرین کھانا بناتی ۔ اسی طرح وہ دونوں پوری زندگی میں عمل کرتے رہے۔ انھوں نے نہایت پر مسرت زندگی گزاری۔
یہی قومی تعمیر کا واحد طریقہ ہے ۔ قومی زندگی میں ہم کو یہی کرنا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو گوارا کریں ۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ انسانی احترام کے اصول پر معاملہ کریں جس طرح وہ اپنے لیے یہ حق سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔ اسی طرح وہ دوسروں کو بھی یہ حق دیں کہ وہ اپنے پسندیدہ مذہب اور اپنے پسندیدہ کلچر کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس قسم کے فرق کو رواداری کے خانہ میں ڈالناہے ، اس کو اختلاف کا مسئلہ نہیں بنانا ہے۔ یہی قومی تعمیر کا واحد کامیاب طریقہ ہے۔
مثلاً ایک فرقہ کے لوگ شہر کی سڑک پر اپنا جلوس نکالتے ہیں۔ اس میں کچھ پر جوش لوگ ایسے نعرے بھی لگا دیتے ہیں جو دوسرے فرقہ کے لیے ناگوار ہوں ۔ اب دوسرے فرقہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس کو وقار کا مسئلہ بنالے اور جلوس کو روکنے یا اس کی روٹ بدلوانے کے لیے کھڑا ہو جائے ۔ جلوس کے مسئلہ کا حل جلوس کو نظر انداز کرنا ہے نہ کہ اس سے ٹکرانا۔ اگر جلوس کے معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ چند منٹ میں اپنے آپ ختم ہو جائے گا مگر جب روک ٹوک اور مزاحمت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تو الٹا نتیجہ نکلتا ہے۔ جو چیز ابتداءً صرف جلوس کی حیثیت رکھتی تھی وہ فساد کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے ۔
ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس معاملہ میں ہمارے لیے انتخاب (چوائس) جلوس اور بے جلوس میں نہیں ہے ، بلکہ جلوس اور فساد میں ہے ۔ جلوس کو اگر روکا جائے تو اس کے نتیجہ میں جو چیز حاصل ہوگی وہ بے جلوس صورت حال نہیں ہے ، بلکہ دو فرقوں کے درمیان فساد ہے جس میں جان ومال کی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔
موجودہ دنیا میں آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک طرف مسائل ہوتے ہیں اور دوسری طرف مواقع ۔ یہ قدرت کا قانون ہے اور اس دنیا میں کبھی اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ مسائل کو نظر انداز کر ناگویا اپنے لیے عمل کا وقفہ حاصل کرنا ہے۔ اور مسائل سے الجھنا ملے ہوئے وقت کو ضائع کر دینا۔
____________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 20 نومبر 1992کو آکاش وانی، ناگپور، سے نشر کی گئی ۔
