منا کحت نہ کہ مسا فحت
ٹائم (نیویارک ) انگریز ی زبان کا مشہور ہفتہ وار میگزین ہے۔ وہ دنیا کے تقریباً 95 ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر اس کی اشاعت 6 ملین ہے۔ (ٹائم 2 فروری 1987)
اس میگزین کی ہر اشاعت میں ایک تحقیقی مضمون ہوتا ہے جس کو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ٹیم خصوصی ریسرچ کے ذریعہ تیار کرتی ہے۔ اس مضمون کو سرورق کا مضمون (cover story) کہا جاتا ہے۔ اسی قسم کا ایک مضمون اس کے شمارہ 16 فروری 1987 میں شائع ہواہے۔ اس کا عنوان ہے عظیم پژمردگی (The Big Chill)۔اس مضمون میں مختلف پہلوؤں سے اس نئی بیماری کی تحقیق کی گئی ہے جس کو ایڈز (AIDS) کہا جاتا ہے۔
ایڈز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ایک متعدی مرض ہے۔ چنا نچہ یہ مرض اب نئے قسم کے اچھوت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جو مرد یا عورت ایک بار ایڈز میں مبتلا ہوجائیں، لوگ ان سے دور بھاگنے لگتے ہیں ، کیوں کہ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ انھیں بھی یہ مرض لگ جائے گا۔ بعض مغربی ملکوں میں باربر شاپ پر اس قسم کے نشانات نظر آنے لگے ہیں جن کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ شیوکے لیے یہاں نہ آئیں :
‘‘No Shaves Here.’’
حکومتی ذمہ داروں نے اس کو ایڈز ہسٹر یا کہا ہے۔ تاہم بار بر حضرات کا کہنا ہے کہ مریض کے چہرہ کا پسینہ یا شیو کرتے ہوئے معمولی ساخون نکل آنا بھی بیماری کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے احتیاطی طور پر ایسے مریضوں سےبچنا ضروری ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا 19 فروری 1987) ٹائم کے محققین کی جماعت نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس مہلک مرض کا سب سے بڑا سبب آزادانہ جنسی تعلق (promiscuity)ہے۔ اسی بنا پر اس مرض کو رندی کا مر ض (gay disease) کہا جاتا ہے۔ یہ مرض بہت تیز ی سے پھیلتا ہے۔ چنانچہ اس نے جدید دنیا میں جیومیٹر ک انتشار (geometric explosion)کی صورت اختیار کرلی ایڈز کی ہلاکت خیزی کو دیکھ کر ایک مبتلا ئے مرض نے کہا:
‘‘Oh, what will happen in this world, if we have to die when we make love? AIDS is the century’s evil.’’ (p.32)
آہ ، اس دنیا کا کیا ہوگا اگر ہمارا حال یہ ہوجائے کہ ہم کو محبت کرنے کے لیے مرجانا پڑے۔ ایڈز اس صدی کی آفت ہے۔
آزادانہ جنسی تعلق ، جس کو مغرب میں خوبصورت طور پر آزادانہ محبت کہا جاتا ہے، وہ اب لوگوں کے لیے عذاب بنتا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1991 تک امریکا میں 270,000 افراد اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔ جن کا علاج کرنا امریکی ڈاکٹروں کے قابو سے باہر ہوجائے گا۔ چنا نچہ حکومت کی طرف سے جومخالف ایڈزمہم (Anti-AIDS (campaign چلائی جارہی ہے، اس کا خاص نعرہ ہے۔ احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے :
‘‘Love Carefully.’’
’’احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے‘‘کی نصیحت کو اگر ہم لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگی کہ نکاح کے ساتھ محبت کیجیے ، بے نکاح محبت کا طریقہ چھوڑدیجیے۔
ڈی ایچ لارنس (D.H. Lawrence)کا ناول ’’لیڈی شیٹرلی کا محبوب‘‘ (Lady Chatterly's Lover) پہلی بار 1928 میں چھپا۔ اس میں آزادانہ جنسی تعلق کی وکالت کی گئی تھی۔ اس وقت اس ناول کو فحش سمجھا گیا اور جلدہی اس کو بند (ban) کردیا گیا۔اس کے بعد حالات بدلے اور1959 میں دوبارہ اس ناول کو چھاپنے اور فروخت کرنے کی قانونی اجازت دے دی گئی۔ اس ناول نے امریکی نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے اندر آزاد انہ جنسی تعلقات عام ہوگئے۔ مگر اب دوبارہ آواز اٹھ رہی ہے کہ اس ناول پر پابندی لگائی جائے۔
یہ ایڈز کا کر شمہ ہے۔ آزادانہ جنسی تعلقات نے ایڈز کی پُراسرارمگر حد درجہ مہلک بیماری پیداکی ہے۔ اور اب مغرب کے لوگ مجبور ہورہے ہیں کہ آزادانہ جنسی تعلق کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں ۔ (صفحه 24)
ٹائم کے الفاظ میں ، ہر جنسی تر غیب پر دوڑنے والے لوگ، جلد یا بدیر، جنسی احتیاط اور پابندی کے ایک نئے دور کی حقیقت سے دوچار ہوں گے:
‘‘Swingers of all persuasions may sooner or later be faced with the reality of a new era of sexual caution and restraint.’’ (p. 24).
مذکورہ تبصرے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ فطرت کے حقائق انسان کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ آزاد انہ جنسی تعلق کے طریقہ کو چھوڑدے اور پا بند جنسی تعلق کے طریقہ کو اختیار کر ے۔
شریعتِ خداوندی میں عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کو نکاح کی قید کے ساتھ وابستہ کیا گیا تھا۔ مگر موجودہ زمانےکے آزادی پسند لوگوں نے کہا کہ یہ انسان کے اوپر غیر ضروری قسم کی پابندی ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار لٹریچر شائع کیاگیا۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک میں آزادانہ جنسی تعلق ایک عمومی رواج کی صورت اختیار کر گیا۔
لوگ خوش تھے کہ انھوں نے شریعت اور مذہب کی پابند ی سے آزاد ہوکر لا محدود عیش کاراز دریافت کرلیا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں پہنچ کر آزاد انہ جنسی تعلق نے نئے نئے امراض پیدا کردیے۔ اور بالآخر ’’ایڈز‘‘ کی مہلک بیماری نے لوگوں کو یہ ماننے پر مجبور کردیا کہ شریعتِ خداوندی کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں آزاد انہ جنسی تعلق انسانی صحت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹائم میگزین کے مذکورہ شمارہ (صفحہ 24) میں ایک مرد اور ایک عورت کو اس حال میں دکھا یا گیاہے کہ ان کو ایک خوفناک سانپ نے چاروں طرف سے لپیٹ لیا ہے۔
قرآن میں ہدایت کی گئی تھی کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قید نکاح میں لاکر کرو،نہ کہ بدکاری کے طور پر کرنے لگو:مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ(5:5)۔ مفسرین نے قرآن کی اس آیت کی تفسیران الفاظ میں کی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نکاح کے ذریعہ تعلق قائم کرونہ کہ زانی بن کر ( مُتَزَوِّجِينَ غَيْرَ زَانِينَ)۔ تجربات نے بتایا کہ یہی طریقہ صحیح فطری طریقہ ہے۔ مناکحت اور مسافحت (بدكاري) میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک اگر زندگی ہے تو دوسرا موت ایک طریقہ انسانی سماج کے لیے رحمت ہے تو دوسرا طریقہ انسانی سماج کے لیے عذاب۔
ٹائمس آف انڈیا(19 مارچ 1987) نے ایڈز روک (AIDS Check) کے عنوان کے تحت ایک امریکی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو بعض تدبیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ ایڈز کی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ ان تدبیروں میں سب سے زیادہ خاص تد بیرجنسی پرہیز ہے:
‘‘The US government has released its new education plan which stresses on sexual abstinence as a preventive measure.’’
یہ واقعہ انسانی قانون پر خدائی شریعت کی برتری کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ خدائی شریعت کو ماننے والا ایک شخص اگر خدانخواستہ مسافحت کا طریقہ اختیار کر ے اور اس کو ایڈز کی بیماری لگ جائے تواس کو اصولِ شریعت سے انحراف کا نتیجہ کہا جائے گا۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب کا ایک انسان مسا فحت کرکے ایڈز میں مبتلا ہو تو وہ عین اس کے اصول کے غلطی کا نتیجہ ہے۔ پہلے واقعہ کی صورت میں ایک انسان کی غلطی ثابت ہوتی ہے جب کہ دوسرے واقعہ کی صورت میں خود تہذیب جدید کے اصول کی غلطی۔
