تحمل کی طاقت
ایک شہر کے دو آدمیوں میں ان بن تھی۔ایک دن ایسا ہوا کہ دونوں کی ملاقات ایک سڑک پر ہوئی۔ مسٹر الف دیکھتےہی مسٹر ب پر برس اٹھے۔ان کے پاس جتنے سخت الفاظ تھے وہ سب انہوں نے مسٹر ب پر خرچ کرڈالے۔ مسٹر ب خاموش ہوکر ان کی بات سنتے رہے۔مسٹر الف دیر تک بولنے کے بعد جب چپ ہوئے تو مسٹر ب نے کسی ردعمل کے بغیر بالکل نارمل انداز میں مسٹر الف سے کہا۔میرا خیال ہے کہ آپ تھک گئے ہیں، آئیے ریستوران میں چل کر چائےپئیں۔اس کے بعد دونوں قریب کے چائے خانہ میں گئے۔ چائے پیتے پیتے مسٹر الف کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔آخر میں مسٹر الف نے مسٹرب سے معافی مانگی اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کبھی کسی کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔
جب کوئی شخص اشتعال انگیز بات کرے تو عام طور پر سننے والا غصہ ہو جاتا ہے۔وہ جوابی اشتعال کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر یہ طریقہ آگ کو آگ کے ذریعہ بجھانے کے ہم معنی ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آگ کو پانی کے ذریعے بجھایا جائے۔غصہ کا جواب ضبط و تحمل کے ذریعہ دینے کی کوشش کی جائے۔ تحمل صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، اس سے بڑھ کر تحمل ایک طاقتور تدبیر ہے۔ اشتعال کے جواب میں جب آپ غصہ ہو جائیں تو آپ اپنی سب سے بڑی صلاحیت،یعنی عقل کو کھو دیتے ہیں۔آپ اس قابل نہیں رہتے کہ آپ اپنی عقل کو استعمال کرکے گہرائی کے ساتھ معاملہ کو سمجھیں اور زیادہ کار گرانداز میں اپنا دفاع کریں۔غضب ناک آدمی صرف منفی ردعمل کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔اس کے برعکس جو آدمی غصہ دلانے کے باوجود غصہ نہ ہو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ غصہ کے جواب میں مثبت عمل کا ثبوت دے سکے،اور مثبت عمل بلاشبہ منفی عمل کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ مؤثر اور کامیاب ہے۔
