قدرت کا قانون

دو آدمی سڑک پر آمنے سامنے سے گزرے۔ دونوں بائیسکل پر تھے۔ دونوں میں ہلکی ٹکر ہو گئی۔ دونوں کی بائیسکل رک گئیں۔ اب دونوں میں تکرار ہونے لگی۔ یہاں تک کہ دونوں آپس میں لڑ گئے ۔ دونوں کو چوٹیں آئیں۔ اور پھر دونوں کو اپنے اپنے گھر جانے کے بجائے ڈاکٹر کےیہاں جانا پڑا۔

 اس واقعے میں بائیسکل کی ٹکر سے تو دونوں زخمی نہیں ہوئے تھے، مگر اس کے بعد ان میں جو بحثیں و تکرار ہوئی اس میں دونوں زخمی ہو گئے ۔ اسی بات کو کسی دانا شخص نے ان الفاظ میں کہا ہے:دوسرا شخص کسی آدمی کو اتنا نقصان نہیں پہنچا تا جتنا آدمی خود اپنی نادانی سے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیتا ہے۔

غور کیجیے تو ہمارے سماج میں جتنے بھی دنگے فساد ہو رہے ہیں ان سب کا خلاصہ یہی ہے۔ ابتدا میں کوئی معمولی سی بات پیش آتی ہے۔ اس ابتدائی صورت میں اس کا کوئی خاص نقصان نہیں ہو تا۔ مگر اس کے بعد لوگ جذباتی ہو جاتے ہیں۔ اور پھر جو ٹکراؤ ہوتا ہے وہ لوگوں کو بڑے بڑے نقصان تک پہنچا دیتا ہے۔

زندگی کا معاملہ سڑک جیسا ہے۔ زندگی کے میدان میں بیک وقت ہزاروں لوگ اپنی اپنی دوڑ لگارہے ہیں۔ اب قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک آدمی کی دوسرے آدمی سے ٹکر ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں برداشت کر کے بات کو و ہیں ختم کر دیا جائے۔ اگر پہلے مرحلہ میں برداشت نہ کیا جائے تو بات بڑھے گی اور پھر یہ ہو گا کہ ابتدائی ٹکر سے تو کسی کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔ مگر اس کے بعد کی لڑائی میں دونوں اپنے آپ کو تباہ کر لیں گے۔

کسی کا قول ہے کہ ’’آپ دنیا سے اپنے نا پسندیدہ انسانوں کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ ان کےساتھ نباہ کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں‘‘۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی تصدیق پوری تاریخ کر رہی ہے۔ جب ایسا ہے تو آپ ناممکن چٹان سے کیوں ٹکرائیں۔ آپ ممکن میدان میں کیوں نہ اپنا راستہ بنائیں۔ دنیا میں جس طرح آپ کو رہنا ہے اسی طرح دنیا میں دوسروں کو بھی رہنا ہے۔ دنیا کسی ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ سارے لوگوں کے لیے     ہے۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ دوسروں کا وجود بھی اسی طرح تسلیم کیا جائے جس طرح آپ اپنا وجود بر قرار رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو حقوق آپ اپنے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر یہ سوچ پیدا کر لیں تو آپ دیکھیں گے کہ بظاہر کانٹوں سے بھری ہوئی دنیا آپ کے لیے پھولوں سے بھری ہوئی دنیا بن گئی ہے۔

دوسروں کو زندگی کا حق دے کر آپ خود اپنے لیے زندگی کا حق پالیتے ہیں۔ اور اگر آپ دوسروں کو ان کا حق دینے سے انکار کریں تو سماج میں ایسی خرابیاں پیدا ہوں گی کہ آپ کو خود بھی اپنے حق سے محروم ہونا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی خود اپنے ساتھ خیر خواہی ہے اور دوسروں کے ساتھ بد خواہی خود اپنے ساتھ بد خواہی۔ اس دنیا میں دینے کا انجام پانا ہے اور چھیننے کا انجام کھونا۔

کسی نے کہا ہے کہ انتظار بھی مسئلہ کا ایک حل ہے۔ مگر لوگوں میں انتظار کرنے کا حوصلہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حال کی محرومی پر نہ گھبراؤ۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں تم اس سے زیادہ اپنے لیے حاصل کر لو ۔ اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیجیے  ۔

ایک باپ کے یہاں دو بچے پیدا ہوئے۔ ایک نے اونچی تعلیم حاصل کی۔ دوسرے نے پڑھنے میں محنت نہیں کی۔ وہ جاہل رہ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیم یافتہ لڑکے نے ترقی حاصل کی۔ جاہل لڑکا کوئی ترقی حاصل نہ کر سکا۔ اس کا دوسرا انجام یہ ہوا کہ ایک آدمی کو گھر میں عزت اور بڑائی ملی۔ دوسرا آدمی خود اپنے گھر میں عزت اور بڑائی پانے سے محروم ہو گیا۔

یہ دو سگے بھائیوں کا قصہ ہے۔ دو آدمی خواہ سگے بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہوں مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق ہو جاتا ہے۔ یہ فرق فطرت کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اور اس کا کوئی حقیقی نقصان بھی نہیں۔ چنانچہ مذکورہ مثال میں جس بھائی نے اونچی ترقی کی تھی اس کے لڑکے کھیل تماشے میں پڑ گئے۔ وہ محنت نہ کر سکے۔ مگر دوسرا بھائی جو بے ترقی رہ گیا تھا اس کی اولاد میں محنت کا جذبہ ابھر آیا۔ ان کے باپ کا پچھڑا پن ان کے لیے مہمیز بن گیا۔ وہ رات دن محنت کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلی نسل میں نقشہ بدل گیا۔ ایک بھائی کے بیٹے غفلت میں پڑ کر بے ترقی رہ گئے اور دوسرے بھائی کے بیٹوں نے مستعدی کا ثبوت دے کر اتنی ترقی کی کہ انھوں نے باپ کی محرومی کی بھی تلافی کر لی۔ ایک ہی نسل میں پوری تاریخ بدل گئی۔

ایک بھائی کو حال میں ملا اور دوسرے بھائی کو مستقبل میں۔ اس طرح آخر کار دونوں برابر ہو گئے۔ یہ اس دنیا کے لیے قدرت کا قانون ہے۔ یہ قانون افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ تاریخ کے عمل کے دوران اگر کوئی قوم دوسری قوم سے مات کھا جائے تو اس کو مایوس یا جھنجلاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جو کچھ ہوا ہے وہ وقتی ہے، نہ کہ ابدی۔ تاریخ کی گردش دوبارہ اپنا کام کرے گی۔ اور پھر جلد ہی دنیا دیکھے گی کہ جو آگے تھا وہ پچھلی سیٹ پر چلا گیا اور جو پیچھے تھا اس نے اگلی سیٹ پر اپنے لیے جگہ حاصل کر لی۔

’’تاریخ کی تشکیل قدرت کرتی ہے، نہ کہ کوئی انسان‘‘  کسی کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ جب بھی ایک قوم اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں دبا ہوا پائے تو اس کو سمجھنا چاہیے   کہ جو کچھ ہوا وہ قانون قدرت کے تحت ہوا، نہ کہ کسی کے ظلم کی بنا پر ہوا۔ اسی لیے اپنی سوچ کا رخ قدرت کے قانون کو جاننے کی طرف موڑ دینا چاہیے، نہ کہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف نفرت اور انتقام میں اس کو ضائع کیا جائے۔

اپنی محرومی کے لیے آپ کسی دوسری قوم یا کسی خارجی مظاہر سے نہ لڑئے بلکہ قدرت کے قانون کو جان کر اس کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کیجیے۔ قدرت کے قانون کی زد میں آکر آپ گرے ہیں اور قدرت کے قانون کو اپنے موافق بنا کر دوبارہ آپ کھڑے ہوسکتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion