مومنہ کی صفات
مرد اور عورت کی باہمی حیثیت کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے:
أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195) ۔یعنی،میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔
اس آیت میں عورت اور مرد کے لیے بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو:
You are members, one of another.
یہ مر داور عورت کی حیثیت کے بارے میں نہایت جامع بیان ہے۔ اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہنا ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں سماجي طور پر ایک دوسرے کے شریکِ عمل ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کا حصہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے برابرکے ساتھی ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے اگرچہ دونوں کی صنف ایک دوسرے سے مختلف ہے، ایک صنف مذکر ہے، اور دوسری صنف مؤنث۔ مگر انسانی مرتبہ کے لحاظ سے دونوں بالکل یکساں ہیں۔ جو درجہ ایک کاہے وہی درجہ دوسرے کا ہے۔ حقوق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں۔
یہی بات حد یث میں ایک اور انداز سے واضح کی گئی ہے۔ ایک حد یث کے مطابق ، رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ عورتیں مردوںکا شقیقہ ہیں:إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ (مسند احمد، حدیث نمبر 26195)۔ شَقَّ یَشُقُ کے اصل معنی ہیں پھاڑنا۔ ایک لکڑی کو درمیان سے پھاڑا جائے تو وہ دو برابر حصے میں تقسیم ہوجائے گی۔اس اعتبار سے شقیق کے معنی ہوئے دوحصوںمیں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ چنانچہ کسی چیز کے نصف کو شِق الشیئ کہتے ہیں۔ اسی سے مزید وسعت پاکر شقیق بمعنی بھا ئی اور شقیقہ بمعنی بہن بولا جانے لگا۔
اس تشر یح کے مطابق مذکورہ حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ عورتیں مردوںکا نصف ثانی ہیں یا عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ جدید تہذیب میں عورت کو نصف بہتر (better half) کہا گیا ہے۔ مگر یہ ایک ادبی تعبیر ہے، نہ کہ سائنسی تعبیر۔ حدیث کے مطابق ، عورت مرد کا نصف ثانی (second half) ہے، اور یہ یقیناً زیادہ صحیح اور سائنسی تعبیر ہے۔ اسی ایک لفظ سے عورت کے بارے میں اسلام کے پورے نقطۂ نظر کو سمجھا جاسکتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب گویا حدیث کے اسی بیان کی تفصیل ہے۔
