ایک واقعہ
طبقات ابن سعد (جلد 1، صفحہ 143) میں زہری سے منقول ہے کہ ایک یہودی نے کہا کہ تورات میں پیغمبر آخر الزماں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں، وہ سب میں نے آپ کے اندر دیکھ لیے تھے۔ صرف ایک وصف باقی تھا۔ اور وہ تھا حلم وبردباری۔ چنانچہ اس کے تجربہ کے لیے میں نے آپ کو 30 دینار قرض دیے۔ اس کے بعد میں خاموش رہا۔ یہاں تک کہ جب مدت پوری ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا، میں آپ کے یہاں پہنچا اور سختی سے تقاضا کیا۔ میں نے کہا میرا حق ادا کیجیے اور میں جانتا ہوں کہ عبدالمطلب کا خاندان تو ہمیشہ کا ٹال مٹول کرنے والا ہے۔
اس وقت عمر فاروق آپ کے ساتھ تھے۔ یہودی کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی غضب ناک ہو گئے اور کہا اگر رسول اللہ کا خیال نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ، نَحْنُ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجَ، تَأْمُرُنِي بِحُسْنِ الْقَضَاءِ وَتَأْمُرُهُ بِحُسْنِ الطَّلَبِ۔ یعنی، اے ابو حفص، خدا تمہیں معاف کرے۔ ہم تم سے ایک اور سلوک کے زیادہ محتاج تھے۔ تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس کو نصیحت کرتے کہ بہتر طریقہ سے طلب کرو۔
