ایک طالبِ علم کو نصیحت
دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھیں :
بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم
زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے ، جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود انسان کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔
یہ آپ کے حوصلہ کا امتحان ہے، آپ خود اپنی جتنی زیادہ قیمت لگائیں گے بازار عالم میں اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت لگے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دوسروں کی نظر میں زیادہ قیمتی ٹھہرے، تو خود سب سے پہلے اس کے خریدار بنئے۔ یہ دوسرے نہیں، بلکہ خود آپ ہیں، جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ بازار عالم میں آپ کی قیمت کتنی مقرر ہوگی (دیوبند، 3 ستمبر 1971)۔
)هفت روزه الجمعیۃ، 17 ستمبر1971، صفحہ 6(
