غریبی کا سبب
ٹائمس آف انڈیا نے سوسائٹی کے نام سے ایک ضمیمہ (نومبر ۔ دسمبر 1988) شائع کیا ہے۔ اس میں ٹائمس آف انڈیا (2 دسمبر 1880) کی ایک خبر نقل کی گئی ہے۔ اس وقت ہندستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ایک انگریز افسر ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر (W. W. Hunter) نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہندستان ایک بنیادی مسئلہ سے دو چار ہے۔ اور وہ عوام کی غربت (poverty of the people) کا مسلہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہندستان جو کسی وقت اتنا زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا تھا ، اب وہ اتنا غریب کیوں ہو گیا :
How comes it that India was once held to be so rich and now proves to be so poor? (p.34)
تاریخ بتاتی ہے کہ ہندستان ، مسلم حکومت کے دور میں نہایت خوش حال تھا۔ انگریزی حکومت کے دور میں پہلی بار وہ غریب ہوا ، اور آزادی کے بعد ملکی حکومت کے زمانہ میں بھی وہ غریب ہے ، بلکہ اب اس کی غربت میں ہمیشہ سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم مسلم حکمرانوں نے ملک سے جو دولت حاصل کی۔ اس کو انھوں نے ملک کے اندر ہی خرچ کیا ۔ اس طرح دولت کی گردش ملک کے اندر ہوتی رہی۔ انگریزوں نے یہ کیا کہ ملک کی دولت کو یہاں سے نکال کر انگلینڈلے گئے۔ اس طرح دولت کی گردش اندر سے باہر کی طرف ہونے لگی۔ یہی اصل وجہ تھی جس کی بنا پر ہندستان مسلم عہد میں خوش حال تھا اور انگریزی عہد میں وہ بد حال ہوگیا۔
دولت کی الٹی گردش کا یہی حل ’’آزاد ہندستان‘‘ میں بھی بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ ہندستان کے دیسی حکمراں اور یہاں کے بڑے بڑے تاجر اور صنعت کار مختلف طریقوں سے ملک کی دولت باہر لے جاکر یورپ اور امریکہ کے بنکوں میں جمع کر رہے ہیں ، اسی کے ساتھ اسمگلنگ کا کاروبار جو موجودہ ہندستان کا سب سے بڑا کاروبار ہے ، وہ ملک کی بے شمار دولت کو بیرونی ملکوں میں پہنچا رہا ہے۔ اس طرح جو دولت باہر جا رہی ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں بھی شاید اتنی زیادہ دولت با ہر نہیں بھیجی ۔
