وقت کے پیچھے سوچنا
مارچ 2002ء میں مسئلۂ فلسطین کے حل کے بارے میں عرب ملکوں کے درمیان ایک نیا نظریہ ابھرا۔ وہ یہ کہ اسرائیل کو باقاعدہ طور پر قبول کرلیں گے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے ایک یہودی سے بات کرتے ہوئے اس کے سامنے یہ تجویز رکھی۔ یہودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزیز پڑوسی، تم نے بہت دیر کردی۔
Dear Neighbor, you are too late.
عرب حضرات کی مذکورہ تجویزبہت اچھی ہےمگریقینی طورپروہ قابل عمل نہیں۔یہ دراصل وقت کےپیچھےسوچناہےجوکہ عملی طورپرناممکن ہے۔ایک اردوشاعرنےدرست طورپرکہاہےکہ:
’’گیاوقت پھرہاتھ آتانہیں‘‘
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز 1917 میں ممکن تھی، وہ 1948 میں ناممکن ہوچکی تھی۔ اسی طرح ان کےلیے جو چیز 1948ء میں ممکن تھی، وہ ان کے لیے 1967میں ممکن نہ رہی تھی۔ اسی طرح ان کے لیے جوچیز 1967میں ممکن تھی، وہ اب 2002 میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو مگر وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اور تاریخ کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ عربوں کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔
2002ءمیں عربوں کےلیے فلسطین کےمعاملہ میں جوچیزممکن ہےوہ صرف ایک ہے۔اوروہ یہ ہےکہ غزّہ اوراریحاءکی صورت میں ان کوجوچیزملی ہےاس کوقبول کرلیں۔ وہ اس حاصل شدہ خطےپراپنےمستقبل کی تعمیرکریں۔مگربدقسمتی کی بات یہ ہےکہ اپنے پرجوش رہنماؤں کی غیرحقیقت پسندانہ رہنمائی کےنتیجہ میں انہوں نےاس حاصل شدہ ٹکڑےکوبھی اپنےلیے مشتبہ بنالیاہے۔
عربوں کو جاننا چاہیے کہ وہ حماس اور انتفاضہ جیسی پر تشدّد تحریکوں کے بَل پر کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتے۔ منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ حماس اور انتفاضہ جیسی تحریکیں حقیقت کے اعتبار سے تحریکیں نہیں ہیں، وہ صرف جذباتی ردعمل کا مظہر ہیں۔ اور حقائق کی اس دنیامیں سوچے سمجھے عمل کے ذریعہ کوئی نتیجہ نکلتا ہے، نہ کہ جذباتی ابال کے ذریعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنیاد پر کبھی حال کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ حال کا فیصلہ ہمیشہ حال کی بنیادپرہوتاہے۔یہ ایک ناقابل تنسیخ تاریخی قانون ہے۔اس میں کوئی استثناء کبھی ممکن نہیں، نہ ایک قوم کےلیے اور نہ کسی دوسری قوم کے لیے۔
