انتظار بھی حل ہے
مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وہ دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں۔ ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے۔ اسی طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے— انتظار کرو اور دیکھو:
Wait and see.
امریکہ کا مشہور رائٹر ہنری ڈیوڈ تھارو (Henry David Thoreau) 1817میں پیدا ہوا اور 1862 میں اس نے وفات پائی۔ اس کا ایک قول ہے کہ ہیر ووہ ہے جو یہ جانے کہ کہاں انتظار کرنا ہے اور کہاں جلدی کرنا ہے۔ ہر بھلائی اس انسان کے حصے میں آتی ہے جو دانش مندانہ طور پر انتظار کرے:
The hero knows how to wait as well as to make haste. All good abides with him who waited wisely.
زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے ہیں جب کہ آدمی کو فوری طور پر ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تا ہم اگر آدمی فوری فیصلہ کرنے میں چوک جائے تو اس کے بعد اس کے لیے جو چیز ہے یہ نہیں ہے کہ وہ گھبرا کر یا جلد بازی میں بے فائدہ کارروائیاں کرنے لگے۔ اب اس کو انتظار کرنا چاہیے۔ عقلمند وہ ہے جو اس فرق کو جانے کہ کب فوری فیصلہ لینا ہے اور کب معاملے کو انتظار کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انتظار بھی ایک عمل ہے۔ انتظار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ انتظار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے معاملے کو فطرت کے نظام کے حوالہ کر دیا۔ وہ خدا کے فیصلہ کا منتظر بن گیا۔
اگر وقت پر صحیح فیصلہ لینا کامیابی ہے تو نا موافق حالات میں انتظار کی پالیسی اختیار کرنا بھی کامیابی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایک کا نتیجہ حال میں نکلتا ہے اور دوسرے کا نتیجہ مستقبل میں۔
