میدان عرفات

عرفات ، عرب کے ایک خشک پہاڑ کا نام ہے۔ اس پہاڑ سے لی ہوئی وسیع وادی کو اسی نام پر عرفہ یا عرفات کہا جاتا ہے۔ یہ میدان عرفات حج کے مقامات میں سے ایک اہم مقام ہے۔ حج کی عبادت جو تقریباً ایک ہفتہ کے اندر ادا کی جاتی ہے ، اس میں تمام حاجی حرم کے آس پاس کے مختلف مقامات سے گزرتے ہیں — مکہ، عرفات ، مزدلفہ متی، وغیرہ ۔ عرفات کے میدان میں تمام حاجی 9 ذی الحجہ کوز وال آفتاب کے بعد داخل ہو جاتے ہیں اور غروب آفتاب تک یہاں عبادت اور ذکر و دعا میں مشغول رہتے ہیں۔ امام کا خطبہ سنتے ہیں جو گویا پیغمبر اسلام کے مشہور خطبہ حجتہ الوداع کا قائم مقام ہوتا ہے جو آپ نے 10ھ میں اسی مقام پر دیا تھا۔

عرفات میں قیام کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ وَقَفَ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ تَمَّ حَجُّهُ (عرفہ کا قیام حج ہے۔ جو شخص رات یا دن میں ایک گھڑی بھی یہاں ٹھہرا اس کا حج پورا ہو گیا )، حج کے اعمال (واجبات و سنن) تقریباً ایک درجن ہیں جن میں احرام باندھنے سے لے کرسعی اور طواف اور قربانی اور رمی جمرات وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب ارکان میں سب سے زیادہ اہم رکن وہی ہے جس کا تعلق میدان عرفات میں قیام سے ہے۔

مکہ سے جو راستہ پچھم کی طرف طائف کے لیے جاتا ہے ، اس پر تقریباً پندرہ کیلومیٹر (12میل) کے فاصلہ پر ایک وسیع پتھریلا میدان ہے جو کئی میل کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اسی کا نام میدانِ عرفات ہے ۔ یہ سطح زمین سے تقریباً 200 گز بلند ہے۔ پورے سال یہ میدان بالکل سونا پڑا رہتا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص تنہا وہاں جائے تو اس وسیع ویرانہ میں اس کو عجیب دہشت معلوم ہوگی۔ سال میں ایک دن 9 ذی الحجہ کو یہاں بیک وقت لاکھوں آدمی جمع ہو جاتے ہیں۔ پورا میدان انسانوں سے اور ان کی سواریوں سے بھر جاتا ہے۔ یہ گویا میدان حشر کی ایک تمثیل ہے ۔ حشر کا میدان آج بظاہر خالی پڑا ہوا ہے۔ جب قیامت آئے گی تو اچانک تمام انسان وہاں جمع کر دئے جائیں گے اور تمام انسانی نسل ایک بڑے میدان میں اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوئی اس کے فیصلہ کی منتظر دکھائی دےگی۔

مقررہ طریقہ کے مطابق ، حاجی 8 ذی الحجہ کی صبح کو مسجد حرام میں داخل ہوتا ہے۔ طواف قدوم کرکے وہ صبح ہی صبح منی میں پہنچ جاتا ہے۔ اس دن اور رات کو وہ وہیں قیام کرتا ہے۔ 9ذی الحجہ کی صبح کو حاجی مزدلفہ کی راہ سے عرفات کے لیے روانہ ہوتا ہے اور تقریباً10 کیلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اسی دن دو پہر تک عرفات کے علاقہ میں پہنچ جاتا ہے ۔ دوپہر بعد سے لے کر غروب آفتاب تک وہ اس میدان میں قیام کرتا ہے۔ اس کو شریعت کی زبان میں وقوف عرفہ کہا جاتا ہے ۔ یہاں کے قیام کے دوران حاجی اپنا تمام وقت دعا و عبادت اور توبہ و استغفار میں گزارتا ہے ۔ شام کو یہاں سے مشعر الحرام (مزدلفہ) کے لیے کوچ کر تا ہے ۔ عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز تقدیم کے ساتھ ملاکر پڑھی گئی تھی ، اسی طرح مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز تاخیر کے ساتھ ملاکر پڑھی جائے گی۔

 عرفات کی یہ خصوصیت ہے کہ خود قرآن میں صراحتہ یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ حج کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب تم عرفات سے چلو تو مشعر حرام (مزدلفہ) میں ٹہر کر خدا کو یادکرو (2:198)۔

عرفات کے میدان سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں وہ عبادتی عمل کیا جس کو حاجی ہر سال اس مقام پر پہنچ کر دہراتا ہے۔ حضرت ابراہیم کے بعد زمانۂ جاہلیت میں لوگوں نے حج کے طریقہ کو بدل دیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس کو ابراہیمی طریقہ پر قائم فرمایا۔

عرفات کے میدان میں پہنچ کر آدمی کو جو باتیں یاد آتی ہیں ، ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ وہ تاریخی مقام ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام کا سفر کس طرح نقطۂ آغاز سے چل کر نقطۂ تکمیل تک پہنچا۔ میدان عرفات وہ تاریخی مقام ہے جہاں پیغبر اسلام ﷺنے اپنا آخری خطبہ دیا جو خطبۂ حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔

اللہ کا پیغمبر 1ہجری میں مکہ سے رخصت ہو کر مہاجرکے طور پر مدینہ پہنچا تھا۔ بظاہر یہ اسلام کی تاریخ کے ختم ہونے کا واقعہ تھا۔ مگر اللہ کی مدد سے وہ اسلام کی تاریخ کا نیا آغاز بن گیا۔ صرف دس سال بعد خدا کا پیغمبر یہ اس قابل ہو گیا کہ وہ عرفات کے میدان میں ملک کے حاکم کی حیثیت سے کھڑا ہو اور اپنے تقریباً ڈیڑھ لاکھ جاں نثار ساتھیوں کی موجودگی میں وہ خطبہ دے جو نہ صرف عرب کے لیے بلکہ سارے عالم انسانی کے لیے انقلاب کا نقطۂ آغاز بن جائے۔

ایک مغربی سیرت نگار نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یا در کھنا چاہیے کہ ایک مذہب کے بانی ہونے کی حیثیت سے بھی ، پیغمبر اسلام نے زبر دست کامیابی حاصل کی ۔ در حقیقت 10ھ میں وہ اس قابل تھے کہ عرفات میں 140,000مسلمانوں کے مجمع کو خطاب کر سکیں جو کہ فریضہ حج ادا کرنےکے لیے آئے تھے:

In fact in the year 10 H., he was able to address at Arafat, a gathering of Muslims numbering about 140,000 Muslims who had come for pilgrimage. (p. 64)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حج ادا فرمایا، جس کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس حج میں اصحاب رسول کی تقریباً ڈیڑھ لاکھ تعداد جمع تھی ۔ روایت میں آتا ہے کہ آپ 9 ذی الحجہ کی صبح کو سورج نکلنے سے پہلے عرفات کی طرف روانہ ہوئے ۔ یہاں آپ نے اونٹ پر بیٹھے بیٹھے دعاکی اور سورج ڈوبنے تک دعا کرتے رہے۔ آپ اونٹ پر اس لیے سوار تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو دیکھیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو سن سکیں۔

اس موقع پر آپ نے جود عا کی وہ حدیث کی کتابوں میں تھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ تاہم اس دعا کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حاجی اس کو یاد کر لے اور اس کو لفظ بلفظ دہراتا رہے ۔ یہ دعا در اصل احساسات کو بتاتی ہے نہ کہ محض الفاظ کو ۔ اس معاملہ میں سنت کی پیروی یہ ہے کہ ہر حاجی اپنے سینہ میں وہی دینی جذبات اور وہی ربانی احساسات پیدا کرے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں موجزن تھے اور جو ان الفاظ کی صورت میں آپ کی زبان سےظاہر ہوئے۔ اس دعا کا ترجمہ یہ ہے:

اے اللہ ، تو میری بات سن رہا ہے اور تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے ۔ تو میرے چھپے اور کھلے کو جانتا ہے ۔ میری کوئی بات تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ۔ میں مصیبت زدہ ہوں۔ محتاج ہوں۔ تجھ سے فریادی ہوں ۔ تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پریشان ہوں۔ خوف زدہ ہوں۔ اپنے گناہوں کا اقرار کر رہا ہوں ۔ تجھ سے بے کس آدمی کی طرح سوال کر رہا ہوں۔ اور گنہ گار اور حقیر انسان کی طرح تیرے سامنے گڑ گڑار ہا ہوں۔ میں تجھ سے ڈرتا ہوں اور آفت رسیدہ کی مانند تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ جیسے وہ شخص جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہو اور اس کی آنکھیں تیرے لیے بہہ پڑی ہوں ۔ اور اس کا جسم تیرے آگے عاجزی کیے ہوئے ہو ۔ اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا ہو۔ اے اللہ ، تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام نہ رکھ اور تو میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا بن جا۔ اے تمام مانگے جانے والوں سے بہتر اور اے سب دینے والوں سے اچھا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 11405)۔

عرفات کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ایک رہنما دعا اور نمونہ کی دعا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تاریخی مقام پر پہنچ کر حاجی کے دل میں اپنے رب کے لیے کس قسم کے جذبات امنڈ نے چاہئیں۔ اور اس کے اندرونی وجو د کو کس قسم کی کیفیات سے بھرا ہوا ہونا چاہیے ۔ یہ اس کی روحانی بیقراری کو بتاتی ہے نہ کہ محض لسانی حرکت کو۔

عرفات کا قیام گویا آدمی کے سفر ایمان کی تکمیل ہے۔ ایک شخص کو اللہ اور رسول کی معرفت نصیب ہوئی۔ اس نے اپنی زندگی کو خد اور سول کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق ڈھال لیا۔ پھر اس کے دل میں یہ تمنا جاگی کہ وہ بیت اللہ کا حج کرے اور اپنے جذبات عبودیت کو اپنے رب کے سامنے پیش کر دے۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر روانہ ہوا۔ سفر کے دوران اس کو خدا کی یاد آتی رہی ۔ پھر مقامات حج کو دیکھ کر اس کے دینی جذبات جاگتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ عرفات کے میدان میں گویا اپنے رب کے سامنے پہنچ گیا۔

حاجی کی ان ربانی کیفیات کو خدا نے دیکھا۔ اس کی رحمتیں حاجی کے بالکل قریب آگئیں۔ اس نے اپنے بندہ کے لیے بخشش اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جب عرفہ کا دن ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ سب سے نیچے آسمان پر اتر کر فرشتوں سے فخر کے طور پر فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو ۔ وہ میرے پاس ایسی حالت میں آئے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ بدن پر اور کپڑوں پر سفر کی وجہ سے غبار پڑا ہوا ہے ۔ لبیک لبیک کہہ رہے ہیں ۔ دور دورسے چل کر آئے ہیں۔ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کے گناہ معاف کر دئے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 3853)۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فخر کے طور پر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ دیکھو ، میں نے ان بندوں کی طرف اپنا رسول بھیجا۔ وہ اس پر ایمان لائے۔ میں نے ان پر کتاب نازل کی تو انھوں نے اس کو مانا۔ تم گواہ رہو کہ میں نے ان کے سارے گناہ معاف کر دئے (کنز العمال، حدیث نمبر 12101)۔

میدان عرفات ایک اعتبار سے میدان اتحاد ہے۔ یہ حج کی عبادت کا ایک مزید پہلو ہے۔ مختلف ملکوں کے لوگ جب مقام حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تشہد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے ۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔

یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں ۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہیں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہوگئے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے۔

عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان ، رنگ ، حیثیت ، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہو گئے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ حج کا اجتماعی پہلو ہے۔ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔

_________________________________________

یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے 9 جولائی 1988 کو نشرکی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion