تباہی کا آغاز
ایوری پیڈیز (Euripides) قدیم ایتھنز کا مشہور المیہ نگار شاعر ہے ۔ وہ 484 ق م میں پیدا ہوا ، اور کم عمری میں506 ق م میں اس کی وفات ہوگئی۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ خدا جس کو تباہ کرنا چاہتا ہے سب سے پہلے اس کو دیوانہ بنا دیتا ہے:
Whom God wishes to destroy, he first makes him mad
یہ بات نہایت درست ہے ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی شخص یا قوم پر زوال آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بگڑ جاتی ہے، اور جب سوچنے کی صلاحیت بگڑتی ہے تو اس کے اقدامات بھی غلط ہو جاتے ہیں۔ اور جو لوگ غلط اقدامات کرنے لگیں ان کو پھر کوئی چیز تباہی سے نہیں بچا سکتی۔
سوچ سمجھ کا بگڑنا کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آدمی عقل کی روشنی میں رائے قائم کرنے کے بجاے جذبات کے تحت رائے قائم کرنے لگے۔ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ حقائق کی رعایت کرتے ہوئے نہ بنائے بلکہ اپنی آرزوؤں کے زیر اثر بنائے ۔ وہ گردو پیش کے دوسرے لوگوں سے بے خبر ہو جائے اور صرف اپنے آپ میں جینا شروع کر دے۔ وہ تاریخی قوتوں اور مادی اسباب کو نظر انداز کر دے اور محض اپنی خوش خیالیوں کی دنیا میں اپنا محل بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔
یہ دنیا حقائق اور اسباب کی دنیا ہے۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان ، اور اسی طرح ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ یہاں بر تر ذہین اور برتر لیاقت کا ثبوت دینے کے بعد ہی کسی کو جینے کا حق ملتا ہے۔ یہاں وہی لوگ سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی عقل کو سب سے زیادہ استعمال کریں ، جو اپنی عقل سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
کوئی شخص لمبے عرصہ تک عیش و آرام میں رہے تو اس کی عقل مفلوج ہو جاتی ہے۔ کوئی قوم بہت دنوں حاکم بنی رہے تو اس کے بعد اس کی عقلی قوتیں جامد ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وقت افراد اور قوموں کے لیے عقلی زوال کا ہوتا ہے، اور عقلی زوال آخر کار عملی زوال کا سبب بن جاتا ہے ۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی عقلی قوتوں کو دوبارہ جگا یا جائے تاکہ اس کی روشنی میں وہ اپنا سفر طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔
