کہاں سے کہاں تک

لندن کے برٹش میوزیم میں جو نادر چیزیں محفوظ ہیں ان میں سے ایک سونے کا وہ سکہ ہے جو قدیم انگلینڈ کے علاقہ مرشیا (Mercia) کے بادشاہ او فاریکس (Offa Rex) کے زمانہ میں ڈھالاگیا تھا۔ اس بادشاہ کا زمانہ 796-757ءہے۔ اس سکہ کی شکل بالکل مسلمانوں کے دینیار جیسی ہے۔ شاہ اوفاریکس کے نام کے گرد اس پر ایک عربی فقرہ درج ہے جس میں سکہ ڈھالنے کی تاریخ (674ء) اور کلمہ توحید دونوں صاف پڑھے جاتے ہیں۔ سکہ کے دوسری طرف بغداد کے دو سکہ گروں کے نام عربی رسم خط میں لکھے ہوئے ہیں۔

Charles Oman, History of England before the Norman Conquest (1910)

برٹش میوزیم میں اس قسم کی ایک اور مثال موجود ہے۔ یہ نویں صدی کی ایک آئرش صلیب ہے جس کے مرکز میں شیشہ کے مسالہ پر کوئی حروف میں ’’بسم اللہ‘‘  لکھا ہوا ہے۔

Legacy of Islam, Compiled by Sir Thomas Arnold, Oxford University Press London.

آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعت و حرفت میں اتنا آگے بڑھے ہوئے تھے کہ دوسری قو میں اندھی تقلید کی حد تک ان کی پیروی کرتی تھیں (جیسا کہ موجودہ زمانہ میں برعکس صورت میں نظر آتا ہے) اس زمانہ میں یورپ کے حکمراں اپنے سکے ڈھالنے کے لیے بغداد کے کاریگر بلاتے تھے اور اپنے سکہ پر کلمہ توحید کو مونوگرام کے طور پر لکھتے تھے، نیز عربی زبان اور اسلامی تہذیب کا اس قدر غلبہ تھا کہ اس کی چھاپ نہ صرف سکہ جیسی چیزوں پر بلکہ خالص مذہبی نشانات پر بھی دکھائی دیتی تھی۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کے مقابلہ میں مغرب کو جو صنعتی اور سائنسی فوقیت حاصل ہے وہی برعکس شکل میں کسی وقت مسلمانوں کو حاصل تھی۔ مسلمانوں نے بدویت اور شتربانی کے مقام سے آغاز کر کے ہجرت کے صرف دو سو برس بعد یہ حیثیت حاصل کرلی تھی کہ وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ایران کے اصطخر ، مصر کے رئیس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا تمدنی مرکز بغداد تھا ۔

دور اول میں اسلام کو عالمی سطح پر پھیلانے میں مسلمانوں کو جو شان دار کامیابی حاصل ہوئی اس کا سبب احتجاج اور مطالبہ کی سیاست نہ تھی، بلکہ دنیا کے لیے ان کا رحمت اور برکت بن جانا تھا۔ خدا کی اس دنیا میں جو اصول کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ جو اپنے کو نفع بخش ثابت کرے اس کو قیام اور استحکام حاصل ہو: وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17)۔ یعنی، اور رہی وہ چیز جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے، تو وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے (باقی رہتی ہے)۔ مسلمان نفع بخشی کے اس معیار پر پورے اترے، یہی وجہ ہے کہ ان کو دنیا کی امامت حاصل ہوئی ، وہ قوموں کے لیے مرجع تقلید بن گئے۔

’’صحرائے عرب کے ایک کنارے مکہ کے گم نام مقام پر اسلام نے جنم لیا‘‘ ایک متشرق لکھتا ہے اور وہاں سے نکل کر اس نے قلیل عرصہ میں مشرق قریب اور مشرق وسطیٰ کو حیرت انگیز طور پر فتح کر لیا ۔ اور پھر ایک طرف شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین اور دوسری طرف ایران کے راستے سے چین کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ مشرقی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی کی آخری حد بوڈا پسٹ ہنگری تھی جہاں آج بھی دریائے دانوب کے کنارے گل بابا کا تر کی طرز کا مزار نشانی کا کام دے رہا ہے ۔

اسی سیلاب کا کرشمہ تھا کہ وحشی عربوں نے ایک عالمی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ جہاں ایک طرف ان کی زبان اس وقت کی معلوم دنیا کے آخری کناروں تک پھیلتی چلی گئی ، وہاں دوسری طرف انھوں نے نہ صرف اس زمانے کے انسانی علوم کو حاصل کیا اور ان سے فائدہ اٹھایا بلکہ انھیں ترقی بھی دی ۔ ساتویں صدی عیسوی میں دمشق کی اموی خلافت نے عربوں کی عالمی سلطنت کی سیاسی اور اقتصادی بنیاد رکھی اور آٹھویں صدی عیسوی کے وسط میں عباسی خلافت جس کا پایہ تخت بغداد منتقل ہو چکا تھا، تاریخ کی عظیم ترین تہذیب کو وجود میں لانے کا باعث بنی۔

اس تہذیب کے علم برداروں کا مقصد اشاعت اسلام تھا مگر انھوں نے ماحول کی ہر جائز چیز کو لیا اور اس سے اسلام کو تقویت پہنچائی، یونانی اور رومی تہذیب میں خاص چیز اس کے طبیعی علوم تھے جن سے عرب اور غیر عرب مسلمانوں کو نئی نئی تحقیقات کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ وہ طبیعیات، کیمیا، الجبرا اور سائنس میں ایسے شان دار نتائج تک پہنچے کہ آج تک ان علوم کی مختلف شاخوں میں سینکڑوں فنی اصطلاحات اپنے عربی الاصل ہونے کی یاد دلاتی ہیں ۔ شروع میں وہ فلسفہ میں یونانیوں کے گویا شاگرد تھے مگر آخر میں وہ خود استاد بن گئے ۔

فلکیات کے مطالعہ کے لیے مسلمانوں نے جگہ جگہ رصد گا ہیں قائم کی تھیں اس سلسلہ میں اشبیلیہ کی رصد گاہ کے بارے میں ڈریپر نے لکھا ہے کہ مسلمانوں (Moors) کے اسپین سے ملک بدر ہو جانے کے بعد یہ رصد گاہ کلیسا کے گھنٹہ گھر میں تبدیل کر دی گئی کیوں کہ اسپینی باشندے اس کے استعمال کا کوئی اور طریقہ جانتے ہی نہ تھے۔ جغرافیہ میں نویں صدی کے نصف اول میں خوارزمی اور اس کے شر کاء کار نے معلوم کیا تھا کہ زمین کا محیط ہیں ہزار میل اور اس کا نصف قطر 6500 میل ہے۔ یہ صحت حیرت انگیز ہے ۔ دنیائے اسلام میں یہ سرگرمیاں ایسے زمانے میں جاری تھیں جب کہ سارا کا سارا یورپ زمین کے چپٹی ہونے کا قائل تھا۔

Edward Me Nall Burns, Western Civilization, p.264

جہاں تک تہذیب اور کلچر کا تعلق ہے، تیرھویں صدی کے وسط تک اسلام دنیا کے تمام ملکوں کے مقابلہ میں سب سے آگے رہا ہے۔ اسپین میں عربوں نے پختہ بازار بنوائے اور ان میں رات کو روشنی کا انتظام کیا۔ ان میں جو دولت مند تھے وہ اپنے مکانوں کو پانی کے نلوں اور فواروں کی مدد سے ٹھنڈا رکھا کرتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں مسیحی یورپ کے شہروں میں لوگوں کو کیچڑ اور اندھیرے میں دھکے کھانے پڑتے تھے۔ مسلمانوں کے یہاں شفا خانے تھے ، کتب خانے تھے ، ایسی درس گاہیں تھیں جہاں دینیات سے لے کر طب تک ہر چیز پڑھائی جاتی تھی۔دمشق ، بغداد، قاہرہ اور قرطبہ میں لکڑی ، لوہے، چاندی اور سوت کا ایسا اعلیٰ درجہ کا سامان بنتا تھا جو اسکینڈے نیویا تک کی دور درانہ ریاستوں میں جاکر مہنگے داموں بکتا تھا ۔ اس زمانہ میں یورپ کا ٹکنکل علم اور اس کی سائنس عرب مسلمانوں کے مقابلہ میں بالکل ہیچ تھی ۔

علوم کی تمام شاخوں میں مسلمان اتنے آگے تھے کہ یورپ کے لیے ان کی تقلید کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بریفالٹ نے لکھا ہے کہ ’’ راجر بیکن نے عربی سائنس سیکھی تھی ۔ نہ تو راجر بیکن کو اور نہ اس کے بعد اس کے کسی ہم نام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ تجربی طریق کی ترویج کا سہرا اس کے سر باندھا جائے۔ راجر بیکن کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ مسیحی یورپ میں مسلم سائنس اور طریقہ کا مقلد اور مبلغ تھا۔ وہ یہ اعلان کرنے سے کبھی نہ تھکتا تھا کہ اس کے ہم عصروں کے لیے حقیقی علم تک رسائی حاصل کرنے کا کوئی راستہ عربی سائنس کے سوا نہیں ہے :

Briffault, The Making of Humanity.

بارھویں صدی کے آخر تک ابن رشد کو یورپ میں اس قدر مقبولیت ہوگئی اور اس کا فلسفہ راسخ عیسائیوں کے حق میں اتنا ز بر دست خطرہ بن گیا کہ 1210ء میں پیرس یونیورسٹی کونسل کو ارسطو کی طبیعی تاریخ اور اس پر لکھی ہوئی ابن رشد کی شرحوں کی تعلیم و تدریس کو ممنوع قرار دینا پڑا۔ اگرچہ ایک صدی بعد اسی یونیورسٹی کا یہ حال ہوا کہ اس نے اپنے فارغ التحصیل طلبہ کو حلف دینا شروع کر دیا کہ وہ صرف ان چیزوں کی تعلیم اور تدریس کریں گے جو ابن رشد کی شرح کے مطابق ارسطو کے خیالات سے ہم آہنگ ہو۔ (راشڈل، یونیورسٹیز ، صفحہ 368)

ابن رشد نے یورپ کے دماغ پر چار سو سال سے زیادہ عرصہ تک حکمرانی کی اور اطالوی نشاۃٔثانیہ کی بنیادیں اسی نے رکھیں ۔ کولٹن ابن رشد کی اثر انگیزی کا موازنہ موجودہ زمانے میں ڈارون کی اثر انگیزی سے کرتا ہے مگر اس موازنہ کے درست اترنے کے لیے ڈار وینیت کوکو ابھی مزید تین سو سال تک زندہ رہنا ہو گا۔

سترھویں صدی کے آخر میں اسلام کی فوجی طاقت کو دھکا لگتا ہے اور اٹھارویں صدی میں یورپ کی فوج سائنس، مسلمان اقوام کے فن جنگ پر قطعی طور پر سبقت لے جاتی ہے۔ اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ ایک انگریزی دستہ نے ہندستان کے مسلم فرماں روا کی دس ہزار فوج کو شکست دی۔ کیوں کہ مؤ خر الذکر نے پچھلے ڈیڑھ سو سال میں نہ تو سامان جنگ میں اور نہ فن جنگ میں ترقی کا کوئی قدم آگے بڑھایا تھا۔ مسلمانوں کی زبر دست سلطنتیں یورپی فوجوں کے حملہ کی تاب نہ لاکر پاش پاش ہو گئیں اور ایشیا اور افریقہ ، جہاں اسلام کو غلبہ حاصل تھا یورپ کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ یورپ میں فلسفہ، علم السنہ، علم آثار قدیمہ اور تاریخ تہذیب کے ذخیرے بڑھتے چلے گئے۔ ان سے بھی بڑھ کر یورپ کی ٹیکنکل ایجادات کا وہ لامتناہی سلسلہ تھا جنھوں نے پوری زندگی کی کایا پلٹ دی۔ یورپ نے ان ایجادات کی مدد سے اسلامی مشرق کو پہلے اقتصادی طور پر اور اس کے بعد سیاسی طور پر غلام بنالیا۔ مشینی صنعت نے جدید طرز پر منظم یورپ کی مصنوعات سے اسلامی دنیا کے بازاروں کو ، جو اس وقت تک قرون وسطی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے ، اس طرح بھر دیا کہ مشرق کی ہاتھ سے بنی ہوئی مصنوعات ان مشینی مصنوعات کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر ختم ہوگئیں ۔

اس تمام عرصہ میں اسلامی مشرق گہری نیند سوتا رہا۔ ہنگری نژاد ڈاکٹر عبد الکریم جرمانوس کے الفاظ میں ’’ ابن خلدون کے بعد جس کا انتقال 1406 میں ہوا، اسلامی مشرقی نے دنیا کے سامنے پہلے کی طرح اعلیٰ پیمانے کے تخلیقی کارنامے پیش نہیں کیے ۔ اس کی صنعتیں زمانے سے پیچھے رہ گئیں۔ اس کی اقتصادی زندگی خام اجناس پیدا کرنے والی ابتدائی زرعی معیشت کی دیہی رومانی فضا میں کھوئی رہی۔ مسلمانوں کی درس گاہوں میں آج بھی وہی درسی کتا میں پڑھائی جاتی تھی۔ جو ایک ہزار سال پہلے پڑھائی جاتی تھیں ۔

اٹھارھویں صدی کی ابتدا میں یورپی عالموں نے مشرق قدیم کے زیر زمین مدفون آثار اور اس کی ادبی یادگاروں کی تلاش شروع کی۔ وہ انھیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر باہر لائے اور دنیا کو ان سے متعارف کرایا۔ یہاں تک کہ آج اس کرہ زمین میں کوئی ایسا مخفی کو نہ موجود نہیں ہے جس میں بسنے والے انسانوں کی صحیح صحیح نسلی خصوصیات یورپی علما کے ہاتھوں جمع کی ہوئی ہمیں پڑھنے کو نہ مل جائیں ۔

ڈنمارک کے ماہر آثار قدیمہ نیوبر کو جب اٹھارھویں صدی کے نصف آخر میں یمن کے کتبات ملے تو عرب کا کوئی شیخ انھیں پڑھ کر سمجھ نہیں سکتا تھا۔ اس کو ان کتبات کی نقلیں جرمنی کے شہر ریسکے میں بھیجنی پڑیں ۔ جہاں سے فوراً ان کا صحیح حل بھیج دیا گیا۔ عرب کی تاریخ ، عربی علم اللسان، عرب کا جغرافیہ اور عربی میں علوم دینیہ کی کتابیں یورپی علما نے قابل اعتماد طریقہ پر چھاپیں اور بقول ڈاکٹر جرمانوس ’’آج بھی یورپ ہی وہ سرزمین ہے جہاں عرب، ایرانی اور ترک طلبہ یورپی استادوں کی زیر نگرانی اپنے کلچر کا خصوصی مطالعہ کرنے کے لیے آتے ہیں ‘‘۔

جہاں یورپ بغیر کسی بندش کے آزادانہ آگے بڑھتا رہا، اسلام کے حامل جمود میں مبتلا رہے۔ ایک وقت تھا کہ پادریوں اور راہبوں نے عربی ذرائع سے اپنا مسیحی علم کلام پڑھا تھا۔ ساتویں صدی ہجری میں موصل میں کمال الدین بن یونس اور دمشق میں عزالدین ازبلی عیسائیت کے اتنے بڑے عالم تھے کہ عیسائی ان سے اپنے مذہب کی کتابیں پڑھتے تھے۔ وہ توریت اور انجیل کی اتنی اعلیٰ تعلیم دیتے تھے اور اس خوبی سے ان کی شرح کرتے تھے کہ اس زمانے کے عیسائی علما بھی ایسی تعلیم نہ دے سکتے تھے۔ اس کے بعد جب زوال آیا تو یہ عالم ہوا کہ ترکوں کے اقتدار کے زمانہ میں مصر کے ایک شخص کو اپنے لڑ کے کی تعلیم کے لیے ایک عیسائی راہب کو مقرر کرنا پڑا۔ آج بھی مسلمان نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے مغربی یونیورسٹیوں میں داخلے لے رہے ہیں۔

بعد کے زمانے میں مشرق محض قدیم کتابوں کی خشک تشریحات اور ان کی نقلیں کرنے میں لگارہا۔ اس نے اپنے آپ کو اس حد تک ماضی کے حوالے کر دیا کہ وہ اس کے اندر محدود ہو کر فرسودگی کی نذر ہوگیا۔ ایک زمانہ تھا کہ عباسی دور میں کاغذ سازی ایک گھریلو صنعت بن چکی تھی یا اب یہ حال ہوا کہ یورپ میں صدیوں تک چھا پہ خانوں میں کتا بیں چھپتی رہیں اور اس کے بعد کہیں جا کر 1729ء میں ترکی کے شیخ الاسلام نے باقاعدہ فتوے کے ذریعے کتابوں کے چھاپہ خانہ کو عمل شیطانی کے الزام سے بری ہونے کا اعلان کیا۔ مسلمان جو کسی وقت علم طب کے امام تھے وہ چیچک کے ٹیکہ کو خوف زدہ نظروں سے دیکھنے لگے ۔ حتٰی کہ علی الاعلان کہا گیا کہ چوہوں اور بیماریاں پھیلانے والے دوسرے جانوروں کو مارنا دراصل اجنبیوں کا ایک بہانہ ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے زنان خانوں میں داخل ہو کر ان کی عورتوں کی بے حرمتی کریں۔ انگریزی زبان کو شیطان کی زبان کہا گیا اور دو سو برس تک اس کا پڑھنا ممنوع رہا۔ اسلام کا دینیاتی نظام آج بھی ارسطو کی منطق پر مبنی ہے جس کو جدید دنیا کے علما منطق کب کا رد کر چکے ہیں، ایک مستشرق کے الفاظ میں :

’’منصور حلاج کی زندہ کھال کھینچی گئی کیوں کہ اس نے اپنے اندر خدا کو پایا تھا۔ باب کو 1850 میں ایران میں اس لیے گولی سے مار دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو امام موعود سمجھتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انکشاف کیا کہ مسیح اور کرشن کی روح ان کے اندر حلول کر گئی ہے ۔ مگر یہ لوگ جو مابعد الطبیعیاتی دنیا میں اتنی بلند پروازی دکھا رہے تھے ان میں کوئی ایک بھی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو انسانیت کو سائنٹفک علوم میں کوئی نیا طریقہ یا کوئی نئی دریافت دیتا‘‘۔

جو قوم قدیم زمانہ میں سربلندی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچی تھی ، وہ موجودہ زمانہ میں تمام قوموں سے پیچھے کیوں ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانہ میں اس نے اپنے آپ کو اور اپنی امکانیات کو استعمال ہی نہیں کیا ۔

مسلمان پچھلے سو سال سے ان قوموں کے خلاف لڑائی بھڑائی میں مشغول ہیں جنھوں نے ان کے اوپر غلبہ حاصل کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کی ترقی کی اصل رکاوٹ دوسرے لوگ ہیں۔ اس لیے جب تک ان دوسروں کے اوپر قابو نہ پایا جائے، ترقی کی سمت میں اپنے سفر کا آغاز نہیں کیا جاسکتا۔ یہی ذہن ہماری ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس کی وجہ سے ابھی تک مسلمانوں کے درمیان ان کی تعمیر نو کا آغاز ہی نہیں ہوا۔ جب آپ کا ذہن یہ ہو کہ کچھ خارجی دشمن ہیں جو آپ کے راستے کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں تو ان دشمنوں کو ختم کرنے سے پہلے آپ کے اندر یہ ذہن ہی نہیں ابھرے گا کہ آپ کو اپنے راستہ پر اپنا سفر شروع کرنا چاہیے۔

امریکہ نے 1945 میں جاپان میں بم گرا کر اس کو تباہ کر دیا اور اس میں اپنی فوجیں اتار دیں ۔ جاپان کے اوپر امریکہ کا فوجی اور سیاسی قبضہ ہو گیا۔ جاپانی اگر امریکہ کو اپنے مصائب کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف لڑائی جاری کر دیتے تو انھیں دوبارہ اپنے مستقبل کی طرف سفر کے لیے کوئی آغاز نہ ملتا۔ وہ بس سیاست کی شمشان بھومی پر قربانیاں دیتے رہتے۔ مگر انھوں نے امریکی قبضہ کو تسلیم کر لیا ۔ اس کا فوری فائدہ یہ ہوا کہ ان کو معلوم ہو گیا کہ اپنی تعمیرنو کا آغاز انھیں کہاں سے کرنا چاہیے۔ انھوں نے فوجی اور سیاسی میدان کو امریکہ کے حوالے کر کے دوسرے میدانوں میں یکسوئی کے ساتھ اپنی جدو جہد شروع کر دی۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا وہ یہ کہ صرف 25 سال میں جاپانیوں کو نہ صرف دوسرے دائروں میں غلبہ حاصل ہو گیا بلکہ خود اس دائرہ میں بھی جس کو ابتداء ً انھوں نے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion