دوگونہ غلطی
جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حدتک غیرمفیدبن چکاتھا۔مگر دو سو سال کانا کام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بےخبری کوتوڑنےوالاثابت نہ ہوسکا۔انیسویں صدی اور بیسویں صدی کومکمل طورپرکھونےکےباوجوداکیسویں صدی میں بھی وہ سلطانی دورکےاس فرسودہ ماڈل ہی کوبظاہرمعیاری ماڈل سمجھ رہےہیں۔
دورجدیدمیں ناکام سلطانی ماڈل کودہرانےکی دوقسمیں ہیں۔اس کی پہلی قسم ہے، حکمراں کےذریعےسلطانی ماڈل کواپنانا اور اس کی دوسری قسم ہے،غیرحکومتی افرادیا جماعتوں کےذریعہ اس ماڈل پرعمل کرنا۔
سلطان ٹیپوپہلی قسم کی ایک مثال ہیں جنہوں نے حکمراں کی سطح پراسےناکام طور پردہرایا۔وہ قدیم سلطانی ماڈل سےباہرآکر معاملے کوسمجھ نہ سکے۔ 1799ء میں وہ انگریزوں کے خلاف ایک ناعاقبت اندیشانہ جنگ لڑکرہلاک ہوگئے۔ موجودہ زمانے میں عراق کے صدر صدام حسین کی زندگی بھی اسی سلطانی ماڈل کواختیارکرنےکی ایک ناکام مثال ہے۔
اس کے بعد اس سلطانی ماڈل کےنام پرتجربہ کی دوسری قسم شروع ہوتی ہے۔یہ دوسری قسم وہ ہے جب کہ غیرحکومتی تنظیموں نے اپنے مفروضہ دشمنوں کےخلاف لڑائی شروع کردی۔دوسری قسم کی اس لڑائی کاغالباًپہلاواقعہ وہ ہے جو 1831ءمیں پیش آیا۔جب کہ مولانا سید احمد بریلوی اوران کےساتھیوں کاقافلہ مہاراجہ رنجیت سے لڑکر بالاکوٹ میں تباہ ہوگیا۔
اس کے بعد 1857ء میں اس نوعیت کا بڑا واقعہ وہ ہواجب کہ علما ہند کی جماعت نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ اس کے بعد غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کے ناکام تجربہ کا ایک طویل سلسلہ قائم ہوگیا جو تادم تحریر جاری ہے۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان اور دوسرے بہت سے مقامات پر جہاد کے نام پر جو تباہ کن مسلح ٹکراؤ ہورہاہےوہ سب اسی دوسرےقسم کےتجربہ کی مثالیں ہیں۔
سلطانی ماڈل کےتجربہ کی دوسری قسم جوغیرحکومتی تنظیموں کےذریعہ گوریلاوار، پر اکسی وار، وغیرہ کی صورت میں شروع ہوئی،وہ پہلی قسم سےبھی زیادہ مہلک تھی۔اس میں بیک وقت دوغلطیاں شامل ہوگئیں۔دعوتی دورمیں سلطانی ماڈل کے طریقے کو اختیار کرنے کی خلاف زمانہ کوشش،دوسری اس سےزیادہ سنگین بات یہ کہ یہ طریقہ شرعی اعتبار سے سراسر غلط تھا۔
کیوں کہ ثابت شدہ طورپرمسلح جنگ صرف قائم شدہ حکومت کاحق ہے، غیرحکومتی تنظیموں کے لیے یہ جائزہی نہیں کہ وہ کسی کودشمن بتاکر اس کے خلاف مسلح ٹکراؤشروع کردیں۔ پہلی قسم میں سلطانی ماڈل کاتجربہ اگرصرف نادانی تھاتودوسری قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ نادانی کے ساتھ شریعت سے انحراف کے ہم معنی بن گیا۔
یہی وہ دوگونہ غلطی ہے جس نےموجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں کےمسلح جہاد کو سراسر ناکام بنادیا۔ اس کا سبب کسی غیرقوم کی سازش نہیں جیساکہ اکثر علما اور دانشور بےدلیل طور پر اعلان کرتے رہتے ہیں۔ سلطانی ماڈل ہرایک اعتبارسےدعوتی ماڈل سے مختلف ہے۔ دعوتی ماڈل مکمل طورپراسلام کےموافق مزاج بناتاہے۔اس کےبرعکس، سلطانی ماڈل ایسامزاج بناتاہےجوہرپہلوسےاسلامی تقاضوں کےبالکل خلاف ہو۔
اس معاملہ کی ایک مثال کشمیراورپاکستان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا تصور مکمل طور پر سلطانی طرزفکرکانتیجہ تھا۔پاکستانی لیڈروں کےذہن میں اگردعوتی ماڈل ہوتاتووہ ہرگز جغرافی تقسیم کی بات نہ کرتے۔ایسی صورت میں وہ اس کوخداکی ایک رحمت سمجھتےکہ متحد ہندستان کی صورت میں ان کوگویاایک پورابراعظم میدان کارکےطورپرمل رہاہے۔ان کے ذہن میں ماضی کاسلطانی ماڈل بساہواتھا۔سلطانی ماڈل میں سارافوکس صرف سیاسی اقتدار پر ہوتا ہے، مواقع دعوت یامواقع کارکی سلطانی ماڈل میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔اس بےشعوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نےتقسیم کی تحریک چلا کر سارے برصغیر ہند میں نفرت (بالفاظ دیگر،مخالف دعوت) کا جنگل اگا دیا۔ سارے دعوتی امکانات مسدود ہو کر رہ گئے۔
اس غیراسلامی اورغیرحکیمانہ سیاست کادوسرادور1947ءسےشروع ہوتا ہے۔ پندرہ اگست 1947کو جب یہ علاقہ انگریزی اقتدار سے آزاد ہوا تو یہاں دو بڑے ریاستی مسئلے تھے۔ ایک حیدرآبادکااوردوسراکشمیرکا۔ریاست حیدرآبادمیں ہندو اکثریت تھی مگرحکمراں مسلمان تھا۔اس کےبرعکس ریاست کشمیرمیں مسلم اکثریت تھی مگرحکمراں ہندوتھا۔اب یہ سوال تھاکہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدرآباد کے نواب نےاپنارسمی الحاق پاکستان سےکرلیا۔اس کے برعکس، کشمیرکےراجہ نےہندستان کے ساتھ الحاق کے کا غذات پر دستخط کردیے۔
اس نزاع کوختم کرنےکےلیے نئی دہلی کی لیڈرشپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔ اس نےپاکستانی لیڈروں سےکہا کہ تم حیدرآباد سے اپنا دعویٰ واپس لےلواورہم کشمیر سے دعویٰ واپس لےلیں۔اس طرح یہ نزاع ختم ہو جائےگی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستے پر اپنا سفر شروع کردیں گے۔
ہندستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائیدمیں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجودتھی۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (8:61)۔ یعنی، اگر فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے توتم فوراً اس پیشکش کوقبول کرلو۔مگرپاکستان کےلیڈرجو سلطانی ماڈل سےمسحورکن حدتک متاثرہونےکی وجہ سےحاکمانہ نفسیات کاشکارتھے،وہ اس قیمتی پیشکش کوقبول نہ کرسکے۔ اس کے بعد جوبےپناہ تباہی آئی وہ ہرایک کےلیے ایک معلوم واقعہ ہے۔
کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ ناقابل فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔اس معاملے کوحسب ذیل کتابوں میں تفصیل کےساتھ دیکھاجاسکتاہے:
1. Looking Back by Marchand Mahajan.
2. Witness to an Era by Frank Morris.
3. Emergence of Pakistan by Chaudhary Mohali.
4. The Nation that Lost its Soul by Sardar Shaukat Hayat khan.
پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیرکےمسئلہ کومیزکی گفت وشنیدکےذریعے حل کرسکیں۔اس کےبعدانہوں نےشدیدترغلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کواستعمال کرکےاس مسئلہ کےحل کاخواب دیکھنےلگے۔پہلےانہوں نےبراہ راست مسلح اقدام کےذریعہ ہندستان سےفوجی ٹکراؤکیا۔مگراس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ان کی سلطانی نفسیات اب بھی حقیقت پسندی کاراستہ اختیارنہیں کرسکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نےکشمیرمیں ہندستان کےخلاف وہ خفیہ جنگ شروع کردی جس کوپراکسی وار (proxy war)کہاجاتاہے۔حالانکہ یہ پراکسی وار نہ صرف پاکستان اور کشمیر دونوں کی تباہی کاذریعہ تھی بلکہ وہ اسلامی شریعت کےاعتبارسےیقینی طورپرناجائزبھی تھی۔کیوں کہ اسلام میں کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اعلان ضروری ہے:فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ (8:58)۔
ہندستان کےخلاف اس غیراسلامی اورغیردانش مندانہ جنگ کودرست ٹھہرانے کے لیے پاکستان نے دوسری شدید تر غلطیاں کیں۔ مثلاً پاکستان نے اپنی خارجہ سیاست اور اپنے میڈیا کو مکمل طور پر ہندستان کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف نفرت پھیلا نے کا کار خانہ بنادیا۔ کشمیرکی گوریلاواریاپراکسی وار میں پوری طرح شامل ہونے کے باوجودوہ مسلسل طور پر اس قول زور کا سہارا لیتا رہا کہ اس جنگجوئی سے ہمارا کوئی عملی تعلق نہیں۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی جنگجوئی پوری طرح پاکستان کی مدد سے جاری ہے۔ اسی طرح ظاہری طور پر اپنے آپ کو پُرامن قوم بتانے کے لیے پاکستانی لیڈروں نے باربار امن کےمعاہدہ پردستخط کیے— معاہدہ تاشقند (1965)، معاہدہ شملہ (1976)، معاہدہ لاہور (1998)۔
اس قسم کےتمام معاہدےاوراعلانات بھی پاکستانی لیڈروں کےغیردعوتی ذہن کاشکارہوتےرہے۔ کاغذکےاوپر انہوں نےبارباریہ لکھاکہ کشمیر کےمسئلہ کوجنگ کے بجائے پُرامن گفت وشنیدکےذریعہ حل کیاجائے۔مگریہ معاہدے غالباً دنیا کو دکھانے کے لیے تھے۔کیوں کہ انہوں نےکسی بھی معاہدہ کےبعداپنی خفیہ جنگی کارروائی کو بند نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کےمطابق،معاہدہ کی لفظی اورمعنوی پابندی اہل اسلام کےلیے ضروری ہے:وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا (17:34)۔
پاکستان کے لیڈر اگر اپنے سلطانی ماڈل سےباہرآئيں اوردعوتی ماڈل کو بنیاد بناکر سوچیں توانہیں معلوم ہوگاکہ ان کے لیے قرآن میں واضح رہنمائی موجودہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بہرحال ہر فرد اور قوم کومصیبت کاتجربہ ہوتا ہے۔یہاں انسان کوکیاکرناچاہیے۔اس کاجواب قرآن کی اس آیت سےمعلوم ہوتا ہے— لِكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ (57:23)۔یعنی، تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔
قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کےلیے یہ رہنمائی ہےکہ کشمیرکووہ اسی طرح اختیارانہ طورپرکھوئےہوئےخانے میں ڈال دیں،جس طرح وہ1971میں مشرقی پاکستان کومجبورانہ طورپرکھوئےہوئےخانے میں ڈال چکےہیں۔کشمیرمیں اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کوختم کردیں۔دوسرےلفظوں میں یہ کہ کشمیرکےمعاملے میں صورت موجودہ (status quo) کو مان کر ہندستان سے معتدل تعلقات قائم کرلیں اور منفی سیاست کاطریقہ چھوڑ کر مثبت سیاست کاطریقہ اختیارکریں۔اس طرح ان کی ترقی کاوہ دروازہ کھل جائےگاجوآدھی صدی سےبھی زیادہ مدت سےان کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔
