الٹی سوچ
کوئی فرد یا گروہ تشدّد کیوں کرتا ہے، اپنے کسی حق کےحصول کے لیے۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے یہ سوچ بالکل الٹی سوچ ہے۔ کیوں کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تشدّد کے ذریعہ ہم کھوتے ہیں اورامن کےذریعہ ہم حاصل کرتےہیں۔
Through violence we lose, through peace we gain.
ہٹلراوراسٹالن جیسےبہت سےڈکٹیٹروں نےبہت بڑے پیمانے پر تشدّد کیا، اپنے خیال کےمطابق،اپنےمفروضہ مقصدکو حاصل کرنے کے لیے۔ مگر بلا استثنا ہر ایک تشدّد کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔
یہی معاملہ خود مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقہ کے مسلمانوں نے بزعم خود انصاف کے لیے یااپنےحقوق کےلیے تشدّد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلا۔ تشدّد کے آغاز میں وہ جہاں تھے، تشدّد کے آخر میں وہ اس سے بھی زیادہ پیچھے چلے گئے۔
اس کی ایک مثال فلسطین کامسئلہ ہے۔اعلان بالفور(Balfour Declaration) کے تحت 1948 میں یہودیوں کوفلسطین کاایک تہائی حصہ دیا گیا۔ اس کےمقابلےمیں عربوں کو فلسطین کا دو تہائی حصہ حاصل ہواجس میں پورایروشلم بھی شامل تھا۔مگرعربوں نے اس تقسیم کو قبول نہیں کیا اور اعلان کیا کہ ہم یہودیوں کو سمندر میں ڈھکیل دیں گے۔
عربوں کی یہ جدوجہدابتداءہی سےتشدّدکےراستہ پرچل پڑی اورآج تک اسی راستہ پرچل رہی ہے۔ مگربےپناہ جانی اورمالی قربانی کےباوجوداس کانتیجہ عربوں کوصرف ذلت اور محرومی کی صورت میں ملا، ایک روایت میں آیا ہے کہ:إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ(صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی، اللہ نرمی پروہ چیزدیتاہےجووہ سختی پر نہیں دیتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خدانےاس دنیا کے لیے جو قانون مقررکیاہےاس کےتحت یہاں کامیابی صرف پُرامن طریق کارمیں لکھ دی گئی ہے، پر تشدّد طریق کار کے ذریعہ یہاں کسی کو کامیابی ملنے والی نہیں۔
ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ (صحیح مسلم،حدیث نمبر1742)۔ یعنی، دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنانہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہےکہ اگرکسی کے ساتھ عداوت کے اسباب پیدا ہوں تو اس کےمقابلے میں تمہاری جوابی منصوبہ بندی امن کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ تشدّد کی بنیاد پر۔
اصل یہ ہے کہ آدمی جب بھی تشدّد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر ایسا کرتا ہے۔ وہ ضد اور انتقام کی نفسیات کےتحت تشدّدکےراستے پرچل پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کےمواقع پراپنےمنفی جذبات کوقابومیں رکھے،وہ حقیقت پسندانہ انداز میں پورے معاملہ کا بے لاگ جائزہ لے کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے تو وہ کبھی تشدّد کا طریقہ اختیار نہیں کرےگا۔ وہ ہرحال میں امن کےحدودمیں رہ کراپنی کارروائی کرےگا۔ خواہ امن کا طریقہ اختیار کرنے میں ابتدائی طور پر اس کو کچھ محرومی کو برداشت کرنا پڑے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پُرامن طریقہ اختیار کرنے میں بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کو کچھ نقصان برداشت کرنا پڑےگا۔ لیکن اگر اس کے اندر غیر متاثر سوچ ہو تو وہ اس کو بتائےگی کہ تھوڑے نقصان کو برداشت کرلو تاکہ تمہیں بڑے نقصان کو برداشت نہ کرنا پڑے۔ جو کچھ کھویا جا چکا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں ایسا نہ ہوکہ جو کچھ اب بھی حاصل ہے اس کو بھی کھو دینا پڑے۔
