سیاست کے لیے جوش و خروش
دعوت کے لیے سرد مہری
ضیاء الدین احمد برنی، مولانا محمد علی جوہر کے رفیق خاص تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
’’جنگ طرابلس اور جنگ بلقان نے مولانا محمد علی جوہر کو بہت پریشان رکھا۔ وہ ترکوں کی پے درپے ہزیمتوں سے بے حد مغموم تھے۔انہوں نے ان کے مصائب کو ہلکا کرنے کی غرض سے ڈاکٹر انصاری کی سرکردگی میں طبی مشن روانہ کیا۔ پہلی جنگ بلقان (1918ء) کے بعد جب فاتحین میں تقسیم غنیمت پر جھگڑا ہوا، اور دوسری جنگ بلقان برپا ہوئی تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ترکوں نے ایڈریا نو پل پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس وقت عالم اسلام میں غیر معمولی خوشی کی لہردوڑ گئی۔ یہ خبر جب رائٹر کے ذریعہ دہلی پہنچی تو اس وقت رات بہت زیادہ گزر چکی تھی۔ مگر مولانا کی ترک دوستی کا اندازہ کیجیے کہ انہوں نے اس کا انتظار نہیں کیا کہ یہ خبر دوسری صبح کو اخبارات کے ذریعہ لوگوں تک پہنچے۔ چند رفقا کار کو لے کر سیدھے جامع مسجد پہنچے اور راستے بھر چلا چلا کر مسلمانوں کو یہ روح افزا خبر پہنچاتے رہے۔ ناوقت ہونے کے باوجود جامع مسجد میں ہزارہا آدمیوں کا اجتماع ہو گیا۔ مولانا نے وہاں درد انگیز تقریر کر کے اس خبر کی اہمیت کو واضح کیا۔ وہ رات بھی کیسی ہیجان انگیز تھی۔
)مولانا محمد علی،1976، مرتبہ سید نظرترنی، صفحہ 89(
ہماری جدید تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے جو بتاتے ہیں کہ سیاسی اور جذباتی امور کے لیے مسلمانوں میں کس قدر جوش و خروش پیدا ہو گیا تھا۔ مگر خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کے لیے ان میں کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوئی ’’رائٹر‘‘ کی سیاسی خبریں انہیں بے چین کر دیتی تھیں۔ مگر قرآن کی اخروی خبروں نے انہیں بے قرار نہیں کیاکہ اس کے لیے وہ اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور ساری قوموں کو بتاتے کہ اے لوگو، تم مرنے والے ہو اور مرنے کے بعد تم کو خدا کے یہاں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کی بربادی کی واحد وجہ یہی ہے کہ انہوں نے پیغام بری کا وہ کام نہ کیاجو خدا نے ان کے اوپر فرض کیا تھا اور ظاہر ہے کہ جو خادم اپنی اصل ڈیوٹی سے ہٹ جائے وہ خواہ کسی اور کام میں کتنی ہی جانفشانی دکھائے، بہرحال وہ سزا کا مستحق ہو گا ، نہ کہ انعام کا۔
