کمال پیدا کیجیے
25مارچ 1992 کو ملبورن میں ورلڈ کرکٹ کپ کا فائنل مقابلہ تھا۔ پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیا ۔ پاکستان کی ٹیم کو یہ غیر معمولی کامیابی اس کی ٹیم کے کیپٹن عمران خان کی قیادت کے تحت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا سے عمران خان کے لیے مبارک باد کے پیغامات کا سیلاب امنڈ پڑا ۔ ٹائمس آف انڈیا (26مارچ) نے اس خبرکی سرخی ان الفاظ میں قائم کی :
Pakistan rule the world with a flawless display.
اس سلسلے میں ہندستان کے مشہور کھلاڑی مسٹر منوج پر بھاکر کا انٹرویو اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ اس کو ویڈیومیگزین اسپورٹس چینل (Sports Channel) نے ریکارڈ کیا تھا۔ مسٹر پر بھاکر نے کہا :
India needed an Imran Khan-like captain to motivate the team. I think there should be some gap like age between the team and captain. You can see the way Imran is doing his job. He is marvelous. We need that type of captain who can be a good leader. That is what we need. Otherwise, we have the best team.
انڈیا کو عمران خان جیسے ایک کیپٹن کی ضرورت ہے جو ہماری ٹیم کو متحرک کرے میرا خیال ہے کہ ٹیم اور کیپٹن میں عمر کی طرح کچھ فرق ہونا چاہیے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عمران کس طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ ایک حیرت انگیز شخص ہیں۔ ہم کو اس قسم کے کیپٹن کی ضرورت ہے جو ایک اچھاقائد بن سکے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے پاس بہترین ٹیم ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا ، ہندستان ٹائمس، 26 مارچ 1992 )
انسان کمال کو پسند کرتا ہے کوئی شخص کمال کا مظاہرہ کرے تو دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ کمال موافقت اور مخالفت سے بلند ہو کر اپنے آپ کو منوا لیتا ہے۔ کسی بھی میدان میں اگر آپ کمال پید اکرلیں تو انسان آپ کی قدردانی اور اعتراف پر مجبور ہو جائے گا ، خواہ بظاہر آپ غیر قوم کے فرد کیوں نہ ہوں ۔
