قومی عظمت
رومی شہنشاہیت کا زوال (Decline and fall of the Roman Empire) ایڈورڈگبن کی مشہور کتاب ہے۔ انگریز مورخ کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کیوں کر پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا خیال اس کو اس وقت آیا جب کہ اس نے روم کے کھنڈرات دیکھے۔ رومی شہنشاہیت کے کھنڈرات میں اس نے یورپ کی عظمت ماضی کا نشان دیکھا۔ اور اس کے برباد ہو جانے کا مشاہدہ کیا۔
اس مشاہدہ نے ایڈورگبن کے دل میں تڑپ پیدا کی۔ وہ اس موضوع کی تحقیق میں لگ گیا۔ یہاں تک کہ اس نے وہ کتاب لکھی جو کہ نہ صرف رومی سلطنت کی اہم تاریخ ہے بلکہ خود تاریخ نویسی پر خالص فنی اعتبار سے ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح تاریخ کے موضوع پر سرسید کی مشہور کتاب آثار الصنادید(1847ء) ہے۔ سر سید کو اس کتاب کے لکھنے کا خیال بھی عظمت ماضی کے ’’کھنڈرات‘‘ کو دیکھ کر ہوا۔ دہلی کی منصفی کے زمانہ میں سرسید نے دہلی کی تاریخ عمارتیں دیکھیں۔ ان عمارتوں میں انہوں نے سنسان عظمت کا جو مشاہدہ کیا اس نے ان کے اندر ایک تڑپ پیدا کر دی۔ انہوں نے دہلی کی ایک ایک عمارت کی تحقیق شروع کر دی۔ چھٹیوں کو وہ اس طرح استعمال کرتے کہ دہلی کے اطراف کی عمارتوں کو دیکھنے نکل جاتے اور کئی کئی دن تک ان کی تحقیق میں مشغول رہتے۔
اس تحقیق میں انہوں نے غیر معمولی محنت کی۔ بہت سی قدیم عمارتیں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ ان کے کتبے بھی بوسیدہ ہو چکے تھے۔ بہت سے کتبوں سے پوری معلومات حاصل نہیں ہوتی تھیں۔ کچھ کتبے ایسے خط میں تھے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔ کتبوں پر جو نام درج تھے ان کی تاریخی کتابوں سے تحقیق کرنی پڑتی تھی۔ انہوں نے ان تمام مشکلات کو جھیلا۔ انہوں نے ہر عمارت کے طول و عرض کی پیمائش کی۔ اس کے حالات لکھے۔ کتبوں کے چربے اتارے۔ ہر عمارت کا نقشہ مصور سے بنوایا کیوں کہ اس زمانہ میں کیمرہ موجود نہ تھا۔ اس طرح انہوں نے تقریباً سوا سو عمارتوں کی تفصیلات مرتب کیں۔
قطب مینار کی غیر معمولی بلندی قدیم زمانہ میں کسی محقق کے لیے زبردست مسئلہ تھی۔ سر سید نے قطب مینار کے اونچے کتبوں کو پڑھنے کے لیے دو بلیاں لگوا کر ان میں چھین کے شکوائے اور اس کے اندر بیٹھ کر اوپر گئے اور کتبوں کی نقل تیار کی۔ مولانا حالی نے لکھا ہے کہ سر سید کی آئندہ ترقیات کی گویا یہ پہلی سیڑھی تھی اور ان کی یہ حالت بالکل ابو تمام کے اس شعر کی مصداق تھی:
وَيَصْعَدُ حَتَّى يَظُنَّ الوَرَىٰ بَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي السَّمَاءِ
یعنی، وہ اس طرح اوپر چڑھ رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کو آسمان میں کچھ ضرورت ہے۔
عظمت ماضی کے کھنڈر کو دیکھ کر جس طرح گبن اور سرسید مورخ بن گئے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن کو عظمت ماضی کے کھنڈر نے لیڈر اور مفکر بنا دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ مسلمانوں کو زوال آ چکا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے دور عظمت کے کھنڈر دیکھے۔ ان کھنڈرات کو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھے۔ کھوئی ہوئی عظمت کے شکستہ مناظر کو دیکھ کر ان کا دل پار پارہ ہوگیا۔
قائدین کی بھیڑ میں کوئی نظر نہیں آتا جس نے جنت کے باغوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھا ہو اور جہنم کے شعلوں کی لپیٹ محسوس کر کے تڑپ اٹھا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں آخرت کی دعوت کی کوئی حقیقی تحریک نہ اٹھ سکی۔ البتہ قومی عظمت کو حاصل کرنے کی تحریکیں اتنی زیادہ ابھر آئیں کہ ان کے شور سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں کان بہرے نہ ہو جائیں۔
