چیلنج نہ کہ ظلم

آئرش رائٹر اور سیاست داں ایڈ منڈبرک (Edmund Burke, 1729-1797) کا قول ہے کہ جو شخص ہم سے لڑتا ہے وہ ہمارے اعصاب کو مضبوط کرتا ہے اور ہماری استعداد کو تیز بناتا ہے ۔ ہمارا مخالف ہمارا مددگار ہے :

He that wrestles with us, strengthens our nerves, and shapens our skill. Our antagonist is our helper.

یہ عین وہی بات ہے جو شیخ سعدی نے گلستاں کی ایک کہانی کے تحت تمثیلی طور پر اس طرح کہی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ بلی جب عاجز ہو جاتی ہے تو وہ اپنے چنگل سے شیر کی آنکھ نکال لیتی ہے:

نہ بینی کہ چون گربہ عاجز شود         بر آرد بہ چنگال چشم پلنگ

دوسروں کی طرف سے آپ کے خلاف کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کے ردِّ عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس کو ظلم سمجھیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اس کو چیلنج قرار دیں۔ ظلم سمجھنے کی صورت میں شکایت کا ذہن پیدا ہوتا ہے ، اور چیلنج سمجھنے کی صورت میں مقابلے کا۔

شکایتی ذہن کو اپنے کرنے کا کام صرف یہ نظر آتا ہے کہ وہ فریق ثانی کے خلاف چیخ پکار شروع کر دے۔ وہ اس کے خلاف اپنے تمام احتجاجی الفاظ استعمال کر ڈالے۔ اس کے برعکس، مقابلے کا ذہن عمل کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ حالات کو سمجھ کر جوابی طریقہ تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے تاکہ حکمت اور تدبیر کے ذریعہ فریق ثانی کے مخالفانہ منصوبوں کو ناکام بنا دے ۔

 شکایت اور احتجاج کا ذہن آدمی کو ایسے راستوں کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ اپنی بچی ہوئی قوت بھی بے فائدہ ہنگاموں میں ضائع کر دے۔ جب کہ چیلنج اور مقا بلہ کا ذہن آدمی کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے ، وہ اس کو نیا حوصلہ عطا کرتا ہے ۔ وہ اس کو اتنا عظیم بنادیتا ہے کہ کمزور بھی طاقت ور پر غالب آجائے ، اور بلّی بھی شیر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے۔

موجودہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے۔ یہاں شکایت کا ذہن آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور تدبیر کا ذہن تعمیر و ترقی کی طرف۔

آپ راستہ چل رہے ہیں ۔ درمیان میں ایک جھاڑی کے کانٹے سے آپ کا دامن الجھ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ کیا کرتے ہیں۔ آپ ’’شکایت‘‘ کے بجائے ’’تدبیر‘‘ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ آپ جھاڑی کے خلاف احتجاج نہیں کرتے ، بلکہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کون سی صورت اپنا ئیں جس سے مسئلہ حل ہو جائے ۔

عقل مند آدمی جانتا ہے کہ یہی طریقہ اس کو انسان کے معاملے میں بھی اختیار کرنا ہے ۔ انسانوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ٹکراؤ ہو جاتا ہے۔ کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ کسی شخص کے متعلق ہمارا احساس ہوتا ہے کہ اس نے ہمارا حق ہم کو نہیں دیا۔ ایسے ہر موقع پر دوبارہ ہمیں شکایت کے بجائے تدبیر کا انداز اپنا نا چاہیے ۔

زندگی کا ہر مسئلہ ایک چیلنج ہے، نہ کہ ایک شخص کے اوپر دوسرے شخص کی زیادتی ۔ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آئے، اور آپ اس کو زیادتی سمجھیں تو اس سے شکایت اور احتجاج کا ذہن پیدا ہو گا۔ حتی کہ یہ ذہن آپ کو یہاں تک لے جاسکتا ہے کہ آپ مایوسی کا شکار ہوجائیں۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ موجودہ ماحول میں آپ کے لیے کچھ کرناممکن ہی نہیں۔ شکایت کا ذہن مایوسی تک لے جاتا ہے ، اور مایوسی کا ذہن نفسیاتی خودکشی تک ۔

اس کے برعکس، اگر آپ کا یہ حال ہو کہ جب کوئی مسئلہ پیش آئے تو آپ اس کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں، تو اس سے آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوں گی۔ آپ کے اندر حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہو گا۔ اول الذکر صورت میں آپ کا ذہن اگر منفی رخ پر چل رہا تھا تو اب آپ کا ذہن تمام تر مثبت رخ پر چل پڑے گا — یہی ایک لفظ میں، موجودہ دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا راز ہے۔ اس دنیا میں جو شخص مسائل سے شکایت اور احتجاج کی غذالے، اس کے لیے یہاں بربادی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں ۔ اس کے برعکس جس شخص کا حال یہ ہو کہ مسائل کا سامنا پیش آنے کے بعد اس کا ذہن تدبیر تلاش کرنے میں لگ جائے ، وہ لازماً کامیاب ہو کر رہے گا، کیوں کہ اس دنیا میں ہر مسئلہ کا ایک حل ہے اور ہرمشکل کی ایک تدبیر ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion