استقلال میں کامیابی
’’استقلال میں کامیابی ہے‘‘۔ کسی کا یہ قول نہایت با معنی طور پر کامیابی کی حقیقت کو بتاتا ہے۔ اور پوری تاریخ اس کی تصدیق کر رہی ہے ۔ زندگی ہمیشہ نا ہموار راستوں میں طے ہوتی ہے۔ یہاں ہر آدمی کو طرح طرح کے ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس لیے زندگی میں ہمیشہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نا موافق تجربات کے باوجود آدمی اپنا سفر برابر جاری رکھے۔ اسی کا نام استقلال ہے۔ اور جو آدمی استقلال کا ثبوت دے وہی اس دنیا میں کامیابی کی منزل کو پہنچتا ہے جتنا استقلال اتنی ہی کامیابی۔
یہ فطرت کا قانون ہے اور اگر آدمی آنکھ کھول کر دیکھے تو ہر طرف اس کو ایسے نشانات نظر آئیں گے جو اس کو اس حقیقت کا پتہ دے رہے ہوں ۔ جو اس کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرانےوالے ہوں۔
ایک آدمی دریا کے کنارے ایک چٹان پر کھڑا ہو ا تھا۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو اس کو نظر آیا کہ پانی کی موجوں کے مسلسل ٹکرانے سے چٹان کا پتھر گھس گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دیکھو ، چٹان ایک سخت چیز ہے اور پانی ایک نرم چیز ہے لیکن اگر نرم چیز بھی استقلال کے ساتھ عمل کرے تو وہ چٹان جیسی سخت چیز کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ساری دنیا میں سمندروں کے کنارے بے شمار مقدار میں ریت کے جو ذرے پائے جاتے ہیں وہ ساحلی چٹانوں کے ساتھ پانی کے اسی ٹکراؤ کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں۔
مولانا اسماعیل میرٹھی ایک ادیب اور شاعر تھے ۔ انھوں نے بہت سی اصلاحی نظمیں لکھی ہیں۔ استقلال کی اس اہمیت کو انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:
جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو گھس جائے بے شبہ پتھر کی سل
اس معاملہ کی ایک تازہ مثال ڈاکٹر سبرا منیم چندرشیکھر (1910-1995) کا واقعہ ہے۔ وہ بچپن سے ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر ریسرچ شروع کی کہ ستارے کس طرح وجود میں آتے ہیں۔ اور کس طرح فنا ہوتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنی تحقیقات کےابتدائی نتیجہ کو ایک مقالہ کی صورت میں مرتب کیا اور پہلی بار جنوری 1935 کو لندن میں ہونے والی الیسٹرو فیزیکل سوسائٹی کی ایک میٹنگ میں یہ مقالہ پیش کیا۔ اس میٹنگ میں برطانیہ کے بڑے بڑے سائنس داں موجو دتھے۔ ڈاکٹر سبر منیم چندر شیکھر جب اپنا مقالہ پیش کر چکے تو اس وقت کے ایک ممتاز بر طانی سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن اٹھے ۔ انھوں نے نوجوان چندر شیکھر کا مذاق اڑایا اور ان کا مقالہ سب کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیا۔
اس کے بعد چندرشیکھر نے چاہا کہ اپنا یہ مقالہ لندن کے ایسٹر وفیز یکل جرنل میں چھپوائیں ۔ مگر اس سائنسی جرنل نے بھی ان کا مقالہ چھاپنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر چندرشیکھر برطانیہ میں پیش آنے والے اس حوصلہ شکن تجربہ سے بد دل ہو کر اپنے وطن ہندستان واپس آئے اور یہاں یونیورسٹیوں میں ملازمت کی تلاش کی مگر یہاں اپنے وطن میں بھی انھیں کسی یونیورسٹی میں ملازمت نہ مل سکی۔ وطن کے باہر بھی انھیں ٹھکرا دیا گیا اور وطن کے اندر بھی۔
لیکن چندر شیکھر مایوس نہیں ہوئے ۔ اس کے بعد وہ شکاگو (امریکہ) چلے گئے۔ وہاں انھیں حالات ساز گار ملے۔ مگر وہ اپنی تحقیقات میں از سر نومشغول ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کا نظریہ مقبول ہونے لگا۔ ان کے مقالات بڑے بڑے سائنسی مجلات میں چھپنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کا نظریہ چندر شیکھر لمٹ (Chandra Shekhar Limit) کے نام سے سائنسی دنیا میں تسلیم کر لیا گیا۔ 1983میں جب کہ ڈاکٹر چندر شیکھر کی عمر 73سال ہو چکی تھی ان کو سائنس کا نوبل پرائز دیا گیا۔
اس طرح کے سبق آموز واقعات سے انسانی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی ہے اسی استقلال اور مسلسل عمل کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں۔
کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر انتظار کی طاقت پیدا کر و ۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ کامیابی ہمیشہ لمبے انتظار کے بعد ملتی ہے۔ اور انتظار کی ضرورت اسی لیے ہے کہ کوشش کے دوران ہر بار ایسی رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو بظاہر منزل کو دور کر دیتی ہیں۔ اس لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہمت نہ ہارے۔ وہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہوئے اپنی کوشش میں لگار ہے۔ وہ انتظار کی مدت کو کبھی ختم نہ ہونے دے۔
یہ معاملہ اتنا قطعی ہے کہ اس میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب نہیں ۔ ہم مجبور ہیں کہ فطرت کے اس فیصلہ کو مانیں ۔ ہم فطرت کے نظام سے مطابقت کرتے ہوئے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔فطرت کے مقرر نظام کو بدلنا ہمارے لیے ممکن نہیں ۔
ایسی حالت میں عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی نہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع کرے۔ اور نہ مایوس اور پست ہمت ہو۔ وہ حقیقت پسندی کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنا عمل مسلسل جاری رکھے۔ اس کے بعد کامیابی اس کے لیے اتنی ہی یقینی ہو جائے گی جتنا کہ شام کو سورج ڈوبنے کے بعد اگلی صبح کو دوبارے روشن سورج کا نکلنا۔ مسلسل عمل لازمی طور پر آدمی کو اس کے مطلوب نتیجہ تک پہنچا دیتا ہے۔
قدرت کو لکڑی کا درخت اگانے کے لیے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ مگر جب چنار کا درخت اگانا ہو تو اس میں خود قدرت کو بھی سو سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا معاملہ اس سے مستثنیٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔
اگر آپ لمبی محنت کے اصول کو نہ مانیں تو پھر آپ کو اس پر راضی ہونا پڑے گا کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکیں ۔ کیوں کہ لمبی مدت تک مستقل محنت ہی کسی بڑی کامیابی کی لازمی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت دینے کے لیے تیار نہ ہو اس کو اپنے لیے کسی بڑی کامیابی کی امید بھی نہ کرنا چاہیے ۔
_______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 28 ستمبر 1995 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔
