غصہ نہیں
کسی کا قول ہے کہ — ’’غصہ آدمی کے چہرہ کو بگاڑ دیتا ہے‘‘۔ اس قول کی سچائی دیکھنا ہو تو ایک کتے کو اس وقت دیکھیے جب کہ وہ دوسرے کتے سے بگڑ کر اس پر غرّا رہا ہو۔ اس وقت کتا دنیا کا سب سے زیادہ بد شکل جانور دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس مثال پھول کی ہے۔ پھول کے سامنے کھڑے ہو کر آپ اس کو برا بھلا کہیں ۔ اس کے باوجود اس کے حسن میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھول آپ کے بُراکہنے پر نہیں بگڑا۔ اس نے آپ کی کڑوی باتوں کا کوئی خراب اثر نہیں لیا ۔
اسی بنا پر ایک مفکر نے کہا ہے کہ انسان سب سے زیادہ خوبصورت اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ ایک اشتعال انگیز بات پر غصہ نہ ہو۔ اور انسان سب سے زیادہ بدصورت اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اشتعال انگیز بات سنے اور پھر قابو سے باہر ہو جائے۔
ایک مثل ہے ’’غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے۔ اور ندامت پر ختم ہوتا ہے‘‘۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی تصدیق غصہ کے ہر واقعہ سے کی جا سکتی ہے۔ جب بھی کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہوتی ہے کہ اس کے پاس غصہ کے علاوہ دوسرا جو طریقہ تھا وہ اس کو استعمال نہ کر سکا ۔
ایک بار ایک لڑکے نے اپنے گھر میں کچھ نقصان کر دیا۔ اس کا جاہل باپ اس کو نظر انداز نہ کرسکا۔ وہ سخت غصہ میں آگیا۔ اس نے اپنے لڑکے کو پکڑ کر زور سے دھکیلا تو اس کا سر جا کر دیوار سے ٹکرا گیا۔
اس کے سر کی کوئی رگ شدید طور پر متاثر ہوگئی۔ اس لڑکے نے ہمیشہ کے لیے اپنا حافظہ کھو دیا۔ وہ کسی کام کے قابل نہ رہا۔ بظا ہر وہ دیکھنے میں پہلے کی طرح تھا مگر اب اس کو کوئی چیز یاد نہیں رہتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ بیکار ہو کر رہ گیا۔ باپ نے وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر ایک نادانی کی تھی مگر اپنے اس فعل پر بے پناہ شرمندگی اس کو ہمیشہ باقی رہی۔ اگر اس نے وقتی طور پر بر داشت سے کام لیا ہوتا تو وہ مستقل شرمندگی سےبچ جاتا ۔
داتا گنج بخش کا قول ہے کہ — ’’غصہ عقل کو کھا جاتا ہے‘‘ گوسوامی تلسی داس نے کہا:جہاں غصہ ہے وہاں بربادی ہے۔ ان دونوں اقوال کا مطلب ایک ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کے لیے بھی قاتل ہے اور اس کے جسم کے لیے بھی ۔ وہ اس کی پوری شخصیت کو نگل جاتا ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو غصہ سے بچائے۔
ڈاکٹر آلیورٹ نے بتایا ہے کہ غصہ کرنے سے عضلات (پٹھوں ) کا تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ جسم کی قوت غیر معمولی طور پر استعمال ہو کر تکان کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ نتیجہ کے طور پر آدمی کے اندر عمل کی قوت گھٹ جاتی ہے۔
دوسرے ڈاکٹر جے اے شنڈلر کا کہنا ہے کہ غصہ کی حالت میں آنتوں میں اینٹھن آجاتی ہے ۔ دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے۔ خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر غصہ شدید ہے تو اس کا بھی امکان ہے کہ دماغ کی رگ پھٹ جائے اور آدمی کی اچانک موت واقع ہو جائے ۔
چیسٹر فیلڈ نے نہایت گُر کی بات کہی ہے۔ اس نے کہا کہ کوئی شخص اگر اپنے غصہ پر قابو نہیں پاسکتا تو سمجھ لیجیے کہ وہ دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے دنیا پر قابو پا نا پڑتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے آپ پر قابو نہ پاسکے وہ دنیا پر قابو پانے میں کس طرح کامیاب ہوگا۔
__________________________________________
نوٹ:آل انڈیا ریڈیو، نی دہلی، سے 8-9جولائی1984کونشر کیا گیا۔
