حسن سلوک
مرد کو ہرحال میں اس کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ عورت کے ساتھ حسن سلوک کارویہ اختیار کرے۔ قرآن میں ارشار ہوا ہے:وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا(4:19)۔یعنی، عورتوں کے ساتھ اچھی طر ح گزر کر و۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اﷲ نے اس میں تمہارے لیے بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم صرف پسندیدہ حالات میں نہیں ہے بلکہ اس وقت بھی ہے جب کہ بظاہروہ مرد کے لیے زیادہ پسند یدہ نہ ہوں۔ یہ ایک مطلق حکم ہے۔ اس پر ایک مرد کو اس وقت بھی عمل کرنا ہے جب کہ اس کی بیوی اس کے لیے ایک پسندیدہ عورت ہو، اور اس وقت بھی جب کہ کسی وجہ سے وہ اس کی پسند سے مطابقت نہ کرے۔
عورت کے ساتھ حسن سلوک کا یہ حکم اتنا زیادہ اہم ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کے لیے اس کو شرط لازم قرار دید یا گیا ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے جو ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کرسکے۔ جو ہر ایک کے ساتھ کامل عدل کا رویہ اختیار کرے۔ جوشخص عدل کا رویہ اختیار نہ کرسکے اس کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم کو اندیشہ ہوکہ تم ان کے درمیان انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو:فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (4:3)۔
معاشرت با لمعروف کا لفظ ایک عام لفظ ہے۔ اس میں وہ تمام مطلوب چیزیں شامل ہوجاتی ہیں جن کا انسانی فطرت تقاضا کرتی ہے یا جو خاندانی نظام کی درستگی کے لیے عقلاًیا شرعاً ضروری سمجھی جائیں۔ یہ معاشرت بالمعروف اسلام میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل وعیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں (خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي) سنن ابن ماجه،حديث نمبر1977۔
