دعوت کے بجائے تحفظ

1947 ء سے پہلے ہندستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ وہ ملک کے اکثریتی فرقےکی طرف سے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ آزادی کے بعد مشترک ہندستان میں اردو کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ ’’ہندو حکومت‘‘ اور ’’ہندی پرچارنی سبھا‘‘ اردو کو کھا جائیں گے۔ اس لیے انھوں نے پُرزور مطالبہ کیا کہ ہم کو ایک الگ ہوم لینڈ دیا جائے۔ تاکہ ہم وہاں اردو زبان کی حفاظت کر سکیں۔ اس عنوان پر مسلم عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے دھواں دھار تحریک چلائی گئی۔ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ اردو ہے تو اسلام ہے۔ اردو نہیں تو اسلام بھی نہیں۔

تحریک کامیاب ہوئی۔ اردو قوم کو ایک ہوم لینڈ مل گیا۔ مگر اس کے بعد 1971ء میں بنگلہ دیش میں اور1987ء میں سندھ میں اردو دانوں اور غیر اردو دانوں کے درمیان جو خونریز فسادات ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ سوچ سراسر غلط تھی۔

جو لوگ ’’ہندو ظلم‘‘ کی شکایت کرتے تھے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ خود اپنے بھائیوں کے خلاف شدید تر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا باہمی اختلاف یہاں تک پہنچا ہے کہ پاکستان کے ایک کروڑ اردو بولنے والے ’’مہاجر قومیت‘‘ کے نام سے دوبارہ اپنی علاحدہ   قومیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں نے ان کے ذہن میں یہ بات بھری تھی کہ اردو اور اسلام دونوں ایک ہیں۔ اردو کا تحفظ اسلام کا تحفظ ہے۔ اس ذہن کو لے کر جب وہ پاکستان گئے تو انھوں نے عین اپنے مزاج کے تحت اردو کے تحفظ کو اپنا اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ غیر منقسم ہندستان میں اردو کا تحفظ ہندوؤ ں کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے ہم معنی تھا۔ مگر پاکستان میں وہ خود مسلمان کے مقابلے میں مسلمان کے تحفظ کے ہم معنی بن گیا۔ کیوں کہ وہاں کے لوگوں کی مادری زبانیں بنگالی اور پنجابی اور سندھی، وغیرہ تھیں، نہ کہ اردو۔ غیر منقسم ہندستان میں جو نعرہ بظاہر تحفظ اسلام نظر آ رہا تھا وہ پاکستان پہنچ کر تخریب اسلام کے ہم معنی بن گیا۔

قدیم غیرمنقسم ہندستان میں مسلمانوں کے لیے جڑ کا کام دعوت دین کا کام تھا۔ اور اردو یا تہذیبی مظاہر کا تحفظ صرف شاخوں کا کام۔ ہندستانی مسلمانوں نے جڑ کے کام کو چھوڑ دیا۔ وہ شاخوں اور پتیوں کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ مسلمان اگر جڑ والا کام کرتے تو تقریباً یقینی ہے کہ آج ہندستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔ اس کے برعکس، جب انھوں نے شاخوں والا کام کیا تو اس کے حصے میں ذلت اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔ وہ ہندستان میں کوئی قابلِ ذکر تاریخ بنا سکے اور نہ پاکستان میں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion