تاریخ پکارتی ہے
مغل بادشاہ اورنگ زیب (1707-1618) کے آخر عمر کا واقعہ ہے۔ ایک بار انہوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھ سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے۔ اس وقت اورنگ زیب کے پاس ان کے وزیر سعد اللہ خاں کھڑے ہوئے تھے۔ اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا۔ عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر دکن تک لہرا رہا ہے۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان آپ کے دل میں باقی ہے جس کے لیے آپ رو رہے ہیں۔ اورنگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے اس کے بعد تاثر کے ساتھ کہا:
سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ میں ایک مرد چاہتا ہوں)
اورنگ زیب کے سامنے وہ کون سا مسئلہ تھا جس نے انہیں گھلا رکھا تھا۔ اور وہ ایک مرد کو حاصل کرنے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ وہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کو نظر آ رہا تھا کہ ان کے بعد جو لوگ عظیم مغل سلطنت کے وارث بننے والے ہیں وہ سب خود غرض لوگ ہیں۔ وہ اونچی سطح سے معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے پاس ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اورنگ زیب کے بعد ذاتی اقتدار کے لیے آپس میں لڑیں گے اور عظیم مغل سلطنت کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔
چنانچہ یہی ہوا۔ نصف صدی تک حکومت کرنے کے بعد20 فروری1707ء کو اورنگ زیب کا انتقال ہوا۔ اس وقت اورنگ زیب کے تین لڑ کے تھے جن کا نام معظم، اعظم اور کام بخش تھا۔ اورنگ زیب کے آخر وقت میں شہزادہ معظم کا بل کا گورنر تھا۔ شہزادہ اعظم گجرات کا گورنر تھا اور شہزادہ کام بخش بیجاپور کا گورنر تھا۔ اورنگ زیب نے مسئلہ کا آخری قابل عمل حل یہ نکالا کہ اس نے ایک وصیت چھوڑی۔ اس وصیت کے مطابق اس نے مغل سلطنت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے تینوں لڑکوں کو دیدیا تاکہ اس کے لڑ کے اپنے اپنے دائرہ میں رہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراؤ نہ کریں۔
مگر عملاً ایسا نہ ہو سکا۔ اورنگ زیب کے مرتے ہی تینوں شہزادے دہلی کے تخت کے دعویدار بن کر کھڑے ہوگئے۔ تقریباً دو سال تک آپس میں لڑائیاں جاری رہیں۔ یہاں تک کہ شہزادہ اعظم اور شہزادہ کام بخش اس میں مارے گئے۔ شہزادہ معظم اپنے دونوں بھائیوں کو قتل کر کے 1708ء میں دہلی کے تخت پر بیٹھا اور اپنے لیے شاہ عالم کا لقب اختیار کیا۔
مگر شاہ عالم کو یہ معلوم نہ تھا کہ موت اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ دہلی کے تخت پر بیٹھے ہوئے ابھی اس کو چار سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ1712ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔ اس نے اپنے پیچھے چار لڑ کے چھوڑے جن کے نام یہ تھے: جہاں دارشاہ، عظیم الشان، جہاں شاہ، رفیع الشان۔ ان لڑکوں کے سامنے اپنے باپ کا اسوہ تھا۔ چنانچہ چاروں لڑکوں میں دوبارہ جانشینی کی جنگ شروع ہوگئی۔ بالآخر ان میں سے تین لڑ کے قتل ہوگئے اور جہاں دارشاہ تخت پر بیٹھا۔ مگر اس کو ایک سال سے زیادہ حکومت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کے مقتول بھائی عظیم الشان کے بیٹے فرخ سیر کے دل میں اپنے باپ کے لیے انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ آخر کار اس نے سازش کر کے جہاں دارشاہ پر قابو پا لیا۔ اس نے جہاں دارشاہ کو تخت سے اتار کر لال قلعہ میں اس کو سولی دے دی۔ یہ 1713ء کا واقعہ ہے۔
فرخ سیر نے اگرچہ اپنے چچا کو مار کر دہلی کا تخت حاصل کر لیا مگر وہ خود بھی صرف چھ سال دہلی کے تخت پر بیٹھ سکا۔ لال قلعہ کے اندر جلد ہی اس کے مخالفین پیدا ہوگئے۔ بالآخر1719ء میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک روز بھرے دربار میں لوگوں نے فرخ سیر کو تخت سے گھسیٹ کر نیچے اتار لیا۔ اس کے بعد اسے مار مار کر جیل کے اندر دھکیل دیا گیا۔ وہ جیل کے اندر ہی رہا یہاں تک کہ گلا گھونٹ کر اسے مار ڈالا گیا۔ اس کے بعد شہزادہ رفیع الدرجات دہلی کے تخت پر بیٹھا مگر اس کی مدت حکومت اور بھی کم ثابت ہوئی۔ وہ28 فروری1719ء کو تخت پر بیٹھا اور 4جون1719ء کو تختسے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے چند ہی روز بعد وہ مر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تپ دق کا مریض تھا۔
مغل شہزادوں کی آپس کی جنگ نے دہلی کی مرکزی حکومت کو بالکل کمزور کر دیا۔ صوبوں پر مرکز کی مضبوط گرفت باقی نہ رہی اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مغل سلطنت کے مختلف حصوں میں آزادی اور خود مختاری کا ذہن پیدا ہوگیا۔ صوبوں کے حاکم دخلی کے برائے نام بادشاہ سے آزاد ہو کر اپنی خود مختاری حکومتیں قائم کرنے لگے:
On the decline of the central authority at Delhi, the inevitable centrifugal tendency was manifest in different parts of the Empire, and the provincial viceroys made themselves independent of the titular Delhi Emperor. (An Advanced History of India, 1978, p. 529)
چنانچہ دکن کا صوبہ1724ء میں میر قمر الدین خاں(نظام الملک) کے تحت آزاد ہوگیا۔ صوبہ اودھ میں سعادت خاں نے 1754ء میں آزاد حکومت قائم کر لی۔ صوبہ بنگال میں سرفراز خاں نے 1739ء میں آزاد ہو کر نواب بنگال کا لقب اختیار کرلیا۔ اسی طرح راجپوت ریاستوں (اودھ پور، جودھ پور، جے پور، وغیرہ) نے دہلی کی سیاسی وفاداری ترک کر کے آزاد حیثیت حاصل کرلی۔ اورنگ زیب عالم گیر نے جو عظیم سلطنت بنائی تھی وہ اس کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی۔
اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت بظاہر ڈیڑھ سو سال تک باقی رہی۔ مگر یہ ڈیڑھ سو سال صرف باہمی قتل و خون کے سال تھے۔ مغل شاہزادے اور امرا اور وزرا ذاتی اقتدار کے لیے مسلسل آپس میں لڑتے رہے۔ اور مغل سلطنت دن بدن کمزور اور منتشر ہوتی چلی گئی۔ انگریز اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملک میں دخیل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انہوں نے پورے ملک پر قبضہ کر لیا۔ لال قلعہ میں بظاہر مغل تاج دار موجود تھا۔ مگر عملاً سارا اقتدار انگریزوں کے قبضہ میں تھا۔ چنانچہ کہا جانے لگا کہ:
حکومت شاہ عالم ازدلی تاپالم۔
اور یہ کہ تخت بہادر شاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا۔
آخر کار1857ء کا انقلاب برپا ہوا اور یہ نام کی مغل سلطنت بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
مغل سلطنت کی یہ کہانی تمام مسلمانوں کی کہانی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے جس کی ایک تصویر اوپر کی مثال میں نظر آتی ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کا حال یہ رہا کہ جس شخص کو بھی کوئی مواقع ملا وہ ذاتی بڑائی قائم کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ وہ ملے ہوئے مواقع کو اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد میں استعمال کرنے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وقتی طور پر چھوٹی چھوٹی بڑائیاں تو قائم ہوئیں۔ مگر ملت کی عظیم تر بڑائی قائم نہ ہو سکی۔
ایک فرد جب اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوتا ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ پورے مجموعہ کی بڑائی قائم ہو۔ فرد کی قربانی ہی مجموعہ کی بڑائی کی اصل قیمت ہے۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو بڑا بنانے کے لیے دوڑے، ایسی قوم کبھی عظمت کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ آج ایسا ہو سکتا ہے۔
