جاپان کی مثال

جاپان کا موجودہ شاہی خاندان پچھلے 15 سو سال سے جاپان پر حکومت کرتا رہا ہے۔ جاپانی لوگ اپنے بادشاہ کو خدا (Kami) کہتے تھے۔ وہ اس کو خدائی اوصاف کا مالک سمجھتے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ اپنے بادشاہ کو صرف ایک انسان (Hito) سمجھنے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی جاپانیوں کے لیے ایک زبردست فکری بھونچال کے ہم معنی ہے۔

پچھلے ڈیڑھ ہزار برس سے جاپانی اپنے بادشاہ کو خدا سمجھتے آ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے بادشاہ کے اندر خدائی صفات ہیں۔ اور وہ ہر طاقت کے مقابلے میں ان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تو اچانک جاپان کی فوجی طاقت ختم ہو گئی۔ 15 سو سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کسی خارجی طاقت کے مقابلےمیں مکمل شکست کھا گیا۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے 15اگست 1945 کو ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں اور ہم امریکہ کے مقابلے میں ہتھیارڈال رہے ہیں۔ جاپانیوں کے لیے اپنے خدائی بادشاہ کا یہ کلام انتہائی غیر متوقع تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا بادشاہ خدا ہے ، اس لیے کوئی قوم اس کو شکست نہیں دے سکتی۔ مگر جب بادشاہ نے خود اپنی شکست کا اقرار کر لیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا بادشاہ صرف ایک انسان ہے ، وہ کوئی برتر خدا نہیں۔

یہ واقعہ جاپانیوں کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ ایٹم بم نے وقتی طور پر ان کے دو شہروں کو تباہ کیا تھا۔ مگر عقیدے کی اس محرومی نے جاپانیوں کی اندرونی شخصیت کو مستقل طور پر برباد کر دیا ہے۔ جاپان کی نئی نسل سخت مایوسی (frustration) کا شکار ہے۔ انہوں نے روحانی اعتبار سے اپنا سرچشمۂ اعتماد (source of confidence) کھو دیا ہے۔ جاپانی قوم آج ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے۔ اور یہی اس وقت جاپان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

یہ صورتِ حال جو جاپان کے ساتھ پیش آئی ، یہی ایک یا دوسری صورت میں ، موجودہ زمانے کی تمام قوموں کا حال ہے۔ ہر ایک نے اس ’’خدا‘‘ کو کھو دیا ہے جس پر وہ روایتی طور پر قائم تھا۔ اسی کے ساتھ ہر ایک ، شعوری یا غیر شعوری طور پر ، ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے جس کو وہ اپنے کھوئے ہوئے خدا کا بدل بنا سکے۔

یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور مذہب کوئی اوپری یا خارجی معاملہ نہیں ، یہ انسان کی سب سے بڑی اندرونی طلب ہے۔ یہ اس کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ اس کو کسی طرح انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ نفسیات اور اینتھراپالوجی کی ریسرچ نے اس کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ انسان خدا اور مذہب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ (Encyclopedia Britannica, 15/628)

اس بات کو ایڈمنڈبرک (Edmund Burke, 1729-1797) نے مختصر طور پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ انسان اپنی تشکیل کے اعتبار سے ایک مذہبی حیوان ہے:

‘‘Man is by his constitution a religious animal.’’

(Reflections on the Revolution in France, London, p.135)

یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان خود اپنی اندرونی فطرت کے زور پر ایک سچے اور حقیقی خدا کی تلاش میں ہے جو اس کی ہستی کے پورے تقاضے کا جواب بن سکے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion