تعمیر کی طرف

امریکہ کے سابق صدر رچرڈنکسن (1913) نے اپنی کتاب’’ فتح بغیر جنگ ‘‘ میں دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندستان کا بھی ذکر کیا ہے ۔ وہ ہندستان کے سیاسی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

Those who believe India is not governed well should remember how miraculous it is that it is governed at all. (Richard Nixon, 1999 - Victory Without War, 1988)

جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہندستان میں اچھی حکومت قائم نہیں ، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خود کیسا عجیب معجزہ ہے کہ وہاں حکومت قائم ہے (انڈین اکسپریس، 21 اپریل 1988)۔

ہندستان کے اجتماعی نظام کے بارے میں مسٹر نکسن کا یہ تبصرہ یقیناً بہت سخت ہے۔ مگر دانش مندی یہ ہے کہ اس پر شکایت کرنے کے بجائے اس کو ہم اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں ۔ کہنے والے کے خلاف غصہ اتار نے کے بجائے ہم اپنی ساری توجہ ملک کی داخلی تعمیر میں لگا دیں ، ہم ملک کو اتنا اونچا اٹھائیں کہ کسی ’’نکسن ‘‘ کو ہمارے خلاف اس قسم کا ریمارک دینے کی ہمت نہ رہے ۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر جاپان دنیا کی نظر میں ایک حقیر ملک بن گیا تھا۔ مگر اس کے بعد 40سالہ محنت کے ذریعہ جاپان نے اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا لیا کہ اب کسی کو اس کے خلاف بولنے کی جرات نہیں ہوتی ۔

ضرورت ہے کہ ہم ازسرِ نو اپنے معاملہ پر غور کریں ۔ اور کسی تاخیر کے بغیر صحیح رخ پر اپنا سفر شروع کر دیں تاکہ ہمارا مستقبل ہمارے حال کے مقابلہ میں بہتر اور شاندار ہو سکے ۔

نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین اکسپریس (7 فروری ،14 فروری1987) میں ہندستان کے سینیر جرنلسٹ ایس ملگاوکر (S.Mulgaokar) کا ایک آرٹیکل دو قسطوں میں چھپا تھا جس کا عنوان یہ تھا  :

Can systemic changes provide the entire answer

(کیا ڈھانچہ میں تبدیلی مکمل جواب ہے ) مضمون نگا ر نے اس میں کہا تھا کہ ہماری آزادی پر چالیس سال بیت چکے ہیں ۔ ہم نے کئی اعتبار سے ترقی بھی کی ہے ۔ مگر ہمارے مسائل ابھی زیادہ ہیں ۔ اور مجموعی طور پر ہمارے مسائل ہماری ترقی سے بڑھے ہوے ہیں  :

Our problems are many and serious, and on balance, appear to outweigh the progress.

مسٹر ملگاو کر نے ان لوگوں کی بات کو نہیں مانا تھا جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے ڈھانچہ میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ڈھانچہ کو آخر کار آدمی ہی تو چلاتے ہیں۔ جب آدمی اچھے نہ ہوں تو ڈھانچہ کیسے اچھا کام کرے گا  :

In the final analysis, a system is only as good as those who operate it.

مسٹر ملگاو کر کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے ۔ اس کو بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کو سیاسی بنیاد (Political base) دی ۔ اس کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور انہوں نے اس ملک کو صنعتی بنیاد  (Industrial base) دی ۔ اب ضرورت ہے کہ تیسرا ضروری کام کیا جائے ۔ اور وہ ہے اس ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) دینا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری چیز (اخلاقیات ) قومی زندگی میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تقریباً سبھی لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔

ملک کو اخلاقی بنیاد دینے کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ بلاشبہ یہ مشکل ترین کام ہے اور اس کے لیے نہایت صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ لمبی خاموش جدوجہد کے ذریعہ ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی بیداری (moral awareness) پیدا کریں ۔ قومی تعمیر کے سلسلہ میں یہ بہت بنیادی بات ہے ۔ اس اصلاحی کام میں ہمارا سفر ذہنی تعمیر (mind building) سے شروع ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی ڈھانچہ کے خلاف مظاہرہ اور ایجی ٹیشن سے ، اس مہم میں ہمارا نشانہ انسان کو بدلنا ہے نہ کہ حکمرانوں کو بدلنا۔

اخلاقی بیداری کا لفظ یہاں میں کسی محدود معنی میں نہیں بول رہا ہوں ، بلکہ وسیع معنی میں بول رہا ہوں۔ اس سے میری مراد خاص طور پر وہ چیز پیدا کرنے سے ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعمیری سوچ (constructive thinking) کہا جا سکتا ہے ۔ یعنی رد عمل کا طریقہ چھوڑ کر مثبت طریقہ کا پابند ہونا۔ مسائل کو لڑے بغیر حل کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسروں سے ٹکراؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرنا ۔ ممکن چیز (possible) سے اپنا عمل شروع کرنا نہ کہ اس چیز سے جو ناممکن (impossible) ہے۔ یہی اصلاح کا حقیقی طریقہ ہے ۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں ، وہ سب کھونے کے طریقے ہیں ، وہ پانے کے طریقے نہیں ۔

جاگ یا اویرنس پیدا کرنے کا کام اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب کہ وہ تعمیری انداز میں ہو۔ یعنی اس کا رخ اپنی طرف ہو نہ کہ دوسروں کی طرف۔ دوسروں سے مانگ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا جائے ۔ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ابھارا جائے ۔ لوگوں کے اندر جذباتی انداز فکر (emotional approach) ختم کیا جائے اور ان کے اندر عقلی اندازِ فکر (rational appraoch) پید اکرنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ ذہن بنایا جائے کہ لوگ معاملہ کو دوسرے کے اوپر نہ ڈالیں بلکہ اس کی ذمہ داری خود قبول کریں ۔ جہاں معاملہ ایک سے زیادہ آدمیوں کا ہو وہاں ذمہ داری خود قبول کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے ، دوسروں کے اوپر ڈالنے سے کبھی مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔

اویرنس پیدا کرنے کا یہ کام مجاریٹی اور مائنا ریٹی کمیونٹی دونوں کے درمیان کرنا ہے ۔ دونوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ چھوڑیں اور اپنے آپ میں جھانک کر دیکھنے کا مزاج پیدا کریں ۔ وہ ماضی کی باتوں کو بھلائیں اور مستقبل کے لحاظ سے اپنی منصوبہ بندی کریں ۔

اسی کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو لیڈر شپ کی سطح پر مطلوب ہے ۔ 1947سے پہلے ہمارے لیڈروں نے ’’انگریز ہٹاؤ ‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔ اس کے بعد مسز اندرا گاندھی نے ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ دیا ۔ مسٹر راجیو گاندھی نے آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے 79ویں اجلاس (اپریل  1988) میں ’’بیکاری ہٹاؤ ‘‘ کا نعرہ دیا ہے ۔ مگر محض اس قسم کے نعروں سے ملک کا مسئلہ نہ اب تک حل ہوا ہے اور نہ آئندہ حل ہونے والا ہے۔ اصلی نعرہ جس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ وہ ہے:اپنے آپ کو ہٹاؤ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو سیاسی اعتبار سے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیڈر اگر ڈیگال بننے کا حوصلہ کریں تو سارے مسائل چند برسوں میں حل ہو سکتے ہیں ۔ موجودہ نعروں کی صورت میں وہ سو برس میں بھی حل ہونے والے نہیں ۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال (1890-1970) نے اس کی ایک مثال پیش کی ہے ۔ اور ہندستان کو آج اپنے حالات کے اعتبار سے اسی قسم کے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے ۔

ڈیگال 1958میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے ۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی ۔ خاص طور پر الجیریا میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی ۔ فرانس نے اسکو کچلنے کے لیے تقریباً 25 لاکھ لوگوں کو سزائیں دیں یا قتل کر دیا ۔ اس کے باوجود الجیریا میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ صورت حال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویش ناک بن گئی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے الفاظ میں ، الجیریا کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس میں روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں (positive policies) کے بارے میں خاکہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں (جلد 7، صفحہ 964)۔

فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ (province) کہتا تھا۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی کہنے اور سمجھنے لگیں، مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا ۔ عملاً یہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا ۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت (great power) ہونے کی حیثیت کھو دی۔

سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں مانع ہو گئی ہے کہ وہ بڑے پیمانی پر ایٹمی تحقیق کرے۔ چنانچہ ڈیگال سے الجیریا کو آزاد کر دیا اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کر دی جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے ۔ (جلد4، صفحہ 905)

ڈیگال نے معاملہ کو قومی ساکھ یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس رائے پر پہنچے کہ اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ حل صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے ۔ تاہم فرانس کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہ تھی ۔ یہ فرانس کے قومی عزت ووقار (national prestige) کا مسئلہ تھا اور قومی وقار ایسی چیز ہے کہ قومیں لڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں مگر وہ اپنے وقار کو کھونا برداشت نہیں کرتیں ۔ یہ یقینی تھا کہ جو شخص اس معاملہ میں قومی وقار کے خلاف فیصلہ کرے گا وہ فرانس میں اپنی مقبولیت کو یکسر ختم کر دے گا۔ تاہم ڈیگال نے یہ خطرہ مول لیا ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں ڈیگال نے الجیریا کے مسئلہ کو اس وقت حل کر دیا جب کہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کو حل نہیں کر سکتا تھا۔ (جلد 7، صفحہ 965)

جنرل ڈیگال نے اس کے بعد الجیریا کے لیڈروں کو گفت وشنید کی دعوت دی ۔ اس گفت وشنید کا فیصلہ عین منصوبہ کے تحت الجیریا کے حق میں ہوا۔ یعنی حکومت فرانس اس پر راضی ہو گئی کہ الجیریا میں ریفرنڈم کرایا جائے اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ فرانس کی ماتحتی پسند کرتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا۔ پیشگی اندازے کے مطابق الجیریا کے باشندوں نے آزاد الجیریا کے حق میں اپنی رائیں دیں اور اس کا احترام کرتے ہوئے حکومت فرانس نے جولائی 1962 میں الجیریا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔

اس کے نتیجہ میں چارلس ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں ۔ ان کے اوپر قاتلانہ حملے کیے گئے۔اس کے بعد عوام کے دباؤ کے تحت ڈیگال نے فرانس میں ایک ریفرنڈم کرایا جس میں ڈیگال کو شکست ہوئی۔ بالآخر انھوں نے 28 اپریل 1969 کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ 9نومبر 1970 کو ان پر قلب کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈیگال ایک معمولی قبرستان میں اس طرح دفن کر دئیے گئے کہ ان کے جنازے میں ان کے رشتہ داروں اور چند دوستوں کے سوا کوئی اور شریک نہ تھا ۔ ڈیگال خود مر گئے ۔ مگر انھوں نے مر کر اپنی قوم کو دوبارہ زندگی دے دی۔

ڈیگال کے اس واقعہ سے یورپ میں ایک اصطلاح بنائی گئی ہے جس کو گالزم (Gaulism) کہا جاتا ہے ۔ گالزم دراصل اپنی قیادت کی قیمت پر قوم کو بچانا ہے ۔ برٹانیکا (1984) کے الفاظ میں ڈیگال تنہا شخص تھے جس میں یہ حوصلہ تھا کہ وہ ایسے نازک فیصلے لے سکیں جن سے سخت قسم کے سیاسی اور شخصی خطرات (political and personal risks) وابستہ ہوتے ہیں (7/965)۔

یہی گالزم قومی زندگی کا راز ہے۔ ہندستان کو آج ایسے با حوصلہ سیاست داں کی ضرورت ہے جو ملکی حالات کے اعتبار سے ’’گالزم ‘‘ کے اصول پر عمل کر سکے۔ جو اپنے ذاتی فائدہ پر قوم کے فائدہ کو مقدم کرے۔ جو اپنے مستقبل کو ہلا ک کرکے قوم کے مستقبل کی تعمیر کر سکے ، ہماری دعا ہے کہ ہندستان کو اسی قسم کا ایک ڈیگال مل جائے ۔ موجودہ بھنور سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔

ہمارے موجودہ لیڈروں کی اصل خرابی یہ ہے کہ وہ ہر معاملہ کو ’’ووٹ‘‘ کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں نہ کہ ملکی مفا د کے نقطہ نظر سے۔ حکمرانوں کی ایک نسل میں اگر یہ مزاج آجائے کہ وہ ذات کے بجائے ملک کو مقدم کر سکیں تو اس کے بعد فوراً ملکی تعمیر کا سفر شروع ہو جائے گا۔ اور جو سفر ایک بار شروع ہو جائے وہ بہر حال اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion